خالقِ کون و مکاں نے وسیع العریض کائنات کی تخلیق یوں ہی نہیں کی ہے بلکہ اس میں بےپناہ بھید مخفی رکھئیے ۔اس کے بعد مخلوقات میں سے ایک ایسی مخلوق خلق کی جو نہ صرف سارے مخلوقات پر راج کرے بلکہ قدرت کے وسیع العریض کائنات میں چھپے راز کو بھی فاش کرے ۔جی ہاں انسان کی تخلیق بامقصد اور سب سے اعلیٰ درجے کی تخلیق ہے ۔اسی لئے انسان کو زہانت،سماعت ،بصارت اور تخیل سے نوازا گیا ۔بظاہر یہ خوبیاں جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن اصل میں یہ صلاحیتیں صرف اور صرف آدم ذادوں میں ہی پائی جاتی ہیں ۔مثلاً آنکھیں دیکھنے کے لئے ہیں ۔لیکن انسان کو بصارت سے بھی نوازا گیا ہے ۔کان سننے کے لئے ہیں لیکن انسان کو سماعت سے مالامال کیا گیا ہے ۔دماغ جسم کے نظام کو چلانے کے لئے ہے لیکن انسان کو سوچنے،سمجھنے اور غور کرنے کی صلاحیت سے منور کیا گیا ہے ۔اسی طرح دل خون کو دوڈانے کا کام کرتا ہے لیکن انسان کو آرزوں ،تمناوں ،خواہشوں اور تجسّس کے مادے سے بھی لبریز کیا گیا ۔انہی خصوصیات کے دم پر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بھی ملا ہے اور کامل عقل و دانش کا منبع بھی ۔ یہ ہیں انسان کی خصوصیات ۔
خالق کائنات نے اسی لئے جنت کی آرام دہ زندگی سے نکال کر انسان کو زمین پر بسا دیا تاکہ وہ اپنی سماعت ،بصارت ،ذہانت اور تخیل کا استعمال کرکے غور و فکر کرے اور اس وسیع العریض کائنات میں پوشیدہ راز عیاں کر کے علم و دانش کی انتہا تک پہنچ کر زندگی کےاصل مقصد کو سمجھے ۔بات صاف ہے کہ انسان کی تخلیق غوروفکر کے لئےہی کی گئی ہے ۔انسان کے زمین پر آتے ہی ضروریات نے جنم لیا اور ضروریات نے تلاش کو خلق کیا اور تلاش کے جزبے نے فکر معاش کو فروغ دیا اور فکر معاش نے غور کرنے کے مادے کو جلا بخشا ۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ انسان دھیرے دھیرے ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا اور غاروں سے نکل کر پہلے پہلے جھونپڑیوں میں رہنے لگا اور دربدر بھٹکنے والے سے ایک مخصوص جگہ کا باشندہ بن گیا ۔غرض جتنی انسانی زہانت پروان چڑھتی گئی اتنے ہی بھید افشا ہوتے گئے ۔قدرت نے زمین ،آسمان ،بر اعظم ،بحراعظم ،پہاڑ ، میدان،تارے ،ستارے ،ہوا اور پانی پیدا کر کے ان میں ترقی ،خوشحالی اور روز مرہ کے ضروریات کے بھید مخفی رکھے ۔انسان بتدریج ان رازوں کو افشا کرتا گیا اور ترقی کے منازل طے کرتا گیا ۔ابتدائی امتوں نے اپنی زہانت کے اعتبار سے ترقی کی راہیں ہموار کیں ۔لیکن وہ اس منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکیں جس کی توقع آخری امت سے کی گئی ۔اس کی واضح وجہ ادراک کی اونچی سطح ہے جو صرف امت وست کو عطا کیا گیا اور پھر اکمل کا تحفہ بھی دیا گیا ۔جس امت کو ادراک اور فہم کا اعلیٰ درجہ ملا ہو اس کے لئے نئی کھوج اور دریافتیں مشکل کام نہیں ہے ۔چونکہ غوروفکر ادرا ک کا لازمی جز ہے اسلئے قدرت کے وسیع العریض کائنات پر تفکر بھی ایک لازمی فریضہ ہے ۔غوروفکر کرنے سے ہی انسان نے سائینسی علم نہ صرف حاصل کیا بلکہ ایجادات کا ذریعہ بھی ۔کائنات کے نظام کو سمجھنے کے لیے تفکر کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ۔ ابھی تک انسان کائینات کی وسعت کا صحیح اندازہ بھی نہیں لگا پایا ہے ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کی تخلیق کچھ سمجھانے کی کوشش میں ہے لیکن انسان کے غؤروفکر کی حدیں ابھی اس درجہ اتم تک نہیں پہنچی ہیں ۔کہ انسان غور و فکر کرنا بند کرے ۔غور و فکر کرنے کی دعوت کسی خاص طبقے کے لیے نہیں ہے بلکہ بلا امتیاز رنگ و نسل ،مزہب و عقیدت ،جنس و قوت ،زبان و فہم اور زات و پات کے سب کے لیے ہے ۔خالق کائینات نے تاکید کی ہے کہ اس وسیع العریض کائنات کا غور کرو کہ یہ کیسے وجود میں آیا اور یہ کیسے ایک مخصوص نظام کا پابند ہے ۔اس زمین وآسمان پر تفکر کرکے اپنی عقل کے بند دروازے کھول کر قدرت کی کاریگری کا اعتراف کرو ۔حدیث میں آیا ہے کہ گھڑی بھر کا تفکر دونوں جہاں کی عبادت سے بہتر ہے۔
