کپوارہ//کپوارہ ضلع کے متعدد علاقوں میں مختلف وجوہات کی بناپر بجلی کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔صورتحال کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قاضی آباد سے لیکر کرناہ تک لوگ محکمہ بجلی سے خفا ہیںکیوں کہ پورے ضلع میں کہیں کی آنکھ مچولی اورکہیں بجلی کے گھنٹوں غائب رہنے سے لوگ پریشان ہیں۔ضلع کے لولاب،قاضی آباد، ہندوارہ، ماور، راجواڑ، ہائیامہ، ترہگام، رامحال،کرالہ پورہ،کرناہ،کیرن،مژھل اوردیگرعلاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سخت سردی کے دوران جب بجلی کی لوگوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے،تویہاں بجلی کا بحران پیداہوتا ہے۔ ۔عوام بجلی کی آنکھ مچولی اور بار بار کٹوتی سے تنگ آچکے ہیں ۔ان علاقوں کے لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی سپلائی بار بار متا ثر ہونے کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور محکمہ کی عدم توجہی صارفین کے لئے درد سر بن گئی ہے ۔ضلع کے بیشتر علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں محکمہ بجلی کسی طے شدہ شیڈول کے تحت بجلی فراہم نہیں کررہا ہے جس کے باعث لوگو ں میں محکمہ بجلی کے خلاف سخت ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ضلع کے لوگو ں کا کہنا ہے بجلی کی کٹوتی کا سامنا جہا ں غیر میٹر والے علاقوں کے لوگو ں کرنا پڑتا ہے ،وہیں جدید تکنیکی میٹر نصب کئے والے علاقوں میں بھی بجلی کی بے تحاشا کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگو ں کے ساتھ ساتھ کارو بار سے جڑے لوگو ں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ضلع میں پہلے آرم پورہ گرڈ اسٹیشن قائم تھا لیکن وہ کم صلاحیت والا تھا جس کی وجہ سے کپوارہ ضلع میں بجلی کا بحران تھا لیکن بعد میں اس گرڈ اسٹیشن کی صلاحیت بڑھا دی گئی تاکہ ضلع میں بجلی بحران پر قابو پایا جائے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ کچھ سال تک بجلی سپلائی میں بہتری آئی لیکن بعد میں دوبارہ بجلی بحران پیدا ہوا ،جس کے بعد سرکار نے ویلگام میں ایک اضافی گرڈ اسٹیشن بنایا تاکہ لوگو ں کو بلا خلل بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی ۔ضلع کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ویلگام میں اضافی گرڈ اسٹیشن قائم ہونے کے باجود بھی لوگو ں کو بہتر بجلی سپلائی فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔اس دوران ہندوارہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ چھوٹی پورہ میں قائم ریسونگ اسٹیشن اوور لو ڈ ہونے کی وجہ سے پورے سب ضلع میں لوگو ں کو بجلی کٹوتی کا سامناکرناپڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں نے اس بات پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کا کہ انتظامیہ ابھی تک چھوٹی پورہ میں قائم ریسونگ اسٹیشن کا درجہ بڑھانے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے لوگو ں کا بجلی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہندوارہ کے لوگو ں کا کہنا ہے گزشتہ سال ’میرا قصبہ، میری شان‘ کے حوالہ سے ٹاون ہال ہندوارہ میں ایک تقریب منعقد کی گئی جسمیں لیفٹنٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان موجود تھے اور عوامی مسائل سننے کے بعد انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔انہو ں نے لوگو ں کا یقین دلایا کہ سرکار چھوٹی پورہ میں قائم ریسونگ اسٹیشن کی صلاحیت بڑھا دے گی تاکہ لوگو ں کو بلاخلل بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی لیکن ایک سال گزر جانے کے با وجود بھی اس رسیو نگ اسٹیشن کا درجہ نہیں بڑھا دیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ چھو ٹی پورہ میں قائم رسیونگ اسٹیشن کی صلاحیت پندرہ میگا واٹ ہے ، جس سے ہندوارہ میں بجلی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق چھو ٹی پورہ رسیونگ اسٹیشن علاقہ کے ایک بڑے حصہ کو بجلی فراہم کرتا ہے جسمیں ضلع اسپتال ہندوارہ کے ساتھ ساتھ ہزارو ں نفوس پر مشتمل ہندوارہ اے، بی، ودھ پور شامل ہیں۔