غلام قادر کامران
موسم کا بدلتا ہوا مزاج اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے تباہ کن واقعات جیسے متواتر ژالہ باری، تیز آندھی، بے وقت کی بارشیں اور بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے حادثات کشمیر کے شعبۂ باغبانی کوبُری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ باغبانی، جو وادی کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور تقریباً 35 لاکھ افراد کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے، غیر متوقع موسمی حالات کی وجہ سے قدرت کے قہر انگیز لپیٹ میں آ چکی ہے۔ موسم کے اس بے رحم اور غیر متوقع رویے نے کسانوں اور باغبانی کی صنعت سے جڑے لاکھوں لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
وادیٔ کشمیر میں ژالہ باری کے حالیہ تباہ کن واقعات نے زراعت اور باغبانی کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ سے لے کر جنوبی کشمیر کے شوپیاں تک، اچانک ہونے والی شدید ژالہ باری نے کھڑی فصلوں اور میوہ باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ محکمۂ باغبانی کے ابتدائی تخمینے کے مطابق، وادی کے 10 اضلاع میں میوہ باغات کو 40 سے 60 فیصد تک نقصان پہنچا ہے، جس نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ ترال کے اری پل بیلٹ بشمول ستورہ اور اس کے مضافاتی دیہات میں ژالہ باری نے میوہ باغات میں شدید تباہی مچا دی ہے، جہاں کافی دیر تک بڑے سائز کے اولے برستے رہے۔ اس طویل ژالہ باری کی وجہ سے سیب کے باغات، سبزیوں کے کھیت اور دیگر کھڑی فصلیں شدید نقصانات کا شکار ہوئی ہیں۔ متاثرہ باغبانوں کا کہنا ہے کہ اس موسمی آفت نے ان کی سال بھر کی محنت اور امیدوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اولوں کی ضرب سے ننھے سیب داغدار ہو گئے ہیں اور درختوں کے پتے بری طرح جھڑ چکے ہیں، جس کے باعث اس سال فصل کا معیار اور مقدار دونوں ہی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اولے گرنے کے ایسے ہی دل دہلا دینے والے واقعات ضلع کلگام کے بوچرو علاقے میں بھی پیش آئے، جہاں طوفانی بارش اور ژالہ باری نے سیب کے باغات کو تہس نہس کر دیا، جس سے مقامی کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی کسانوں کے مطابق، موسم کی متواتر خرابیاں زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ تباہی کا یہ سلسلہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ ضلع اننت ناگ، پلوامہ، بارہمولہ اور ضلع بڈگام کے کئی علاقوں سے بھی ژالہ باری اور فصلوں کے شدید نقصان کی ایسی ہی دردناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کشمیر میں موسم کا بگڑتا ہوا اور غیر مستقل مزاج اب انتہائی تباہ کن اور غیر متوقع صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی شعبہ باغبانی شدید بحران سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب موسمِ سرما اور بہار کےاوائلِ میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہتا ہے، جس کی وجہ سے سیب کے درختوں کو اپنی نشوونما کے لیے مطلوبہ سردی کے اوقات (Chilling Hours) میسر نہیں آپاتے۔نتیجہ یہ کہ درختوں میں شگوفے وقت سے پہلے، انتہائی کم اور غیر ہموار طریقے سے پھوٹتے ہیں، جس سے پھل بننے کا عمل اور مجموعی پیداوار بری طرح متاثر ہو جاتی ہے اس بحران کو طویل خشک سالی زیادہ سنگین بنا دیتی ہے، جس سے فصل کے معیار (Quality) اور مقدار (Quantity) دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، بے وقت کی طوفانی بارشیں اور تیز آندھیاں تیار فصل کے لیے انتہائی خطرات کو جنم دیتے ہیں۔ تیز ہواؤں کے تھپیڑوں سے سیب اور دیگر میوہ جات درختوں سے گر کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، ان بے وقت کی بارشوں اور ہوا میں نمی کے بڑھتے ہوئے تناسب کے باعث باغات میں ‘ایپل اسکیب (Apple Scab) اور ‘الٹرنیریہ (Alternaria) جیسی مہلک فنگس کی بیماریاں وبائی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جو پھل اور پتوں دونوں کو جھلسا کر رکھ دیتی ہیں۔کشمیر کے کسانوں اور باغبانوں کا کہنا ہے کہ وادی میں اب ژالہ باری کے تباہ کن واقعات کوئی معمولی یا اکا دکا موسمی سرگرمی نہیں رہے۔ کسانوں کے مطابق ایک دور تھا جب ژالہ باری سال میں کبھی کبھار ہوتی تھی اور وہ بھی کسی مخصوص یا محدود علاقے تک، لیکن اب یہ روز کا معمول بن چکی ہے اور متواتر کشمیر کا کوئی نہ کوئی حصہ اس کی زد میں آکر تباہ ہو رہا ہے۔موسم کے اس بے رحم اور غیر متوقع تبدیلی نے کشمیری باغبان کو بے بس اور ان کے روزگار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