آخر گھڑی بھر تفکر کرنے میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ اسے دو جہانوں کی عبادت سے افضل قرار دے رہے ہیں۔ عبادات کے ساتھ تفکر اس لیے ضروری ہے کہ تفکر کے بغیر صرف ظاہری زبان سے الفاظ ادا کرنے سے درجات، نیک نامی اور شہرت تو حاصل ہو جاتی ہے لیکن جس ربّ کی عبادت کی جارہی ہے اُس کی معرفت اور اُس کا راز نہیں ملتا اور بندہ اپنی تخلیق کے پیچھےُ چھپے محرک کو سمجھنے سے قاصر اور محروم رہتا ہے۔فرقان حمید پر غوروفکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ احکامات قدرت صحیح انداذ میں زہن نشین ہوں اور اندھی تقلید سے چھٹکارا مل کر وجود کےاصل مقصد کو حاصل کیا جاسکےایک اور حدیث مبارک میں بیان ہوا ہے کہ فکر کے بغیر ذکر کرنا گویا کتے کا بھونکنا ہے۔‘‘
شیر جبار غوروفکر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* غور سے عقل کی روشنی بڑھتی ہے۔
* جس میں فکر کی عادت نہیں اُس کے لیے کوئی بصیرت نہیں۔
* غوروفکر کرنے سے بصیرت پیدا ہوتی ہے اور عبرت حاصل ہوتی ہے۔
* غورکا انجام کامیابی اور غفلت کا نتیجہ محرومی ہے۔
* نصیحت دوسروں کے حال پر غور کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
* پہلے سوچ پھر کلام کر ،تاکہ غلطی سے بچارہے۔
* جو شخص سلامتی چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ فکر اختیار کرے۔
* بصیرت حاصل کرنے کا سِرّ غوروفکر اور علم کا سِرّ حلم و بردباری ہے۔
* دیر تک غورو فکر کرنا انجام کو سنوارتا ہے۔
کسی علم یا چیز کو سمجھنے کے لیے جب ہم سوچ بچار کرتے ہیں تو اسے فکر، تفکر یا غوروفکر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔دنیا آج مادی اور سائنسی ترقی کے جس مقام پر کھڑی ہے اس کی بنیاد سائنسدانوں کا مادیت میں غورو فکر ہی ہے۔ہر ایجاد اور دریافت کے پیچھے غوروفکر اور تفکر پنہا ں ہے
سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا ہے
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان ایسےگناہ ہوتے ہیں جن پر اخروی سزا واجب ہے۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
ہر سینہ نشیمن نہیں جبریلِ امین کا
ہر فکر نہیں ظاہر فردوس کا صیاد
اُس قوم میں ہے شوخی اندیشۂ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
گو فکرِ خداداد سے روشن ہے زمانہ
آزادیٔ افکار ہے ابلیس کی ایجاد
(بالِ جبریل)
عقلمند انسان کے لیے اشارہ کافی ہے کہ گمان اور آزاد خیالی شیطان کی فطرت ہے غوروفکر اور تفکر صفت الہامی ہیں جو انسان میں ودیعت کیا گیا ہے ۔غور و فکر کرنے سے ہر چھوٹی بات بڑی اور اہم لگتی ہے جبکہ غور و فکر نہ کرنے سے ہر بڑی اور اہم بات فضول لگتی ہے ۔خدا تعالی کی مخلوقات میں فکر و نظر بھی عبادت و ہدایت ہے، بلکہ یہ خیر کی ابتدا اور خیر کیلیے کلید ہے، فکر و نظر کے ذریعے خدا تعالی کی تعظیم ہوتی ہے نیز انسان کا ایمان اور یقین بھی بڑھتا ہے، اس سے دلی بصیرت پروان چڑھتی ہے ، دل غفلت سے بیدار ہوتا ہے اور دل کو نئی زندگی ، تدبر، محبتِ الہی اور نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
حق تعالی کی نشانیوں میں غور و فکر قلبی عبادات میں سے افضل اور مفید ترین عبادت ہے، یہ انسان کو عملی عبادات کی دعوت دیتی ہے اور اپنا سب کچھ خالق کے سپرد کرنے پر مجبور کرتی ہے۔غور و فکر اصل میں حصولِ رحمت کی کنجی ہے۔
