سرینگر//نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے یہ واضح کیا کہ پی اے جی ڈی اپنے ایجنڈے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیںاور کشمیر میں خاموشی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے یہاں سب کچھ قبول کیا ہے۔کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ پی اے جی ڈی کے ممبران ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی صحت کے مسائل کی وجہ سے نہیں مل پائے تاہم انہوں نے کہا کہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ یعنی پی اے جی ڈی 5 اگست 2019 کے فیصلے کی منسوخی کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سڑکوں پر نہیں آتے اس کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور یہاں امن ہے اور لوگوں نے ہر ایک چیز کو قبول کرلیا ہے۔جسٹس مسعودی نے کہا کہ ’ہر روز یہاں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بارے میں سنتے ہیں تو وہ کیا ہے اور میںیہ کہتا ہوں کہ ہمیں یقین ہے کہ امن اس خطے میں اس وقت تک قائم نہیں ہوگا جب تک نہ 5 اگست 2019 کے فیصلے کو منسوخ کیا جائے گا‘۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مرکزی سرکار نے کیا حاصل کیا ؟ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں 1953 سے پہلے کی پوزیشن کو بحال کرنے کے لئے نیشنل کانفرنس کی واضح پوزیشن ہے اور ہم اسکے حق میں ہیں۔