باغبانی کے اعتبار سے کشمیر کو ملک بھر میں ایک انتہائی کلیدی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ اس خطے میں سالانہ 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن سیب کی پیداوار ہوتی ہے، جو ہندوستان کی مجموعی پیداوار کا 75 فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے۔کشمیر میں ایک شاندار اور کامیاب فصل محض کسانوں کی انفرادی خوشحالی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ پوری وادی کے معاشی پہیے کو رواں دواں رکھنے میں انتہائی اہم ہے میوہ فصل خاص کر سیبوں کی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی جہاں ایک طرف کسان خاندانوں کی صحت، رہائش اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرتی ہے، وہیں دوسری جانب یہ مزدوروں، ٹرانسپورٹروں، تاجروں، پیکیجنگ انڈسٹری اور کولڈ اسٹوریج کے کاروبار سے وابستہ ایک وسیع تر معاشی نیٹ ورک کے روزگار کا بھی بنیادی ذریعہ ہے۔
کشمیر میں غیر متوقع موسمی حالات کے باعث میوہ باغات کو پہنچنے والے شدید نقصانات کے پیشِ نظر، حال ہی میں ‘کشمیر فروٹ گروورز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے پُر زور مطالبہ کیا کہ فصلوں کی تباہی کا ہنگامی بنیادوں پر تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ باغبانوں کو فوری طور پر معقول مالی معاوضہ فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، متاثرہ باغبانوں نے جموں و کشمیر میں ایک جامع ‘کراپ انشورنس اسکیم(فصلوں کے بیمے) کے فوری نفاذ کے دیرینہ مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔ باغبانوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے ماضی میں کئی بار کراپ انشورنس اسکیم کے نفاذ کی یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، لیکن بدقسمتی سے زمینی سطح پر اس سلسلے میں ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔
کشمیر میں باغبانی، بالخصوص سیب کی کاشت، محض ایک پیشہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی معاشی بقا اور روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ آج جب یہ شعبہ موسمیاتی اور معاشی چیلنجز کی زد میں ہے، تو اسے تباہی سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے ہنگامی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے پاس کشمیر جیسی ہموار، وسیع اور قدرتی طور پر زرخیز زمین موجود نہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں کی حکومت نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسانوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے ہیں، جس سے وہاں باغبانی کو ایک مستحکم بنیاد فراہم ہوئی ہے
ہماچل پردیش میں ریاستی سرپرستی میں ایک مخصوص ‘مارکیٹ انٹروینشن اسکیم (Market Intervention Scheme) چلائی جاتی ہے۔ جب فصل کی پیداوار حد سے زیادہ ہوتی ہے یا منڈیوں میں سیب کی بھرمار ہو جاتی ہے، تو ریاستی حکومت مارکیٹ میں مداخلت کر کے ایک طے شدہ کم از کم قیمت پر سیب خرید لیتی ہے۔ اس عمل سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ پرائیویٹ منڈیاں گرنے کی صورت میں کسان انتہائی کم قیمت پر اپنا مال بیچنے پر مجبور نہ ہوں۔ اس کے برعکس، کشمیر میں کسانوں کا انحصار زیادہ تر نجی تاجروں اور قومی اسکیموں پر ہی ہوتا ہے۔ہماچل پردیش کا سرکاری ادارہ ‘ہارٹیکلچرل پروڈیوس مارکیٹنگ اینڈ پروسیسنگ کارپوریشن(HPMC) کسانوں کو پیکنگ کا سامان اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ، ایسے پروسیسنگ پلانٹ بھی چلاتا ہے جو کم درجے یا گرے ہوئے سیبوں کو جوس اور کونسنٹریٹ (گاڑھے رس) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس طرح کسانوں کو ان داغدار یا چھوٹے سائز کے پھلوں کا بھی معاوضہ مل جاتا ہے جنہیں بصورتِ دیگر پھینک دیا جاتا ہے۔جب ‘انڈیا۔امریکا فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے تحت درآمدی محصولات میں کمی کی گئی، تو ہماچل پردیش کی حکومت نے ان اقدام کے خلاف بھرپور طریقے سے آواز اٹھائی۔ ریاستی اسمبلی نے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے باقاعدہ قراردادیں بھی منظور کیں۔مزید برآں، ہماچل حکومت سیب کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے کسانوں کو گتے کی پیٹیوں ، اینٹی ہائیل نیٹس (ژالہ باری سے بچاؤ کے جال)، کھاد اور پودوں کی حفاظت کرنے والے ادویات جیسی بنیادی ضروریات پر بھاری سبسڈی فراہم کرتی ہے۔
کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا باغبانی کا شعبہ غیر متوقع موسمی حالات کے پیشِ نظر اب ہنگامی اور ٹھوس اقدامات کا متقاضی ہے۔ حکومتِ وقت کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک جامع ‘کراپ انشورنس اسکیم کا نفاذ کرے، ‘مارکیٹ انٹروینشن کے نظام کو فعال بنائے، اور کسانوں کو کھاد اور زرعی ادویات پر خاطر خواہ سبسڈی فراہم کرے۔ دوسری جانب، کسانوں کے لیے بھی یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ روایتی طریقوں پر انحصار کم کریں، ماہرینِ زراعت کے مشوروں پر عمل پیرا ہوں، اور بدلتے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے باغبانی کے جدید اور سائنسی طرزِ عمل کو اپنائیں۔ بلاشبہ حکومت کی مخلصانہ سرپرستی اور کسانوں کی جدید طرزِ عمل پر مبنی مشترکہ کوششوں سے ہی اس اہم ترین صنعت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کا معاشی مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔
[email protected]
������������������������