لوگوں کو نصیحت کرنے کیلیے غور و فکر کی دعوت بہترین دعوت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے
آپ کہہ دیں: میں تمہیں ایک ہی چیز کی نصیحت کرتا ہوں کہ: خالق کائنات کیلیے تنہا یا دو، دو کھڑے ہو کر غور و فکر تو کرو۔ غور و فکر کرنا انسان کی فطرت میں ہے
اسی لئے اس پر زور دیا گیا ہے کہ سوچو چاند ،سورج ،تارے ،ستارے اور زمین کیوں اور کیسے وجود میں آئے اور یہ ایک مکمل نظام کے پابند کیونکر ہیں ۔فرمان حق ھے:سورج عقلمند لوگوں کیلیے نشانی ہے ۔
اسی نے تمہارے لیے شب و روز، سورج اور چاند مسخر کیے، تارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں، بیشک اس میں عقل مند قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[النحل: 12]
لفظ نشانیاں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ انسان کو یہ نشانیاں تلاشنی ہیں اور پھر اصل میکنزم کو سمجھ کر نتائج اخذ کرنے ہے ۔ان نشانیوں کی بنا پر ہی سائینسی علوم وجود میں آئے ۔ایک اور جگہ پر تاکید کی گئی ہے کہ لوگوں کو سورج کی حیرت انگیز تسخیر پر غور کرنا چاہیے :
کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حق تعالی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، اسی نے سورج اور چاند مسخر کیے ہیں۔[لقمان: 29]
ان الہامی احکامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اس دنیا میں صرف کھانے پینے اور سونے کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ غوروفکر اور تفکر کے لئے بھیجا گیا ہے ۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آج انسان نے جو زمین سے آسمان اور سمندر کی نچلی پرت تک رسائی حاصل کی وہ غوروفکر کے مادے کی وجہ سے کی ہے ۔کوئی جانور یا پرندہ یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکتا کیونکہ یہ وصف صرف اور صرف حیوان ناطق یعنی انسان میں ہی ودیعت کیا گیا ہے۔ حالانکہ انسان نے غؤروفکر کے اس وصف کو تباہ کن اور مہلک نیوکلیائی ہتھیاروں کے لئے بھی کیا۔غورو فکر کا اصل محور خدایت ہونا چاہیے تھا لیکن انسان اس محور سے لُڑک کر گمراہی کے گپ اندھیرے میں کھو گیا ہے ۔
تفکر دو جہانوں کی عبادت سے افضل ہے عبادات کے ساتھ تفکر اس لیے ضروری ہے کہ تفکر کے بغیر صرف ظاہری زبان سے الفاظ ادا کرنے سے درجات، نیک نامی اور شہرت تو حاصل ہو جاتی ہے لیکن جس ربّ کی عبادت کی جارہی ہے اُس کی معرفت اور اُس کا راز نہیں ملتا اور بندہ اپنی تخلیق کے پیچھےُ چھپے محرک کو سمجھنے سے قاصر اور محروم رہتا ہے۔رب جلیل کی نشانیوں اور حیرت انگیز مخلوقات میں غور و فکر کرنا سانسوں کا بہترین مصرف ہے، پھر اس مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے ہر چیز کو چھوڑ کر صرف حق تعالی کے ساتھ تعلق قائم کریں، باری تعالی کی نشانیوں سے مراد اسما و صفات ، الہی کاریگری اور وحدانیت پر مشتمل ایسے دلائل و براہین ہیں جن کے ذریعے بندے اپنے پروردگار کو پہچانتے ہیں۔باری تعالی کی مخلوقات میں فکر و نظر بھی عبادت و ہدایت ہے، بلکہ یہ خیر کی ابتدا اور خیر کیلیے کلید ہے، فکر و نظر کے ذریعے خالق کائنات کی تعظیم ہوتی ہے نیز انسان کا ایمان اور یقین بھی بڑھتا ہے، اس سے دلی بصیرت پروان چڑھتی ہے ، دل غفلت سے بیدار ہوتا ہے اور دل کو نئی زندگی ، تدبر، محبتِ الہی اور نصیحت حاصل ہوتی ہے۔لیکن افسوس ! ہم نے غؤروفکر کرنا چھوڑ دیا ہے اور جو قوم غور وفکر کرنا چھوڑ دے وہ اندھی تقلید کے اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے جیسے کہ آج کے مسلمان یعنی ہم فرقہ پرستی اور اندھی تقلید کے فسانوں میں کہیں کھو گئے ہیں۔۔۔غور و فکر وہ روشنی ہے جو تاریکیوں کو مٹاتی ہے اور ادراک کی وسعت کو لامحدود بناتی ہے ۔۔
���������