یواین آئی
دوحہ/قطر فٹبال ایسوسی ایشن نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں ہونے والے تمام فٹبال ٹورنامنٹس اور میچز کو اگلے حکم تک معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ جس کے باعث ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی کی قطر واپسی بھی ممکن نہ رہی جہاں انہوں نے 2022 میں ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھائی تھی۔لیونل میسی کو رواں ماہ قطر فٹبال فیسٹیول کے دوران ’’فائنل یسیما‘‘ کے بڑے معرکے کے لیے دوحہ پہنچنا تھا۔ یہ میچ جنوبی امریکہ کے چیمپئن (ارجنٹائن) اور یورپ کے چیمپئن (اسپین) کے درمیان کھیلا جانا تھا، جسے دنیا بھر کے شائقین “مشعل کی منتقلی”کے طور پر دیکھ رہے تھے کیونکہ اس میں میسی کا مقابلہ اسپین کے ابھرتے ہوئے نوجوان اسٹار لامین یامال سے ہونا تھا۔
ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا”قطر فٹبال ایسوسی ایشن آج سے تمام ٹورنامنٹس اور مقابلوں کو ملتوی کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ مقابلوں کی بحالی کی نئی تاریخوں کا اعلان مناسب وقت پر سرکاری ذرائع سے کیا جائے گا۔ اس فیسٹیول میں میسی کے علاوہ مصر کے محمد صلاح، سربیا کے الیگزینڈر میٹرووچ اور سعودی عرب کی ٹیم نے بھی شرکت کرنی تھی۔ اس کے علاوہ ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے بھی خطے میں کشیدگی کے باعث کلب چیمپئن شپ کے پلے آف میچز ملتوی کر دیے ہیں۔ کرسٹیانو رونالڈو کا سعودی کلب النصر بھی ان مقابلوں کا حصہ تھا، جسے دبئی میں الوصل کے خلاف میدان میں اترنا تھا، تاہم اب تمام ایشیائی مقابلوں کا شیڈول بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ اب یہ یوئیفا اور کونمیبول پر منحصر ہوگا کہ وہ قطری حکام کے ساتھ مل کر اس ہائی پروفائل میچ کے لیے نئی تاریخوں کا تعین کب کرتے ہیں۔