’ قلم کار کیسے بنیں (How To Be A Writer)‘
تبصرۂ کتاب
نامِ کتاب:How To Be A Writer
مصنف: رسکن بانڈ
سنِ اشاعت: ۲۰۲۰
قیمت:299روپے
صفحات:126
کچھ مصنف کے بارے میں: کتاب پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی زندگی پر مختصر روشنی ڈالی جائے۔رسکن بانڈ کسولی ،پنجاب میں 1934ء میں پیدا ہوئے۔آٹھ سال کی عمر میں ہی اُن کے( انگریز) والدین میں طلاق ہوئی۔اس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ دلی میں رہنے لگے مگر بدقسمتی سے ابھی وہ دس سال کے ہی تھے کہ اُن کے والد اللہ کو پیارے ہوگئے۔بعد میں اُن کی پرورش اُن کی ماں اور سوتیلے باپ نے کی ۔سولہ سال کی عمر میں اُنہوں نے اپنی پہلی کہانی لکھی اور اسی کے ساتھ اُن کا ادبی سفر شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔
ابتدائے آفرینش سے ہی انسان کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ اپنے خیالات ،افکار اور نظریات دوسرے لوگوں تک پہنچائے۔خالقِ کائنات نے ایک انسان کو اپنی بات دوسروں تک منتقل کرنے کے لیے کئی وسیلے عطا کیے ہیں۔کوئی اپنی جادوئی تقریر سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتا ہے تو کسی کے قلم میں اللہ رب العزت نے وہ سحر انگریزی رکھ دی ہے کہ اُس کی تحریریں صدیوں تک زندہ و جاوید رہتی ہے۔وسئلہ ٔ اظہار اگرچہ کئی ہیں لیکن اپنی بات کو سپردِ قلم کرکے لوگوں تک پہنچانے کا اپنا ایک الگ ہی مقام ہے۔ہزاروں لوگ دل میں یہ خواہش پالتے ہیں کہ وہ بھی لکھیں اور اُن کے افکار و نظریات کو لوگ پڑھیں لیکن قلم کار بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔جن لوگوں کے پاس کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اپنے خیالات کو لفظوں کاجامہ پہنانے سے قاصر ہیں،اُن کے لیے چند ہی ماہ قبل شائع ہونے والی کتاب’’ قلم کار کیسے بنیں‘‘ ایک گراں قدر سرمایہ ثابت ہوسکتی ہے۔
کئی احباب کے اذہان میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ انٹرنیٹ کی دُنیا میں جہاں انگلیوں کے چند اشاروں پر ایسے سینکڑوں نسخے اور ترکیبیں مل سکتی ہیں جو لکھنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہیں تو ایسے میں رسکن بانڈ کی مذکورہ کتاب پڑھنے کی کیا تُک بنتی ہے؟اس حوالے سے راقم الحروف کا موقف یہ ہے کہ بے شک یہ بات مبنی بر صداقت ہے کہ انٹرنیٹ کی دُنیا ایسے سینکڑوں نسخوں اور ترکیبوں سے بھری پڑی ہے لیکن تصور کریں ایک ایسا شخص جس کا ادبی سفر 70 سالوں پر محیط ہو،جس کا قلم ۷۰ سال سے اُس کے لیے ذریعۂ معاش ثابت ہوا ہو،جس کو اپنی ادبی خدمات کے عوض پدم شری اور پدم بھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاچکا ہو،وہی شخص اگر اپنے تجربے اور اپنی علمی استعداد کے مطابق نئے لکھنے والوں کے لیے کچھ نسخے فراہم کریں تو ظاہر سے بات ہے کہ اُن میں ضرور کچھ ایسی بصیرت آموز باتیں ہوگی جو شائد آپ کو کہیں اور نا ملیں۔
یہ کتاب 7 ابواب پر مشتمل ہے جن کا مختصر تعارف یہاں پیش کیا جارہا ہے،مگر اس سے قبل کتاب کے ابتدائیہ پر چند الفاظ رقم کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔کتاب کے ابتدائیہ میں مصنف رسکن بانڈ نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے چند باتیں لکھی ہیں۔وہ رقم طراز ہیں:’’Life would be intolerable if I don't have this freedom to write every day‘‘(زندگی ناقابل برداشت بن جائے گی اگر مجھے روزانہ لکھنے کی یہ آزادی نہ ملے)۔ذاتی زندگی کی باتوں کے علاوہ اُنہوں نے ابتدائیہ میں ہی چند ایسے نسخے بھی دئے ہیں جو لکھنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتے ہیں ۔
پہلا باب:شروعات (Getting Started): اس باب کی ابتدائی سطور میں ہی رسکن باند نے ایک اہم بات ضبط تحریر میں لائی ہے:’’ کوئی بھی شخص قلمکار تو بن سکتا ہے،مگر ہر کوئی اچھا قلمکار نہیں بن سکتا‘‘۔مزید لکھتے ہیں قلمکار بننے کے لیے ایک شخص کے اندر یہ صلاحتیں موجود ہونی چاہیے:کتابوں کی محبت،زبان کی محبت،زندگی کی محبت،مشاہد آنکھ،اچھی یاداشت،جوش،اُمیدپروری،استقامت۔
