اشرف چراغ
کپوارہ// ضلع کپوارہ میں نالو ں اور دریائو ں سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی کان کنی اور گندگی پھینکنے کی وجہ سے آبی ذخائر کا وجود شدید خطرے میں ہے جس سے نہ صرف قدرتی بہائو متاثر ہو رہا ہے بلکہ ما حولیاتی آلودگی اور زمینی کٹائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس پر مقامی لوگو ں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سر کار سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔کپوارہ میں نالہ ماور ،نالہ پہرو ،نالہ کہمیل ،نالہ لولاب اور نالہ ہایہامہ جبکہ کرناہ میں نالہ بتہ موجی ضلع میں ایک اہمیت رکھتے ہیں تاہم غیر قانونی کان کنی نے ان نالوں کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کیا۔حکومتی اور عدالتی پابندی کے باجود بھی ان نالو ں سے مشینری کے ذریعے ریت اور بجری نکالنے سے ان نالو ں کی گہرائی اور بہائو کے راستے تبدیل ہو رہے ہیں۔ان نالو ں کے آس پاس کے رہنے والے کچھ لوگ ان نالو ں میں کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک پھینکنے سے نہیں کتراتے ہیں جس کی وجہ سے ان نالو ں کا میٹھا پانی زہریلا ہو رہا ہے جس انسانی صحت اور آبی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔زمینی کٹائو کے باعث قریبی دیہاتوں کی زرعی اراضی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔اس سرحد ی ضلع کو قدرت نے وافر پانی کے وسائل سے نوازا ہے جن میںنالہ ماور ،نالہ پہرو اور نالہ کہمیل سب سے اہم ہیں کیونکہ یہ نالے نہ صرف لوگو ں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرتے بلکہ ضلع کے ایک کثیر آبادی کی زراعت کا دارو مدار بھی ان نالو ں پر ہے۔مقامی لوگو ں کا ماننا ہے کہ یہ نالے محض آبی ذخائر نہیں ہیں بلکہ ضلع میں زندگی کی ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں جو پینے کے پانی کی فراہمی ،زراعت ،باغبانی اور مجموعی طور پر 70فی صدی آبادی کے لئے زریعہ معاش بھی ہے۔ان ندی نالو ں کے کنارو ں پر تھوس فضلہ کا جمع کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ جانو روں کی لاشیں بھی تیرتی نظر دکھائی دیتی ہے۔تجاوزات اور ریت کے اخراج نے ماحولیاتی توازن کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ماہرین ما حولیات کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو نقصان جل ہی نا قابل تلافی ہو سکتا ہے۔سرکاری طور ان ندی نالو ں کے کناروں یا ان ندی نالو ں میں کو ڑ ا کرکٹ ڈالنے سے پر ہیز کرنے کے لئے متعدد ایکشن پلان بنانے کے باجود عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے۔اعلیٰ سطحوں پر منظور شدہ منصوبے ابھی بھی رقومات اور عمل در آمد کے منتظر ہیں جو پایسی اور عمل کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ضلع کے لوگو ں نے سر کار سے مطالبہ کیا کہ یہا ں کے اہم ندی نالوں کی شناخت بچانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں جائیں۔