مینڈھر//ہرنی منجاڑی میں علماء و مقامی لوگوں کا ایک اجلاس زیر صدارت مفتی حق نواز قادری منعقد ہوا۔اس موقعہ پر کٹھوعہ کی 8سالہ آصفہ کی عصمت دری اور قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ قاتل کے حق میں ریلی نکالا جانا شرمناک فعل ہے اور حکومت انسانیت دشمنوں کے خلاف فتنہ فساد برپاکرنے سے قبل ہی کارروائی کرے ۔اجلاس میںسید کرامت حسین امام و خطیب منجاڑی، سابق سرپنچ اقبال خان، سردار نواز خان، سابق ڈائریکٹر آلات خان، گل محمد خان، محمد یونس خان ،حاجی نذیر خان وغیرہ بھی موجو دتھے ۔مقررین کاکہناتھاکہ آصفہ کا قتل دل دہلادینے والا واقعہ ہے اور یہ انسانیت کا قتل ہے جس پر ملوث شخص کے خلاف سبق آموز کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس قتل کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے کچھ عناصر کی طرف سے قاتل کے حق میں ریلی نکالی گئی جس کی وہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس سے یہ ثابت ہوجاتاہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی کا قتل یوں ہی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہواہے اوردرندہ صفت انسان کے حق میں احتجاج کرنے والے ماحول کو مزید خراب کرنے کے درپہ ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ انسانیت کے دشمنوں کو جموں و کشمیر میں فتنہ و فساد کی بنیاد ڈالنے سے روکے اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائے نہیں تو وہ دن دور نہیںہوگاجب یہ لوگ بھید بھاؤ کی آگ جموں و کشمیر کے کونے کونے میں پھیلا دیں گے۔مفتی حق نواز نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ امن و بھائی چارہ قائم رکھنے کیلئے سرکار آصفہ کے گھر والوں کو انصاف دلائے اور انسانیت دشمن عناصر پر لگام کسی جائے ۔