عذراچودھری کا وطنی تعلق جموں وکشمیرسے ہے ۔عذراچودھری کی والدہ کا نام رضیہ بیگم ہے اور ان کی داستان ِحیات نہایت الم ناک ہے ۔ جب1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو اسی دوران جموں میں مسلمانوں کے ساتھ کافی زیادتیاں ہوئیں اور ان کاقافیہ حیات تنگ کیا گیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ بھی زبردستی کی گئیں ۔ان ہی میں سے ایک عذراچودھری صاحبہ کی والدہ رضیہ بیگم بھی تھیں ،جن کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا ۔ جموں فسادات میں رضیہ بیگم کے خاندان کا لوٹ کھسوٹ کیا گیا اور ان کے خاندان سے صرف رضیہ بیگم ہی بچنے میں کامیاب ہوئیںلیکن ان کی شادی زبردستی بلوان سنگھ کے ساتھ کی گئی اور انہیں مجبور اََ ان کے ساتھ رہنا پڑا ۔انھوں نے تین بچوں کوجنم دیا جن میں سے بیٹے کا نام کرن سنگھ ، دوسری بیٹی کا نام انجو او اور تیسری بیٹی کانام دیورانی رکھا گیا ۔ اس کے بعد حالات نے پھر سے کروٹ لی اور بلوان سنگھ لاپتہ ہوگئے، بلوان کے خاندان والوں نے رضیہ بیگم کو گھر سے نکال دیا ۔اس کے بعد رضیہ نے عرق ریزی سے اپنے بچوں کو پالا اور اسلام کو پھر سے گلے لگایا ۔ان کی دونوں بیٹیوں نے بھی اسلام قبول کرلیا ۔انجو کا نام زرینہ اور دیورانی کا نام عذراقرار پایا ۔عذرا17 /اکتوبر1957ء کو بلوان سنگھ کے گھرمیںپیدا ہوئیں ۔رضیہ بیگم نے نہایت مشکل حالات میں عذراچودھری کو پڑھایا۔عذرانے 1967ء میں گریجویشن کی سند حاصل کی اور اس کے بعد1978ء میں ہندی زبان و ادب میں ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی ۔پھر مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1987ء میں انھوں نے ڈوگری زبان میں بھی ایم ۔اے کرلیااور اس کے بعد بی۔ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔تکمیل تعلیم کے بعد انھوں نے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور جموں کے ایک سرکاری اسکول میں استانی کی حیثیت سے ان کا انتخاب ہوا۔درس و تدریس کے دوران ہی یعنی1992ء میں عذرا صاحبہ کاکلچر ل اکادمی میںڈوگری ڈکشنری سکشن میں ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے تقرر ہوا اور اس شعبہ میں انھوں نے پچیس سال تک خدمات انجام دیں ۔ڈوگری زبان و ادب پر اچھی دسترس رکھتی ہیں اور اسی زبان میں تصنیفی کام کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو زبان پر بھی عبور حاصل کیا ہے ۔وہ دو ماہی ـ’’شیرازہ ‘‘(یہ آٹھ زبانوں میں شائع ہوتا ہے)کے ہندی ایڈیشن کی ایڈیٹر بھی رہ چکی ہیں ۔انھوں نے ترجمہ نگاری کا بھی کام کیا ہے اور بہت سی کہانیوں کو ہندی زبان کا عملی جامہ پہنایا ۔تین سال قبل ڈوگری ڈکشنری سکشن کی ایڈیٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہوچکی ہیں اورآ ج کل سیرت کی ایک کتاب کا ترجمہ کر رہی ہیں ۔اس کے علاوہ فلاحی کاموں میں بھی مصروف رہتی ہیں ۔آج کل میرے وطن ضلع بڈگام (کشمیر ) میں قیام پذیر ہیں ۔
