بانہال // کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم دائیگی کو لیکر فورلین شاہراہ کو تعمیر کرنے والے کمپنی ہندوستان کنسٹریکشن کمپنی کے ورکر منگل سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے بانہال اور رام بن کے سیکٹر میں کئی مقامات پر جاری تعمیراتی کام ٹھپ ہوکررہ گیا ہے۔کمپنی میں کام کر رہے ورکروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ ماہ کے زائد عر صے سے ان کی اجرتیں کمپنی کی طرف سے واگذار نہیں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے اْنہیں شدید مالی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ ہڑتال کے دوران ایچ سی سی انتظامیہ کی طرف سے اْنہیں تحریری یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نومبر ماہ سے بقایا اجرتیں انہیں 27 مارچ تک ادا کی جائیں گی جبکہ دیگر مزید دو ماہ کی تنخواہیں اور اجرتیں اپریل میں ادا کی جائیں گی۔ اْنہوں نے کہا کہ مقررہ تاریخ گذرنے جانے کے بعد بھی اْن کی اْجرتیں واگذار نہ کی گئی جس کی وجہ سے وہ دوبارہ ہڑتال پر چلے جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ فورلین شاہراہ پر رام بن اور بانہال کے درمیان ورکروں کی ہڑتال کی وجہ سے بیچنگ پلانٹ رامسو ، ماروگ و دیگر مقامات پر زیر تعمیر ٹنلوں کے علاوہ ورکشاپ اور دیگر جگہوں پر کام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ اپنی اجرتوں کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے والے رام بن ، ڈگڈول ، بیٹری چشمہ ، مگرکوٹ ، بانہال اور بیرون ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ور کروں کا مزید کہنا ہے کہ پانچ ماہ سے بنا اْجرتوں کی وجہ سے ان کے گھر وں کا خرچہ چلانا اوردیگر اخراجات پورے کرنا ناممکن بن چکا ہے اور ادھار دینے والے تاجر اور دکاندار بھی اب اْن سے انکاری ہوگئے ہیں۔ احتجاجی ورکر کمپنی انتظامیہ کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے اور بقایا اْجرتوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