جو قلم اللہ تعالی کے محبوب پیغمبر و رحمتہ للعالمین و ختم المرسلین حضور اقدسﷺ کی شانِ اقدس میں اُٹھنا چاہیے تھا وہ قلم اب حضور ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخیوں کا تذکرہ کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ حالاں کہ اس بات کا تذکرہ کرنا بھی بہت حد تک ناقابل برداشت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شدید احساس بھی دلاتا ہے کہ ہم میں اس قدر اخلاقی بگاڑ پیدا ہو چکا ہے کہ ہمیں اُ س پیغمبر کی شان کے خلاف سننا پڑتا ہے جن کے لب مبارک پر ہر وقت یا رب اُمتی یا رب اُمتی ہوتا تھا۔سب سے پہلے ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ حضور ﷺ کی شان مبارک میں اگر گستاخی ہورہی ہے تو کہیں نہ کہیں اُس میں ہم بھی شامل ہیں۔ ہم یہ کہتے تھکتے نہیں ہیں کہ ہماری آن، بان اور شان ہمارا بنیﷺ ہے ۔حالاں یہ کہنا اور اس بات کو دل سے تسلیم کرنا کہ ہمارا نبی ﷺ ہماری شان ہے، میں واقعی فخر محسوس ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا اور سمجھنا ہے کہ اگر ہمارے نبی ﷺ کے خلاف کچھ بولا جا رہا ہے تو کہیں اُس میں ہمارا بھی تو ہاتھ نہیں ہے؟ بظاہر ہم غلامانِ مصطفی ؐکے بلند بانگ نعرے تو لگا لیتے ہیں، جذبات میں بہہ کر عید میلاد کے موقعے پر گلا تو پھاڑ لیں گے لیکن کبھی اس بات کی طرف ہمارا دھیان نہیں جائے گا اور اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھیں گے کہ جو عزت و احترام اور عقیدت ہماری زبانوں پرکسی خاص موقعے پر سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہے،کیا ہمارے دلوں میں بھی وہی عزت، وقار اور محبت ہے؟ ہمارے قول اور فعل میں اس قدر لاتعلقی پیدا ہوچکی ہے کہ ہمارا طور طریقہ، رنگ ڈھنگ،طرز تکلم اور معاملات پر بعض اوقات ہمیں خود شرم آنے لگتی ہے۔ ہم اپنے گریبانوں میں کم اور دوسروں کے گریبانوں میں زیادہ جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضور ﷺ کی شان میں جو گستاخی کے واقعات جموں و کشمیر میں پیش آئے ہیں،ہماری غیرت و حمیت ضرور جاگ جانی چاہیے، ہمیں اس گستاخی کی سخت مزحمت کرنی چاہیے،ہمیں اپنے نبی ﷺ کی شان اقدس میں اس طرح کی گستاخی قطعی برداشت نہیں ہونی چاہیے،ہمیں اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے لیکن یہ سب یک طرف چھوڑ کر ہمیں نبی ﷺ کے حق میں بولنے سے قبل اپنے وجود پر ایک نظر دوڑا دینی چاہیے ،اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہیے ، اپنے اندر کے اُس اُمتی کو جگانا چاہیے جو ہر وقت نبی کریم ﷺ کے دہن مبارک پر ہوتا تھا۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہمارا معاملہ ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ اچھا ہے؟ ۔مجھے یقین ہے کہ جب ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں گے تو ا ند ر سے ایسا جواب آئے گا جو ہمیں شرمسار کرے گا۔ کیا ہمارے دنیوی معاملات ویسے ہی ہیں جیسے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا ہے؟ کیا میں اپنے ہمسایوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک روا رکھتا ہوں جیسا مجھے کہا گیا ہے؟ کیا رشتہ داروں کے ساتھ میرا معاملہ حضور ﷺ کے کہے ہوئے کے مطابق ہے؟ کیا میں حق کے ساتھ کھڑا ہوکر باطل کی مخالفت کرنے کی ہمت رکھتا ہوں یا اپنی جان کے ڈر کی وجہ سے باطل کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوں؟کیا میرا لین دین کا معاملہ حضور ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے؟ کیا میں خرید و فروخت میں حضور ﷺ کو یاد رکھتا ہوں؟ کیا میں انصاف کے لیے لڑتا ہوں یا پھر ناانصافی کو ہی اپنا مقدر سمجھ کر خاموش ہو جاتا ہوں؟اگر ان سوالات کے جوابات مثبت میں ملیں گے تو مجھے اور آپ کو مبارک اور اگر نفی میں جواب آئے گا تو کیا وہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی نہیں ہے؟ کیا حضورﷺ کی تعلیمات کو بھلا دینا اُن کی شان میں گستاخی نہیںہے؟
بہر کیف یہ بات بھی اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہے کہ ہمیں حضور ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخی کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ضرور ہونا چاہیے کہ نبی ﷺ کے نام مبارک کے ساتھ کی گئی گستاخی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ۔گزشتہ ہفتے میں کشمیر کے کھنہ بل سے ایک ایسا ویڈیو سامنے آتا ہے جس میں ایک شخص قرآن کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کررہاتھا۔