ترجمہ کی خدمات
ڈوگری زبان کو پانچ ملین سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ یہ جموں ،ہماچل پردیش اور پنجاب کے کچھ حصوں کی علاقائی زبان بھی ہے ۔ قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر کا سلسلہ عہد نبوی ﷺ ہی سے شروع ہوا تھا اور اس کا ترجمہ دنیا کی ہر زبان میں موجود ہے ۔اب الحمد اللہ ڈوگری زبان میں بھی اس کے ترجمے کا کام مکمل ہوچکا ہے اور یہ ترجمہ شائع بھی ہوچکا ہے ۔اس ترجمہ کو ایک خاتون نے انجام دیا ہے جن کا نام عذراچودھری صاحبہ ہے ۔انھوں نے یہ کام 63سال کی عمر میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔عذراصاحبہ کا کہنا ہے کہ ڈوگری زبان کو جب حکومت کی طرف سے آٹھویں شڈول (8th Schedule) میں لایا گیا ،تب اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ڈوگری زبان بولنے والوں کے لئے بھی ایک صحیح اور عام فہم زبان میں ترجمہ قرآن ہونا چائیے ۔ اس ترجمہ کا محرک بتاتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کا ڈوگری زبان میں ترجمہ کرنے کا پروجیکٹ پہلے ہی سے تھا اور جب میں اکیڈیمی میں ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے کا م کر رہی تھی تو وہاں مرزائی لوگ بھی آیا کرتے تھے تو ان لوگوں نے ہمارے شعبہ میں ایک بندے کوقرآن مجید کا ڈوگری زبان میں ترجمہ کر نے کے لئے تیار کیا تھالیکن وہ بندہ کوئی عملی مسلمان نہیں تھا ۔انھوں نے یہ ترجمہ پیسوں کی خاطر کیا تھا ۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر مرزائیوں نے اس ترجمہ کو ابھی تک شائع نہیں کیا ۔غالباََ وہ ترجمہ اس معیار کا نہیں تھا کہ اس کو شائع کیا جاسکے ۔اس کے بعدمیں نے ا ردو زبان سیکھ لی اور اس میں مہارت حاصل کر لی۔ہمارے شعبہ میں ایک ایڈیشنل سکریٹری بھی ہوا کرتی تھی۔ ان کا نام شمیمہ چودھری ہے اوران کے شوہر کانام عبد القیوم ندوی ہے۔
انہوں نے مجھے قرآن مجید کا ڈوگری زبان میں ترجمہ کرنے کے لئے ذہنی طور سے تیار کیا اور کہا کہ عذراصاحبہ سے بہتر ترجمہ کون کرسکتا ہے ۔ پھر میں نے استخارہ کیا اور ترجمہ کا کام شروع کیا ۔سب سے پہلے میں نے پارہ عم کا ترجمہ کیا اور یہ2013ء میں شائع ہوا ۔اس کے بعد انھوںنے قرآن مجید کاڈوگری زبان میں مکمل ترجمہ کیا ۔یہ مکمل ترجمہ سی۔پی۔ایس کے تعاون سے شاہ ہمدان سوسائٹی بھٹنڈی جموں و کشمیر سے2019ء میں شائع ہوا۔اس ترجمہ کے دوران وہ کئی اردو اور انگریزی تراجم قرآن اور ڈوگری لغات سامنے رکھتی تھیں تاکہ ترجمہ میں کوئی غلطی یاشبہ نہ رہے ۔ اس ترجمہ کانئی دہلی میں دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس منعقدہ ( اپریل27-28،2019 ( میں اجرا بھی کیا گیا ۔عذراصاحبہ کا کہنا ہے کہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے ورنہ میری کوئی حیثیت نہیں ہے کہ میں اس جیسا عظیم کام انجام دوں۔
