نئی دہلی//خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اسکول کی دو ٹیچروں نے بھی ملزم کی مدد کی۔ دو سال کے دوران متاثرہ پانچ مرتبہ حاملہ ہوئی اور ہر مرتبہ ان ٹیچروں نے ہی اسقاط حمل کیلئے اس کو کچھ گولیاں دی تھیں۔دہلی کے ایک اسکول میں شرمسار کردینے والے واقعہ پیش آیا ہے۔ دہلی کے جسولہ علاقہ کے ایک اسکول کے پرنسپل کو ٹیچر کی آبروریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ خاتون نے سریتا وہار پولیس اسٹیشن میں پرنسپل کے خلاف معاملہ درج کروایا ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے پرنسپل اس کا استحصال کررہا تھا۔ اس دوران پرنسپل نے اس کا کئی مرتبہ اسقاط حمل بھی کروایا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا ، جہاں سے اس کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق جسولہ گاوں میں واقعہ ایک اسکول میں متاثرہ خاتون نے فروری 2017 میں نوکری شروع کی تھی۔ خاتون نے بتایا کہ ملزم نے 9 جون 2017 میں اس کو اپنے دفتر میں بلاکر کولڈ ڈرنکس میں نشیلی اشیا ملا کر پلادیا اور اس کی آبروریزی کی۔ اس دوران اس نے خاتون کی فحش تصاویر کھینچ لیں اور ویڈیو بھی بنالیا۔ بعد میں اس نے متاثرہ کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اس بارے میں کسی کو بتایا تو وہ اس کا ویڈیو وائرل کردے گا۔ ساتھ ہی ملزم متاثرہ کے بھائی کو مارنے کی بھی دھمکی دیتا رہتا تھا۔خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اسکول کی دو ٹیچروں نے بھی ملزم کی مدد کی۔ دو سال کے دوران متاثرہ پانچ مرتبہ حاملہ ہوئی اور ہر مرتبہ ان ٹیچروں نے ہی اسقاط حمل کیلئے اس کو کچھ گولیاں دی تھیں۔ وہیں متاثرہ نے بتایا کہ ملزم نے اسکول کے علاوہ گیسٹ ہاوس میں بھی لے جا کر اس کی ا?بروریزی کی۔متاثرہ کے مطابق اس سال 14 جولائی کو اس نے اپنا استعفی دیدیا تھا ، لیکن اس کو تنخواہ نہیں ملی تھی۔ 30 جون کو جب وہ اپنی تنخواہ لینے کیلئے پھر اسکول گئی ، تو اس کے ساتھ ملزم نے مار پیٹ کی۔ ملزم نے ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی ، جس کے بعد وہ کسی طرح سے بچ کر وہاں سے نکلی۔