دوسرا باب: تیاری(Prepration): اس باب کے ابتدا میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لکھنے سے پہلے ایک انسان کو مطالعہ کرنا چاہیے۔لکھتے ہیں کہ کتابیں ایک تخلیقی ذہن کے لیے ضروری ہیں،اچھے قارئین اچھے مصنف بنتے ہیں۔اس باب میںہمیں اس بات کا علم بھی ہوجاتا ہے کہ مصنف جب چھوٹے تھے تو جس کتاب نے اُن کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ چارلز ڈکنز کی (David Cooperfield) تھی۔اس کتاب کا مطالعہ مصنف نے بارہ(۱۲) سال کی عمر میں کیا ہے۔اسی باب میں مصنف ایک اہم نسخہ فراہم کرتے ہیں کہ ایک قلم کار کو اُنہی جگہوں کے متعلق لکھنا چاہیے جن سے وہ واقف ہو،ساتھ ہی ساتھ روزانہ کچھ نا کچھ لکھتے رہنا چاہیے ،ہاں اگر طبیعت ٹھیک نا ہو تو آرام کرنا ہی بہتر ہے لیکن ایک لمبے عرصے تک لکھنا ترک نہیں کرنا چاہیے اور نوٹ بنانے کی عادت بھی ڈال لینی چاہیے۔
تیسرا باب: لکھنا(writing): تیسرے باب میں رسکن بانڈ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک قلمکار کو سادہ الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے نہ کہ دقیق جس سے ایک قاری مخمصے میں مبتلا ہو۔اسی باب میں اُنہوں نے ایک اہم سوال کا جواب بھی دیا ہے کہ کیا ایک انسان قدرتی طور پرقلمکارہوتا ہے یا قلمکار بنا بھی جاسکتا ہے؟وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک انسان کو دوسرے مصنفین کی نقل کرنے کے بجائے اپنے کردار اور اپنا اسلوب بنانا چاہیے۔چوٹی کے مصنفین کا یہ خاصہ تھا کہ وہ اوروں سے مختلف تھے(یعنی اُن کے کردار مختلف تھے اور اُن کا اندازِ بیاں و اسلوب مختلف تھا)۔باب کے آخری حصے میں رقم طراز ہیں:’’Don't Just be a writer,Be a good writer‘‘۔
چوتھا باب:کردار وں کی تخلیق(Creating Characters)ـ:کرداروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ایک قلمکار کو ایسے کردار تخلیق کرنے چاہیے جو لافانی ہو اور ساتھ ہی ساتھ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ نہ ہو۔
پانچواں باب: لکھیں کس پر (What to write about): اس باب میں اُنہوں نے کئی اصناف کا ذکر کیا ہے جن پر لکھا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی رقم کیا ہے کہ کس صنف کی طبع آزمائی میں کون سی صلاحتیں درکار ہیں۔ہر صنف کے تذکرے پر اُنہوں نے اُس صنف کی مشہور کتابوں اور اُن کے مصنفین کا تذکرہ بھی کیا ہے۔آخر میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک کتاب کا عنوان نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے لہٰذا اپنے عنوان کا نتخاب احتیاط سے کریں۔
چھٹا باب:رکاوٹیں (Stumbling Blocks): اس باب میں اُن مشکلات کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ایک مصنف کو درپیش ہوتی ہیں ۔مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں ایک قلمکار کو تنقید کے لیے تیار رہنا چاہیے۔اگر تنقید برائے تعمیر ہو تو اُس پر غور کرنا چاہیے اور اگر تنقید برائے تنقیص ہو تو (اُسے نظر انداز کرکے) آگے بڑھنا چاہیے۔اسی طرح ایک قلمکار (خواہ وہ کسی بھی موضوع یا صنف پر لکھ رہا ہو) کبھی کبھار بیچ میں اٹک جاتا ہے ایسے میں ایک مصنف کو اپنا مسودہ یک طرف چھوڑ کر کچھ وقت کے لیے کسی اور صنف پر طبع آزمائی کرنی چاہیے اور اس کے بعد واپس اپنے مسودے پر آنا چاہیے ۔اسی طرح ایک کہانی لکھنے سے پہلے اُسے اپنے ذہن میں لکھیں (یعنی تصور کریں)،اگر آپ ناول لکھ رہے ہیں اور آپ اٹک جاتے ہیں تو بلند پایہ ناول نگاروں کی شاہکاروں کا مطالعہ شروع کریں اور اُس کے بعد اپنے مسودے پر پھر سے کام شروع کریں۔
ساتواں باب:اشاعت(Getting Published): اس باب میں مصنف اشاعت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شائع ہونا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس اپنی کتاب کے لیے ایک ناشر ڈھونڈنے میں آپ کو کئی ہفتے،کئی ماہ اور کبھی کبھار ایک سال سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔اس حوالے سے ایک قلمکار کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
کتاب کے آخر میں رسکن بانڈ نے (Book Recommendations) بھی دی ہے یعنی کتابوں کی ایک فہرست جو ایک قاری کو پڑھنی چاہیے۔یہ اس کتاب کو چار چاند لگاتا ہے اور اسے اہمیت کا حامل بناتا ہے۔اس کے علاوہ کتاب کے اخر میں ایک Post Card بھی فراہم کیا گیا ہے جس پر آپ اپنے تاثرات تحریر کرسکتے ہیں۔کتاب کے مشمولات اورضخامت کو مدنظر رکھتے ہوئے 299روپے قیمت کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے ۔بہرحال نئے قلمکار یا ایسے اشخاص جو لکھنے کی خواہش رکھتے ہو،اُن کے لیے اس کتاب کے سودمند ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔
رابطہ۔برپورہ پلوامہ کشمیر
ای میل ۔[email protected]