جبر سلطاں اور ہم
شعلہ زنداں اور ہم
جاؤں تو جاؤں کہاں
بند گلیاں اور ہم
کچھ نظر آتا نہیں
گرد طوفاں اور ہم
کیا عجب دستور ہے
موت رقصاں اور ہم
بار دل پر ہے گراں
سنگ جاناں اور ہم
مشتاق مہدی
مدینہ کالونی، ملہ باغ، سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9419072053
جدھر دیکھئے بس کہ جنگ آزمائیں
تماشائے اہلِ تفنگ آزمائیں
یہ شب کی سیاہی مقدر نہیں ہے
چلو اس پہ کرنوں کا رنگ آزمائیں
اندھیرا کہاں تک طوالت ہے کھینچے
نئی اک سحر کی اُمنگ آزمائیں
بہت دیر سے سو رہا ہے یہ دریا
روانی کی تازہ ترنگ آزمائیں
بہت درد دیتا ہے کانٹوں کا بستر
کسی فصلِ گُل کا پلنگ آزمائیں
ٹھہر سا گیا کیوں ہے زخموں کا رِسنا
نئے ڈھنگ سے انگ انگ آزمائیں
یہ شیدا ؔ ہے اپنے زمانے کا مجنون
چلو سنگ بازو کہ سنگ آزمائیں
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام آباد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
کیا کہوں تم سے کہ کیا ہے زندگانی
موجِ غم ہے یا ہے خوابِ کامرانی
یوں سمجھ لو ہے حقیقت جاودانی
ایک سایہ، ایک خوابِ بے نہانی
خود کو کھو کر ہی ملا ہے تو مجھے یوں
مل گئی جیسے حقیقت کی روانی
قطرہ تھا، دریا میں جب شامل ہوا میں
ہے یہ درویشی،یہی ہے جاودانی
نفس کی زنجیر ٹوٹی جب کبھی بھی
تب کھلی تیری حقیقت لن ترانی
میں نہیں ہرسو تو ہی سرّ و عیاں ہے
یہ فنا ہی ہے بقائے جاودانی
ذکر تیرا سانس کی آمد ہےٹھہری
فکر تیری دھڑکنوں کی ترجمانی
پردۂ ہستی اُٹھا جب چشمِ دل سے
روز روشن ہے عیاں تیری نشانی
خاک ہو کربھی مہک اُٹھتا ہے بندہ
جب عطا ہو جائے نسبت آسمانی
رازِ ہستی کُھل گیا سجدے میں آ کر
بندگی ہی ہے امیریِ نہانی
تو ہی اوّل، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر
تو ہی باطن، تو ہے رازِ لا مکانی
فقر میں پوشیدہ ہے شاہی کا عالم
ہے یہی دولت،عطائے جاودانی
یاور حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ، کپوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
موت کے سائے میں بھی رہ کر بڑی ہوتی رہی
یعنی جینے کے لئے محنت کڑی ہوتی رہی
یومِ پیدائش کے پہلے روز ہی سے فکرمند
ایک مفلس باپ کی بیٹی بڑی ہوتی رہی
مر گیا تھا وہ چھڑی والا، عوال کے لئے
خوف کا باعث مگر اس کی چھڑی ہوتی رہی
اہلِ زر جھکتے نہیں اُن تک پہنچنے کے لئے
مفلسی پنجوں کے بل اپنے کھڑی ہوتی رہی
وقت کو پہلو تہی کرنی تجھے تھی، سو رہا
لمحہ لمحہ اک حویلی جھونپڑی ہوتی رہی
رات بھر ہم ساتھ تھے رہ رہ کے جیسے دفعتاً
بند اس کمرے میں روشن پھلجھڑی ہوتی رہی
بارِ غم دے کر مرے کمزور شانوں کی یہاں
آزمائش میرے مالک ہر گھڑی ہوتی رہی
مصداقؔ اعظمی
پھولپور،اعظم گڑھ، یو پی
موبائل نمبر؛9451431700
پیش آئے ہیں مرے اپنے ستم گر کی طرح
ہاتھ پھولوں کے بھی اب لگتے ہیں خنجر کی طرح
کس نے رکھے ہیں کھلے یوں در و دیوار مرے
جلد بازی میں کسی چھوڑے ہوئے گھر کی طرح
شام ڈھلتے ہی یہ تھا کون جو میرے اندر
پھڑ پھڑاتا ہی رہا ٹوٹے ہوئے پر کی طرح
آخرش بول اُٹھیں!مورتیں بھی میرے خلاف
اپنے ہاتھوں سے تراشی تھیں جو آذر کی طرح
پہلے تو پیار میں دھوکے سے نکالا گیا دل
پھر ہواؤں میں اُچھالا گیا کنکر کی طرح
میری کم گوئی کا کچھ اور نہ مفہوم نکال
یوں ہی چپ چاپ ہوں، خاموش سمندر کی طرح
سوزشِ درد سے آیا ہے کلیجہ منہ کو
تجھ کو لگتا ہے کہ بے حسں ہوں میں پتھر کی طرح
رت جگے راس تجھے آنے لگے ہیں ،راہیؔ
جاگتا ہے مرے آسیب زدہ در کی طرح
عاشق راہیؔ
اکنگام اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005630105
جب انقلاب کی ہوتی ہے بات محفل میں
تو زلزلہ سا کیوں آجاتا ہے اس دل میں
یہ راہِ حق سے بھٹکنے کا ہی نتیجہ ہے
کہ دنیا پھنس گئی اک بار پھر سے مشکل میں
یہ احتجاج بھی کرنا مگر سنبھل کے ہی
ملیں گے خار بھی اس راہ شور کلکل میں
عجیب درد ہے اظہار بھی بہت مشکل
جو ہو رہا ہے کیا ہوگا وہی بسمل میں
مرا ہے کون سا فرقہ خدا بتا دیں آپ
نماز عید پڑھیں گے سب اپنے سرکل میں
محمد فاروق گیاوی
ضلع گیا بہار
موبائل نمبر؛9905021495