مسکرانے کی بات کرتے ہو
کس زمانے کی بات کرتے ہو
ہر کہانی میں اک کہانی ہے
کیا سُنانے کی بات کرتے ہو
بجلیاں تاک میں ہیں بیٹھی ہوئی
آشیانے کی بات کرتے ہو
راحتوں کے تو لُٹ گئے ساماں
بھول جانے کی بات کرتے ہو
خوں کے آنسو رُلا گیا کوئی
غم اٹھانے کی بات کرتے ہو
ریت مٹھی میں رُک نہیں پاتی
گھر بنانے کی بات کرتے ہو
عشق آتش ہے کوئی کھیل نہیں
دل لگانے کی بات کرتے ہو
آزمائے ہوئے کو کیوں گوہرؔ
آزمانے کی بات کرتے ہو
گوہر بانہالی
بانہال رام بن ، جموں
موبائل نمبر؛9906171211
دل سگِ آستاں بنا لیتے
خود کو اُس کا نشاں بنا لیتے
چھوڑ دیتے فریبِ رنگ و بو
حق کو اپنا جہاں بنا لیتے
خاک ہو کر اُسی میں مل جاتے
ہستی کو بے نشاں بنا لیتے
نفس کی ہر صدا دبا دیتے
دل کو ذکرِ اذاں بنا لیتے
راہِ اُلفت میں سر کٹا دے جو
عشق کو امتحاں بنا لیتے
آنکھ سے پردۂ انا اُٹھتا
دید کو رازداں بنا لیتے
سایۂ غیر سے نکل آتے
اُس کو اپنا اماں بنا لیتے
جلوۂ یار دل میں بس جاتا
سینہ کو کہکشاں بنا لیتے
وقتِ ہجراں بھی عید ہو جاتا
وصل کو ارمغاں بنا لیتے
قطرہ بن کر جو اُس میں کھو جاتے
خود کو بحرِ رواں بنا لیتے
دل کے صحرا میں اُس کا نام آگا کر
عشق کو گلستاں بنا لیتے
یاورؔ اپنے وجود کی حد میں
عشق کو لا مکاں بنا لیتے
یاور حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ، کپوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
تو پکڑ دل کی راہ، چپ رہ
سہہ لے ہر ایک آہ ،چپ رہ
کر وہی جو کہے یہ دل
دل ترا سربراہ ،چپ رہ
کار بد چھوڑ دے اے دل
کر نہ ایسا گناہ،چپ رہ
وہ دور جوانی کی چاہ
اب نہ کر وہ چاہ، چپ رہ
تو ابھی تک غافل ہے اس سے
اپنے باطن سے ہو آگاہ ،چپ رہ
بےوجہ تکرار کا کیا حاصل
اپنی منزل پہ رکھ نگاہ،چپ رہ
دوسروں کی محنت کو بھی سراہ
اپنی محنت پہ نہ کر واہ،چپ رہ
یہ جو تیرا ظاہری غم ہے
یہ کسی سے نہ کر آہ،چپ رہ
ہر جہاں تیرا نہی اے صورت
دو دن کی ہے قیام گاہ ،چپ رہ
صورت سنگھ
رام بن جموں
موبائل نمبر؛9622304549
تم کو نہیں ملیں گے معاون مکان پر
اٹھ کر زمیں سے چل دئے وہ آسمان پر
جن کو نہیں پیار ہے قومی زبان سے
وہ درد سے کرا ہیں گے ہراک امتحان پر
آؤگے کب تمہارا یہاں انتظار ہے
یہ عید گذری بچوں کی اوروں کی نان پر
محنت سے پیدا کرتے ہیں دانا کسان بھی
سوتے ہیں رات کو وہ اکیلے مچان پر
جب تک دکان تھی نہ تھی خریدار کی کمی
لگتا بہت ہجوم تھا میری دکان پر
محمد فاروق گیاوی کلال
موبائل نمبر؛9905021495
[email protected]