مرٹ گام کے لوگو ں کا کہنا ہے انہیں ضرورت کے مطابق بجلی سپلائی فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔محکمہ بجلی کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چھو ٹی پورہ ریسونگ اسٹیشن میں 10میگا واٹ ایک اضافی بجلی ٹرانسفارمر نصب کرنے کے بعد صارفین کو معقول بجلی سپلائی فراہم کی جاسکتی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چھو ٹی پورہ ریسونگ اسٹیشن کے لئے 10میگاوا ٹ کا بجلی ٹرانسفارمر منظور تو ہوا ہے لیکن ابھی تک نصب نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہندوارہ قصبہ کے ساتھ ساتھ دیگر ملحقہ علاقوں کے لوگو ں کو بجلی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس دوران ترہگام کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ہری میں قائم رسیونگ اسٹیشن کا درجہ بڑھا دیا جائے کیونکہ مذکورہ رسیونگ اسٹیشن سے صارفین کو معقول بجلی سپلائی فراہم نہیں کی جاتی ہے اور نتیجے کے طور ترہگام اور اس کے مضافات کے لوگو ں کو بجلی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ادھر کرالہ پورہ میں قائم رسیونگ اسٹیشن میں کئی سال قبل ایک بڑے صلاحیت والے بجلی ٹرانسفارمر کو نصب کیا گیا تاکہ لوگو ں کو بغیر پریشانی بجلی سپلائی فراہم کی جائے ، لیکن اس کے باوجود بھی گوگلوسہ گزریال فیڈر گزشتہ تین سال کے دوران اوور لوڈ ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگو ں کو ماہ اکتوبر سے ہی بے تحاشہ بجلی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔گزریال ،شمناگ ،درد سن ،وارسن ،ریشی گنڈ ،شولورہ اور دیگر علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ 7مہینو ں تک انہیں بہتر بجلی سپلائی فراہم نہیں کی جاتی کیونکہ گوگلوسہ گزریال فیڈر اوور لو ڈ ہونے کی وجہ سے محکمہ نے ایک الگ اور انوکھا بجلی شیڈول بنایا ہے جس کے تحت گوگلوسہ گزریال فیڈر کو دو حصوں میں تقسیم کیا تاکہ ایک رات شمناگ اور اس کے دیگر علاقوں اور ایک رات گزریال اور اس کے دیگر علاقوں کو بجلی سپلائی فراہم کی جاتی ہے اور دن میں باری باری شمناگ اور گزریال علاقوں کو بجلی سپلائی فراہم کی جاتی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ محکمہ کے ملازمین کو دوران رات بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر ایک رات گزریال اور ایک رات شمناگ کو بجلی سپلائی بحال کرنی ہوتی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے ۔محکمہ کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ سخت سردی کے باوجود محکمہ کے ملازمین کو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رات کے دوران بجلی کھمبے پر چڑھ کر صارفین کو بجلی سپلائی فراہم کرنی پڑتی ہے اور یہ روایت کبھی بھی ملازمین کے لئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی نے گوگلوسہ اور گزریال فیڈر کو الگ کرنے کو منظوری بھی دی ہے اور اس کے لئے کھمبے اور ترسیلی لائن بھی لائی گئی لیکن تا حال اس پر کام شروع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آئے رو ز بجلی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ضلع کے لوگو ں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پسماندہ ضلع کے لوگو ں کو معقول بجلی سپلائی فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں ۔