بلال فرقانی
سرینگر//عیدالاضحی ٰ کی آمد سے قبل وادی میں قربانی کے جانور عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ حکومت کی جانب سے مٹن کو ڈی کنٹرول کرنے کے بعد جانوروں کی قیمتوں میں100فیصد اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ عید الفطر کے موقعہ پر کوٹھداروں و قصابوں نے گوشت کی قیمتوں میں از خود 50روپے کا اضافہ کردیا تھا۔قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کے باعث عوامی سطح پر شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔پچھلے کچھ مہینوں سے مٹن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس وقت قربانی کے جانور 380سے 420 روپے فی کلو زندہ وزن کے حساب سے فروخت کئے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گوشت کی قیمت تقریباً 900 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔
جموں و کشمیر میں 2023 میں مٹن کنٹرول ایکٹ کے خاتمے اور ڈی کنٹرول کے بعد قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ خوراک و شہری رسدات نے بتایا کہ 2022میں حکومتی نرخ 210 سے 230 روپے فی کلو (زندہ وزن) مقرر تھا، تاہم اب مکمل طور پر آزاد مارکیٹ نظام نافذ ہونے کے بعد قیمتیں طلب اور رسد کے مطابق طے ہو رہی ہیں۔ ڈی کنٹرول کے بعد قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں تقریباً 100 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام اور متوسط طبقے کیلئے قربانی کا فریضہ ادا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ لوگوں کے مطابق جو خاندان سال بھر بچت کر کے عید کیلئے تیاری کرتے ہیں وہ بھی اب منڈیوں میں پہنچ کر قیمتیں دیکھ کر مایوس ہو رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عیدالاضحی جو ایثار، قربانی اور خوشی کا تہوار ہے، اس بار مہنگائی کے باعث مالی دباؤ میں تبدیل ہو رہا ہے۔
کئی خاندان اپنے دیگر ضروری اخراجات میں کمی کر کے قربانی کے جانور خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ افراد کم وزن جانور لینے یا قربانی کے فریضے سے محروم رہنے کی شکایت بھی کر رہے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ منڈیوں میں نہ تو کوئی واضح ریگولیشن موجود ہے اور نہ ہی قیمتوں پر مؤثر نگرانی، جس کے باعث ہر سال عید کے موقع پر قیمتیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔ادھر مٹن کی قیمتوں میں بھی واضح اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔مٹن ڈی کنٹرول سے قبل 2023 میں گوشت کی قیمت تقریباً 535 روپے فی کلو تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 740 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح صرف تین برسوں میں مٹن کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز یونین کے جنرل سیکرٹری معراج الدین گنائی نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بیرونی ریاستوں کی منڈیوں میں بھی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر دیگر ریاستوں میں بھی قربانی کے جانوروں کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث مجموعی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ منڈیوں میں بنیادی طور پر گوشت کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے جبکہ زندہ جانوروں کی قیمتیں براہ راست مقرر نہیں ہوتیں ۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منڈیوں میں قیمتوں کی نگرانی اور مؤثر ریگولیشن کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ عام صارفین کو راحت مل سکے۔