لبریز ہو چلا ہے غمِ زندگی سے دل
تھک سا گیا ہے کشمکشِ آگہی سے دل
آنسو بنے ہیں ضبط کی سرحد کے پاسباں
پھٹنے لگا ہے شدتِ ناگفتنی سے دل
آتی ہے اب تو یاد بھی زخموں کی طرح ہی
مانوس ہو چلا ہے تری بے رخی سے دل
ہر سانس میں کسک ہے، ہر اک آہ میں لہو
بھر تو گیا ہے درد کی اس چاشنی سے دل
تاریکیاں ہی لکھ دی ہیں شاید نصیب میں
گھبرانے لگ گیا ہے اب اس روشنی سے دل
تم نے سنا نہیں مری آنکھوں کا کرب بھی
ہارا ہے جنگ اپنی ہی اک بے بسی سے دل
الفت میں ہم نے اپنی انا تک گنوا دی ہے
کھیلا ہے اپنی ذات سے ہی بزدلی سے دل
منزل کی جستجو میں بھٹکتا رہا ہے یہ
نیلام ہو رہا ہے بڑی سادگی سے دل
کیسر خان قیس ؔ
ٹنگواری بالا ضلع بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6006242157
ہے زندگی فریب نظر اور کچھ نہیں
یہ عارضی ہے شام و سحر اور کچھ نہیں
ہیں جتنے عالی شان محلات بھی یہاں
وہ سب کے سب ہیں ریت کے گھر اور کچھ نہیں
یوں دل فریبیوں میں کٹی پوری زندگی
اب سوچتا ہوں جاؤں کدھر اور کچھ نہیں
وہ حسن وہ شباب وہ رعنائیاں گئیں
اب تو جھکی جھکی ہے کمر اور کچھ نہیں
دنیائے بے ثبات سے کیا دل لگائیں ہم
مومن کا آخرت میں ہے گھر اور کچھ نہیں
اللہ کی نگاہ میں ہے محترم وہ دل
جس دل میں اس کا خوب ہو ڈر اور کچھ نہیں
بےد ست و پا یوں کر کے مجھے پوچھتے ہیں وہ
سب خیریت ہے جانِ جگر ؟ اور کچھ نہیں
ندویؔ کی آرزو ہے کہ بس پیار سے اسے
دیکھیں ذرا وہ ایک نظر اور کچھ نہیں
عبد السبحان ندوی
پمینٹل سٹریٹ، کولکتہ
موبائل نمبر؛9831452849
کر رہے ہو ہم سے نفرت اور کرم اغیار پر
اس قدر نہ ظلم ڈھاؤ ، اب دل بیمار پر
مجھ کو لکھنا ہے ابھی قانون پر سرکار پر
میں غزل کیسے کہوں تیرے لب و رخسار پر
جب سے شک ہونے لگا ہے دیش بھگتی پر مری
لگ گئیں پابندیاں تب سے مرے اشعار پر
سامنے پھر اک مکاں کے ہم نے دیکھا کل ہجوم
لڑ رہے تھے بھائی دو آپس میں اک دیوار پر
خون سے لت پت دکھائی دے رہی تھیں سرخیاں
جب نظر میری پڑی ، تازہ کسی اخبار پر
اس کو کیا معلوم تھا پھولوں میں پوشیدہ ہے بم
اس کی تو نظریں جمی تھیں بس گلوں کے ہار پر
اپنی غلطی پہ وہ ایسے سر ہلاتا ہے رفیقؔ
صاف ہوتا ہے گماں انکار کا اقرار پر
رفیق عثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈنٹ
BSNLآکولہ مہاراشٹرا
جونہی شام اُتری جسم و جاں میں
لوٹ آیا پرندہ آشیاں میں
موجود نہیں جو اس جہاں میں
ڈھونڈوں گا اُسے کہاں کہاں میں
آیا ہوں ہمدمو کہوں کیا
کس منھ سے اس سرائے جاں میں
خود ہی دونوں طرف ہوں موجود
خود ہی حائل ہوں درمیاں میں
میرے ہی روپ تھے جو بھی تھے
اور کوئی نہیں تھا داستاں میں
تاریک پڑا ہے صدیوں صدیوں
رہتا ہے کون اس مکاں میں
میر شہریار
اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛7780895105
ہم نے خواہش کو رکھا در حدِ حالت کہاں
دل بیتاب کو دی اتنی اجازت کہاں
وہ جو فرصت میں بھی ہم کو نہ سمو پایا کبھی
اس کے ایام میں تھی ایسی وسعت کہاں
ایک نظر جس کی طلب عمر کا حاصل ٹھہری
اتنی ارزانی احساس کی قیمت کہاں
جن تعلقات میں شرطیں ہوں تو خاموشی بہتر
دل کی توقیر گنوائیں، یہ شرافت کہاں
ہم نے مانا کہ سکوت ایک سخن ہے ورنہ
چلتی آنکھوں میں چھپی اتنی بغاوت کہاں
بےرخی کو بھی وہ تہذیب کا نام دیتا رہا
اس قدر قتلِ محبت کی اجازت کہاں
ہم نے چھوڑا ہے تو اس شان سے چھوڑا ہے اُسے
ورنہ کم ظرفیوں کی ہم میں بھی قلت کہاں
عرفاتؔ اب تو قرینے سے جدا ہونا سیکھ
ہر تعلق کے لئے عمر کی مہلت کہاں
وانی عرفات
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
موبائل نمبر؛9622881110
ہم کو دوش نہ دے اے ہوا
ہم بھی کبھی تھے تیرے خیر خواہ
ستم گر دنیا کیا جانے تیری چاہت
تیری چاہت سے آج میں ہوا ہوں آشنا
پھول تو مرجھاتے چمن کے خزاں میں
بہار آتی ہے چمن پھر ہوتا ہے ہرا بھرا
سنا ہے خزاں کی اس وادی میں
آج بھی سدا بہار پھول ہے کھلا
قادریؔ ماضی کے اوراق نہ کھنگال
مستقبل تیرا ہے مسرتوں سے ہی بھرا
فاروق احمد قادری
کوٹی ڈوڈہ ، جموں
آباد دل کی بستی تھی یاں ، کھا گیا
باہر کا دُکھ اندر کی خوشیاں کھا گیا
ہیں آشکارا اس حقیقت سے سبھی
انساں کو انساں میری جاں یاں کھا گیا
تم بات قطروں کی میاں کرتے ہو کیوں؟
یاں اک سمندر کتنی ندیاں کھا گیا
اے کاش کوئی روک سکتا وقت کو
ہائے گُزرتا وقت صدیاں کھا گیا
اُس چھاؤں کو ہے آج بھی دل ڈھونڈتا
وہ پیڑ حصے کی خزاں یاں کھا گیا !
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر کشمیر