یہ دراصل مولانا وحید الدین خان(پیدائش:۱۹۲۵ء) کا ترجمہ قرآن ہے جس کو انھوں نے ڈوگری زبان میں منتقل کیا ہے ۔ اس عظیم کار خیر کو پانچ سال کا عرصہ لگ گیا ۔مولانا وحید الدین خا ں بیسویں صدی کے ایک عظیم اسکالر اور مصنف ہیں ،جنھوں نے تذکیر القرآن کے نام سے آسان زبان میںقرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر لکھا۔مولانا نے بہت ہی سہل اور آسان زبان میں قرآن کا ترجمہ بھی کیا ہے۔وہ اس ترجمہ کی منہج پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’تذکیرالقرآن میں میں ترجمہ کا جو انداز اختیار کیاگیا ہے وہ نہ پوری طرح لفظی ہے اور اور نہ پوری طرح بامحاورہ ۔بلکہ درمیان کی ایک راہ اختیار کی گئی ہے ۔دونوں ہی انداز کے اپنے اپنے فائدے ہیں اور درمیانی انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے ‘‘۔(مولانا وحید الدین خان ، تذکیر القرآن،مکتبہ الرسالہ ،نئی دہلی ،۲۰۱۶ء ،ص:۱۳)اس اصول کا لحاظ عذراچودہری نے اپنے ڈوگری ترجمہ میں ملحوظ نظر رکھا ہے بلکہ اسی اصول کا تتبع اختیار کیا ہے ۔خان صاحن کا ترجمہ قرآن نہایت آسان زبان میں ہے ۔
اس ترجمہ کو ڈوگری زبان میں محترمہ عزراء صاحبہ نے بھی بہت ہی شستہ اور اور آسان اسلوب میںمنتقل کیا ہے۔اور نہایت مؤثر زبان میں اس کا ترجمہ کیا ہے ۔یہ بات واضح رہے کہ محترمہ نے صرف مولانا خان صاحب کے ترجمہ قرآن کاہی ڈوگری زبان میں ترجمہ کا کام انجام دیا ہے ۔ عذراصاحبہ نے بہت ہی سلیس،رواں اور آسان زبان میں اس کا ترجمہ کیا۔ چونکہ وہ ترجمہ نگاری میں مہارت بھی رکھتی ہیں اور انھوں نے ترجمہ کی روح کو سمجھا بھی ہے ،اسی لئے انھوں نے خان صاحب کے ترجمہ کو ڈوگری زبان میں آسانی سے منتقل کیا ہے ۔ ترجمہ کے دوران اپنی طرف سے بات کو مزیدواضح کرنے کے لئے بریکٹ میں مترادف الفاظ بھی لکھ دئیے ہیں تاکہ ترجمہ میں یا بات کو سمجھنے میں کوئی شبہ نہ رہے اور یہ بہت ہی مفید اضافہ ہے ۔مثلاََ صراط المستقیم کو بریکٹ میں سنیمارگ کا ترجمہ بھی دیاہے۔ اسی طرح سے جہاں کسی پیغمبر کا نام وارد ہے وہاں بریکٹ میںلکھا ہے ،ایک پیغمبر کا نام ۔وحی کا ایک ترجمہ بریکٹ میں آسمانی حکم دیا ہے ۔ اسی طرح سے مؤمن کا ترجمہ بریکٹ میں خداپرست لکھا ہے ۔ اس کام نے ترجمہ کو مزید معنی خیز اور خوبصورت بنا دیا ہے۔
عزراصاحبہ کا کہنا ہے کہ قرآن مجید ہی ایسی کتاب ہے جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے ۔ قرآن مجید کے ترجمہ کی ضرورت پر بات کرتے ہوئی کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے ؟وہ تو ہمیں تراجم سے ہی پتہ چلتا ہے ۔اور میں یہی کہنا چاہوں گی کہ تھوڑا ہی قرآن پڑھو،لیکن ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ وہ کہتی ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے مسئلے سے لے کر بڑے سے بڑے مسئلے تک کاقرآن مجید حل پیش کرتا ہے اور اسی کتاب سے تعلق بنانے کی ضرورت ہے۔
رابطہ۔کانہامہ ماگام ،بڈگام کشمیر
فون نمبر۔6006475945