بھدرواہ //ایڈیشنل ضلع بھدرواہ کے سینکڑوں گاہکوں کو ایک پرائیویٹ فرم نے 2کروڑ روپے کا چونا لگایا جب گاہک کمپنی کی جانب سے پیشگی بُکنگ پر سستے داموں پر الیکٹرانک اشیاء فراہم کرنے کے جھانسہ میں آئے۔پولیس کے مطابق پرائیویٹ کمپنی تقریباً700 مقامی گاہکوں کو دھوکہ دیکر دو کروڑ روپے لیکر رفو چکر ہو گئی ہے۔ اے ایس پی بھدرواہ راجندر سنگھ نے کہا کہ مبینہ ملزم سید محمد مدنی نے تقریباً ایک ماہ قبل کوٹلی میں ’’ Mass Traders‘‘ کے نام سے ایک کمپنی کھولی تھی اور لوگوں کو گھریلو اشیائے اور الیکٹرانک سامان سستے داموں پر (مارکیٹ کے نرخوں سے45فیصدی سستے) بُکنگ کے 15دنوں کے اندر مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔جمعہ کی صُبح کو گاہکوں نے جب شوو روم کو مقفل پایا اور تمام فون سوچ آف پائے، تو یہ خبر آناً فاناً میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی ۔درجنوں گاہک جنھوں نے پیشگی بُکنگ کی تھی ،گھبراہٹ میں شو رروم کے باہر اکٹھا ہوئے اور پولیس و مقامی انتظامیہ کے مدد کے انتظار میں رہے۔مو ضع کوٹلی کے ایک معمرمقامی باشندے بشیر احمد لون نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے گھریلو اشیائے بشمول ایک فرج ، ایل ای ڈی ٹی وی، اور فرنیچر کی بُکنگ کیلئے1.5 لاکھ روپے پیشگی جمع کئے تھے۔اور کمپنی نے وعدہ کیا تھا کہ یہ اشیاء 5 ۔اگست سے قبل سونپے جائیں گے۔اُس نے کہا کہ مُجھے اب سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں کیونکہ میری بیٹی کی شادی 9۔اگست کو طے ہے۔کوٹلی کی شہاینی بیگم نے بھی اپنی بیٹی کی شادی کے لئے ریفریجریٹرکی بکنگ کے لئے 10,000روپے پیشگی جمع کئے تھے ،جو بھی اس نے ادھار مانگ کر لئے تھے کیونکہ اسکی حیثیت ریفریجریٹر دینے کی نہیں تھی ۔جب اُس نے سستے داموں پر الیکٹرانک سامان مہیا ہونے کی خبر سُن لی تو اُس نے بھی مناسب رسید کے عوض پیشگی رقم جمع کی۔ جب اس نے کمپنی کے فرار ہونے کی خبر سُن لی تو اس نے مدد کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی۔ایک بکروال بیوہ زرینہ بی بی نے کہا کہ میں نے اپنی تمام جمع پونجی مذکورہ کمپنی میں بطور پیشگی رقم جمع کی لیکن اب میں یہ سوچتی ہوں کہ میں کس طرح سے اپنے تین بچوں کی زندگی گُذاروں۔بعدازاں ، ناراض لوگوں نے چو بی لنک روڈ کو جام کرکے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور ایس ایچ او منیر خان کی پٹائی کرنے کی بھی کوشش کی ۔ اے اسی پی بھدرواہ راجندر سنگھ نے کہا کہ مبینہ ملزم گُذشتہ ایک مہینے سے بھدرواہ میں رہائش پذیر تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام نا کوں اور اپنے تمام وسائل کو چوکنا کیا ہے۔اسکے علاوہ ہم نے متعدد مقامات پر چھاپے بھی مارے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم انکی اصل شناخت کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ بیرون ریاست کے باشندے تھے اور ہمیں توقع ہے کہ ان تمام مبینہ ملزمان کو ہم عنقریب ہی ڈھونڈ نکالیں گے۔