یہاں پر کچھ باتوں کو سمجھنا ضروری ہے کیوں کہ اُن باتوں کو سمجھے بغیر ہم محض جذباتی ہوکر فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ایک باشعور انسان جسے اس بات کا علم ہے کہ سامنے والاشخص دماغی طور ٹھیک نہیں ہے تو اُس سے آپ قرآن کے بارے میں پوچھنے پر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ جو شخص منشیات کا عادی ہے اور جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیںہے تو قرآ ن تو کیا وہ نعوذ باللہ اللہ تعالی کے لیے بھی نازیبا کلمات استعمال کر سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اب اگر اُس پاگل شخص نے قرآن کے ساتھ گستاخی کی ہے تو اُس ویڈیو کو یوٹیوب پر ڈال دینے کی کیا ضرورت تھی؟اُس ویڈیو کو مزید پھیلا دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیوں کہ وہ نازیبا الفاظ ایک ایسے شخص نے استعمال کیے تھے جسے قرآن کی عظمت تو کیا نام سے بھی شناسائی نہیں ہے لیکن ویڈیو وائرل کر دینے والا صاحب یہ نہیں جانتا ہے کہ اُس پاگل شخص نے اگر ایک مرتبہ نازیبا الفاظ کہے تھے لیکن اُس کے شیئر کرنے کی وجہ سے لاکھ مرتبہ وہ نازیبا الفاظ سننے کو ملے ہیں۔تیسری بات جو سب سے اہم ہے۔اگر ویڈیو پر آپ نے غور کیا ہوگا کہ اُس پاگل شخص سے ویڈیو بنانے والا قرآن کے بارے میں کیا پوچھتا ہے تو سارا معاملہ سمجھ میں آجائے گا۔ ویڈیو بنانے والا اُسے پوچھتا ہے’’تم قرآن کو کیا کرتے ہو۔‘‘کیا اس سوال میں ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ سوال ہی اس مناسبت سے کیا گیا ہے جس کا جواب ویڈیو بنانے والا جانتا تھا۔ ورنہ اُس نے ایسا سوال ہی کیوں پوچھا؟ اُس نے ایسا کیوں نہیں پوچھا کہ قرآن کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟اُس کے سوال سے ایک بات تو طے ہے خواہ کسی کو اس بات پر اعتراض ہی کیوں نہ ہو لیکن اس بات کو جھٹلانے میں شاید کسی میں اتنی ہمت ہو کہ اس ویڈیو سے پہلے بھی اُس پاگل شخص نے قرآن کے بارے میں ایسی ہی باتیں کی ہوں گی۔ اُس نے اس سے پہلے بھی کہا ہوگا کہ وہ قرآن کے ساتھ کیا کرتا ہے جس کی ویڈیو موجود نہیں ہے۔ اس پاگل شخص کو تھوڑی دیر اپنے ذہن سے نکال لیں اور ایک ایسے شخص پر غور کریں جو باشعور ہے اور جس کا دماغی تواز ن بھی ٹھیک ہے اور جو قرآن کی عظمت سے بھی واقف ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ایک پاگل شخص سے قرآن کے بارے میں پوچھتا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کیا ویڈیو بنانے والا ( جس نے سوال بھی پوچھا تھا)قرآن کی اس گستاخی میں شامل نہیں ہے؟
دوسرا واقعہ جموں میں پیش آیا جہاں ایک غیر مسلم شہری نے حضور ﷺ کے نام مبارک کے ساتھ ایسا لفظ استعمال کیا جسے سنتے ہی جسم پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔مذکورہ شخص بھارت رکشا منچ (Bharat Raksha Manch) جموں کے سربراہ ہیں۔اُس ویڈیو میں اُنکے ساتھ دو لوگ اور تھے جن کا نام دیپک اور روہت ہے۔ اس بات سے ہر کوئی بہ خوبی واقف ہے کہ ہندوستان میں ہر یک کو اظہاررائے کی آزادی حاصل ہے جو کہ فی الوقت بھاجپا سرکار تک ہی محدود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس آزادی کا فائدہ اتنا اٹھایا جائے کہ اس میں ہمارے نبی ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخی بھی شامل ہو۔بھاجپا کے سیاسی منظر نامے میں مسلم دُشمنی کے خوب نظارے دیکھنے کو ملے ہیں۔جو چیزیں مسلمانوں کے لیے حلال ہیں وہ سرکار حرام قرار دیتی ہے اور جو چیزیں حرام ہیں اُنھیں سرکار حلال قرار دیتی ہیں۔ مسلمانوں سے جڑی ہر چیز کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ آزادیٔ اظہار رائے نہیں بلکہ ہٹ دھرمی ہے جو ایک خاص جماعت کا وطیرہ ہے۔ آزادی کے نام پر کسی دوسرے مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا آزادیٔ اظہار رائے نہیں بلکہ اُ س مذہب کے تئیں کھلی دُشمنی ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہمارے نبی کریم ﷺ جو پورے عالم انسانیت کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں، اُن کی شان میں اس طرح کے نازیبا الفاظ کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا اس گستاخانہ رویے کے خلاف کیا ردعمل ہوگا۔ خیر سیاسی لیڈروں کا اس واقعہ کے خلاف کیا رد عمل ہوگا وہ سب جانتے ہیںلیکن مسلمانوں کو اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہیے۔اس واقعے کی مزاحمت کرنا تو خیر ٹھیک ہے لیکن ساتھ ہی ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا تاکہ آنے والے وقت میں ہمارے نبی ﷺ کی شان میں اس طرح کی گستاخی نہ ہو۔مسلم رہنماؤں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے اس کا ایسا تدارک کریں تاکہ مستقبل میں کوئی دوسرا شخص ایسی حرکت نہ کر سکے۔فرقہ واریت ، مذہبی منافرت اور طبقاتی تعصب کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے والوں کواس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا اُن کی نظر میں مذکورہ شخص کی گستاخانہ حرکت قابل قبول ہے؟ ۔
(مضمون نگار کا تعلق ترال، کشمیرسے ہے اور فی الوقت حیدر آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہیں۔آپ سے فون نمبر 9149958892پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)