بلال فرقانی
سرینگر// عیدالاضحیٰ کے موقع پر سرینگر میں قربانی کے جانوروں کے ذبح کے دوران قصابوں کی مبینہ من مانی نے شہریوں کو شدید مشکلات اور اضافی مالی بوجھ سے دوچار کر دیا۔ شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً سیول لائنز میں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ قصابوں نے جانووں کو ذبح کرنے کیلئے اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کیں۔شہریوں کے مطابق عید پر چھوٹے جانوروں کی قربانی کیلئے 2000 روپے سے لیکر 2500 روپے فی جانور کے علاوہ ایک سے دو کلو گوشت من مانے طریقے سے قصابوں نے وصول کیا۔ بعض جگہوں پر اجتماعی قربانیوں کے دوران مجموعی اخراجات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے عام لوگوں کے لیے قربانی کا عمل مہنگا اور مشکل ہو گیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عید کی نماز کے بعد ہی جانوروں کے ذبح کے لیے قصابوں کی تلاش شروع ہو گئی، تاہم طلب زیادہ اور دستیاب قصاب کم ہونے کے باعث صورتحال بگڑ گئی۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ قصاب منہ مانگی رقم کے بغیر خدمات دینے سے انکار کرتے رہے اور بعض علاقوں میں پیشگی بکنگ اور پرچی سسٹم بھی رائج رہا۔کئی شہریوں نے بتایا کہ انہیں مختلف علاقوں میں بار بار قصاب تلاش کرنے پڑے اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض افراد کے مطابق قربانی کے لیے قصابوں کے گروپ سامنے آئے جنہوں نے اپنی مرضی کے مطابق فہرستیں اور باریاں مقرر کیں۔ایک شہری ہلال احمد ریشی نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی 1200 روپے فی جانور کا معاہدہ کیا تھا، لیکن عید کے روز یہی ریٹ بڑھا کر 2500 روپے کر دیا گیا۔ بعض افراد نے قربانی کے دوران 5 بھیڑوں کے ذبح کے لیے 10ہزار روپے تک ادا کرنے کی شکایت بھی کی۔صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحافی نے سماجی وئب سائٹ فیس بُک پر عید الضحیٰ کو تحریر کیا’’ قصاب لاپتہ،کاش میں نے خود ہی یہ ہنر سیکھ لیا ہوتا‘‘۔ سیول لائنز میںکشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرنے والے لوگوں کی فہرست اتنی طویل ہوگئی کہ ہر ایک کی اپنی کہانی اور داستان تھی،گویا یہ لگ رہا تھا کہ قربانی نہیں بلکہ وہ جنگ پر جا رہے ہو۔ عادل احمد نے کہا کہ دن بھر7قصابوں کے پاس جانے کے بعد بھی نمبر نہیں لگا جبکہ میں منہ مانگی رقم دینے کیلئے بھی تیار تھا،اور بالاآخر دوسرے روز ہی قربانی کے جانوروں کو ذبح کیا۔ شہریوں نے بتایا کہ کم از کم سرکار کو چاہے تھا کہ وہ جانوروں کی ذبح کیلئے قیمت مقرر کرتے ہوئے سرکاری طور پر بھی قصابوں کا انتظام کرتے۔