اس کھنڈر میں کوئی آتا ہے چلا جاتا ہے
دیپ ہر شام جلاتا ہے چلا جاتا ہے
خشک دھرتی پہ کبھی آتا ہے کوئی بوڑھا
پھول کاغذ کے بناتا ہے چلا جاتا ہے
دیکھتا رہتا ہے ساحل پہ اسے پہلے وہ
پھر گھروندے کو گراتا ہے چلا جاتا ہے
ایک انجان سے لڑکے کی خوشی پر بوڑھا
اک تبسم کو جتاتا ہے چلا جاتا ہے
یوں بہانے سے بہاتا ہے وہ اپنے آنسو
کوئی بارش میں نہاتا ہے چلا جاتا ہے
میرے آکاش سے نظروں کو ہٹانے پر وہ
جھیل میں چاند دکھاتا ہے چلا جاتا ہے
کوئی بوڑھا میرے خوابوں میں گرا کر آنسو
اک مکاں مجھ کو دکھاتا ہے چلا جاتا ہے
ایک دھندلی سی وہ تصویر پرانی لے کر
پھر اُسے مجھ سے ملاتا ہے چلا جاتا ہے
وہ نظر آتا نہیں جانے کہاں سے مجھ کو
کوئی آواز لگاتا ہے چلا جاتا ہے
ہر نئی شے پہ وہ کرتا ہے تبسم جیسے
ٹوٹے سامان دکھاتا ہے چلا جاتا ہے
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
غم کے جگنو رات بھر دل میں جگاتا کون ہے
یہ اندھیرا بھی مرا ہم سے بجھاتا کون ہے
عمر بھر تنہائیوں کے درمیاں گُم ہم رہے
تلخ لمحوں کی ہوا زخموں کو بھاتا کون ہے
دل کی وادی میں اُترتی ہے اداسی شام کی
ایسی خاموشی کو جا کر پھر اٹھاتا کون ہے
راہِ الفت کا سفر ہر موڑ پر دشوار تھا
بےوفائی کے سفر میں ساتھ آتا کون ہے
درد کے صحرا میں سبدرؔ ہم اکیلے رہ گئے
دل کے خالی شامیانے کو بساتا کون ہے
سبدر شبیر
[email protected]
میں دنیا کو اب تک سمجھ ہی نہ پایا
تبھی دھوکا ہر ایک سےمیں نےکھایا
شکستہ گھروں کےچراغاں کی خاطر
چراغوں کے ہمراہ خود کو جلایا
ہے اپنی خبر مجھ کو میں صاف دل ہوں
سمجھ کوئی مجھ کو ابھی تک نہ پایا
کیا جس پہ سب کچھ نچھاور ہمیشہ
اسی سے ہی نقصاں بھی اکثر اٹھایا
سناؤں جسےحال میں بے بسی کا
نہیں ایساہمدم نظر مجھ کو آیا
ہوا اب تو رخصت ہےاخلاق ہم سے
سبق ایسا شیطاں نے ہم کو پڑھایا
بھروسہ تو شادابؔ کر لے اُسی پر
کہ ہر اک جہاں کو ہے جس نے بنایا
غلام رسول شاداب
مڑواہ،کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9103196850
عشق میں میں بھی بہت بد نام ہو کر رہ گیا
میرا تیرا ہر فسانہ عام ہو کر رہ گیا
گھر مرا ساحل پہ پھر بھی تشنگی دل میں مرے
دل تری محفل میں خالی جام ہو کر رہ گیا
تو ہی قاتل، تو ہی منصف، تو ہی سب کچھ ہے یہاں
میں تری اُلفت میں اک الزام ہو کر رہ گیا
چاند نکلا، تارے نکلے، پر نہ نکلا تو صنم
سونا سونا میرے گھر کا بام ہو کر رہ گیا
عشق میں تیرے گنوا دی میں نے اپنی زندگی
کیا سبب ہے پھر بھی میں ناکام ہو کر رہ گیا
وہ زمانہ اور تھا اب یہ زمانہ اور ہے
یہ سمجھ لو میں پکا سا آم ہو کر رہ گیا
کیا سناؤں داستاں بسملؔ تجھے اس رات کی
وصل کا قصہ خیالِ خام ہو کر رہ گیا
پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا،ویشالی۔بہار
موبائل نمبر؛8294170464
ہار کر بازی تو سچے ہیں اداس
کیا ہوا آخر کہ جھوٹے ہیں اُداس
آج کل کے فیشنوں کو جان کر
لوگ کہتے ہیں کہ اندھے ہیں اُداس
شادیانے بج رہے تھے کیا ہوا
کیا ہوا کہ سارے چہرے ہیں اُداس
روز جاتے ہیں طوائف کی گلی
جال میں پھنس کر پرندے ہیں اُداس
آپ نے تو جیت لی دنیا سبھی
آپ کیوں کر اور کیسے ہیں اُداس
آپ کے آنے سے رونق تھی بہت
آپ کے جانے سے چہرے ہیں اُداس
بزم سے اٹھ کر میں جب سے آگیا
سنتا ہوں کچھ لوگ تب سے ہیں اُداس
ظلم ہوتا ہے زباں خاموش ہے
ایسے عالم میں تو گونگے ہیں اُداس
چاند کو دیکھا نہیں جب کیا کہوں
ساتھ رہبرؔ کے یہ تارے ہیں اُداس
رہبر ؔگیاوی
بک امپوریم،سبزی باغ،پٹنہ بہار
موبائل نمبر؛9334754862
دو گھڑی کا بھروسہ نہیں
زندگی کا بھروسہ نہیں
دیکھ کر خود کو ایسا لگا
آدمی کا بھروسہ نہیں
سامنے ہو اگر میکدہ
تشنگی کا بھروسہ نہیں
کیا خبر کب لگے بولنے
خامشی کا بھروسہ نہیں
کب تمہیں کس کا ہونا پڑے
عاشقی کا بھروسہ نہیں
دل لگا تو دیا ہے مگر
دل لگی کا بھروسہ نہیں
دل لُبھا لیتی ہے ایک دم
سادگی کا بھروسہ نہیں
اِندرؔ سرازی
ڈوڈہ، جموں کشمیر
موبائل نمبر؛7006658731
میں دل کی بات کہتا ہوں
میرے حالات کہتا ہوں
تیرے اس عشق میں اب سن
میں دن کو رات کہتا ہوں
لو میں نے دل دیا تم کو
تو میں خیرات کہتا ہوں
تو ظالم بے وفا نکلا
تیری اب ذات کہتا ہوں
جو تجھ پر تھا لٹایا دل
میں اس کو ذکات کہتا ہوں
جو تو نے غم دیا مجھکو
میں اس کو حیات کہتا ہوں
تو سن لے اب منیؔ سے بھی
تیری اوقات کہتا ہوں
ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
بھدرواہ، جموں