قرآن مجید کی آیات میں غور و فکر کرنا، کلام الٰہی کو دِل سے سمجھنے کی کوشش کرنا،ارشادات، ہدایات اور احکامات کی خلوص نیت کے ساتھ پیروی کرنا، تلاوت کے وسیع مفہوم میں شامل ہے۔ گویا اپنے آپ کو آغوشِ قرآن میں ڈال کر قرآنی ہدایات کے سپرد کردینے سے مسلمان کو کوئی طاقت دنیا و آخرت میں اعلیٰ و ارفع مقامات پر فائز ہونے سے نہیں روک سکتی۔ جب مسلمان قرآن مجید سے اپنے قلبی ربط و تعلق پیدا کرکے قرآن اور صاحب قرآنؐ کے ارشادات و فرامین کی اطاعت و پیروی کرنے کوشش کرتا ہے تو انسان کا خبیث ترین ، خطرناک اور سب سے بڑا دشمن یعنی شیطان ماہرانہ و عیارانہ انداز سے قاری ٔقرآن کے سینے میں وسوسے ڈالتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کے دل و دماغ میں نا معلوم،غیر مطلوب مطلوب اوربُرے افکار و خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں ،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تلا وت قرآن کا باضابطہ طریقہ بتاتے ہوئے حکم فرمایا کہ تلاوتِ قرآن مجید کے وقت تعوذ پڑھیں تاکہ انسان کا دل و دماغ شیطانی اثرات سے پاک ہوجائے۔
اکثر اوقات انسان جذبات سے مغلوب ہوکر نفس غدار کے شرور اور فتن کا شکار ہوجاتا ہے اور اس سے معصیت اوربُرائیوں کا صدور ہونے لگتا ہے۔ نفسانی خواہشات کا اسیر انسان جب خواب غفلت سے بیدار ہوتا ہے تو اس میں احساسِ گناہ اور ندامت و شرمندگی کا احساس پیدا ہوجاتا ہے اور وہ نفس کے جبلی و ذاتی شر سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ربّ کریم کی رحمت کس قدر وسیع ہے اس بات کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا کہ جسارت و غرور سے کام لیکر حیوان سے بدتربن جانے والے ،گناہ و معصیت میں غوطہ زن ہوکر خدا کوبُھلادینے والے اور سزا سے بے پرواہ ہوکر شتر مرغ بے مہار بنے رہنے والا نافرمان بندہ جب اس کی رحمت کو ندا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں اور خطائوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے محض اپنی بے پایاں کرم و نوازش اور غفران و بخشش سے اسے ڈھانک لیتا ہے اور کرم بالائے کرم یہ کہ ہر متنفس کو اپنی بے پایاں رحمت کی امید دلاتا ہے، شہنشاہ حقیقی بندہ کے گناہوں کو نہ صرف معاف کرنے کا اعلان فرماتا ہے بلکہ جب بندہ اپنی خطائوں اور لغزشوں کو ندامت و شرمساری سے بدل دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بُرائیوں کو نیکیوں اور عذاب کو ثواب سے بدل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے مزاج کو اس قدر تبدیل فرماددیتا ہے کہ اب وہ گناہوں کی طرف میلان رکھنے کے بجائے نیکیوں کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔
جب انسان خلوص نیت اور صدق دل سے تائب ہوکر رب کائنات سے طالب مغفرت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندہ کو سایہ عاطفت میں لیکر اس کے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے گا اور معاف فرمادے گا تاکہ بندہ کو نہ دنیا میں کوئی فضیحت ہو اور نہ ہی آخرت میں ذلت و رسوائی کا اسے سامنا کرنا پڑے۔ ا نعام الٰہیہ کا حق دار بننے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کرے۔ یعنی کثرت سے توبہ و استغفار کرےلیکن آج مسلم معاشرے کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ کوئی اپنی خطا کا اعتراف کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے بلکہ ہر کوئی خود اپنی تعریف و پاکیزگی بیان کرنے میں مگن و مصروف ہے جو قرآنی ارشاد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دنیا و آخرت کو سنوارنے اور اپنی دینی و دنیاوی کوششوں اور محنتوں کا بہتر صلہ پانے کے لیے ہمیں یہ روش تر ک کرنی پڑے گی اور اپنی ظاہری و باطنی تقصیرات کا بصداحترام بارگاہ الٰہی میں اعتراف کرتے ہوئے ندامت کے آنسوبہاکر گناہوں کا دوبارہ ارتکاب نہ کرنے کا عزم مصمم کرنا پڑے گا۔ حسن نیت اور صدق دل سے توبہ و استغفار کرنے میں دنیاو آخرت میں اتنے فوائد حاصل ہورہے ہیں تو ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کے بعد، گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے فوری بعد ، بیت الخلاء سے نکلتے وقت، آخری تشہد کے بعد، بوقت سحر بلکہ ہر شب و روز کثرت سے توبہ و استغفار کرے جیسا کہ رحمت عالم ؐ نے ہمیں تلقین و تاکید فرمائی ہے ۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روح کو سمجھنے اور اس پر صدق دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