پیرس/یو این آئی/فرانسیسی پولیس کے خلاف دارالحکومت پیرس میں 17 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف فرانس کی سڑکیں چھٹے دن بھی میدان جنگ بنی رہیں، فرانس میں مظاہرین نے میئر کا گھر بھی جلا دیا۔ فرانس کی سڑکیں چھٹے دن بھی میدان جنگ بنی رہیں، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، کئی علاقوں میں سوشل میڈیا سائیٹس بھی جزوی طور پر بند کر دی گئیں، پیرس کے میئر کا گھر بھی جلا دیا گیا۔احتجاج کے دوران مزید 700 دکانیں اور بینک جلاؤ گھراؤ سے متاثر ہوئے ، جھڑپوں میں 200 سے زائد پولیس اہل کار زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ گرفتار مظاہرین کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی۔حملہ آوروں نے رات کو پیرس کے ایک مضافاتی میئر کے گھر کو آگ لگائی اور جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنے والی ان کی بیوی اور بچوں پر راکٹ فائر کر دیے ، واقعے کے وقت میئر ونسنٹ جین برون گھر پر نہیں تھے۔
میکرون کی وزراء سے فرانس میں امن بحال کرنے کی اپیل
پیرس/یو این آئی/ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے وزراء سے ملک میں جاری تشدد اور بدامنی کے درمیان ہر ممکن امن کا نظام بحال کرنے کی اپیل کی۔ یہ معلومات بی ایف ایم ٹی وی پر پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ میں دی گئی ہیں۔بی ایف ایم ٹی وی نے میٹنگ میں شرکت کرنے والوں کے حوالے سے خبر دی کہ مسٹر میکرون نے اتوار کی شام ایلیسی پیلس میں فرانسیسی وزیر اعظم الزبتھ بورن اور دیگر وزراء سے ملک کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس ملاقات میں انہوں نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر انصاف سے کہا ہے کہ وہ فرانس میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں۔ میکرون نے کہا کہ فرانسیسی حکومت کو قانون نافذ کرنے والے افسران اور خصوصی خدمات کے عملہ کی حمایت جاری رکھنی چاہیے جو ملک میں امن برقرار رکھنے کے لیے گزشتہ پانچ دنوں سے کام کر رہے ہیں۔ میکرون منگل کے روز ایلیسی پیلس میں فسادات سے متاثر ہونے والے 220 سے زیادہ میئرز کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