بلال فرقانی
سرینگر// عید الاضحی کے قریب آنے کے ساتھ ہی اتوار کو سرینگر کے مشہور گونی کھن مارکیٹ ،مکہ مارکیٹ اور پائین شہر کے جامع مسجد بازارمیں خواتین کی خریداری کا ایسا رش دیکھنے میں آیا جس نے اتوار کے سنڈے مارکیٹ کے ہجوم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ دن بھر بازار میں گہما گہمی، شور شرابہ اور تہوار کی خوشیوں کا سماں رہا۔خواتین بڑی تعداد میں اپنی عید کی تیاریوں کے سلسلے میں گونی کھن مارکیٹ کا رخ کرتی رہیں، جہاں انہوں نے زیورات، ریڈی میڈ ملبوسات، جوتے اور سینڈلوں کی بھرپور خریداری کی۔ مختلف سٹالوں اور دکانوں پر خواتین کے ہجوم کی وجہ سے چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا۔بازار میں مہندی کے خصوصی اسٹال بھی لگائے گئے تھے جہاں خواتین اور نوجوان لڑکیوں نے ہاتھوں پر خوبصورت مہندی کے ڈیزائن بنوائے، جس سے عید کی تیاریوں کا رنگ اور بھی بڑھ گیا۔ مہندی لگوانے والے ہنرمندوں کے پاس بھی دن بھر رش لگا رہا۔مارکیٹ میں اتنا رش تھا کہ بعض اوقات گاہکوں کو دکانوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم تاجر طبقے کے مطابق اس بار عید کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ نہیں دیکھا جارہا ہے، خاص طور پر خواتین کے ملبوسات، جیولری اور سینڈلز کی مانگ میںکمی دیکھنے کو ملی۔ صرف گونی کھن ہی نہیں بلکہ سری نگر کے دیگر بازاروں جیسے لال چوک، حول، بٹہ مالو ،جامع مسجد اور رعناواری میں بھی عید شاپنگ کا زور رہا۔ ریڈی میڈ گارمنٹس اور جوتوں کی دکانوں پر بھی خریداروں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔لالچوک کے قلب میں واقع معروف مکہ مارکیٹ میں بھی عید الاضحی کے موقع پر خواتین کی بڑی تعداد نے خریداری میں بھرپور شرکت کی۔ دن بھر بازار میں غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا جہاں خواتین نے خریداری کی۔ دکانوں کے باہر طویل قطاریں اور بازار کی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ تاجروں کے مطابق مکہ مارکیٹ میں اس بار خواتین خریداروں کی آمد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ خواتین خریداروں کا کہنا تھا کہ لالچوک کا یہ مرکزی تجارتی مرکز انہیں جدید فیشن اور مناسب قیمتوں کے باعث عید شاپنگ کیلئے ایک اہم انتخاب فراہم کرتا ہے۔ تاریخی جامع مسجد علاقے کے اطراف کی مارکیٹوں میں بھی عید الاضحی کے موقع پر خواتین کی بڑی تعداد نے خریداری میں بھرپور حصہ لیا۔ خاص طور پر کپڑوں، جوتوں، کاسمیٹکس اور روایتی زیورات کی دکانوں پر خواتین کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جہاں دن بھر گہما گہمی اور تہوار جیسا ماحول قائم رہا۔ مقامی تاجروں کے مطابق جامع مسجد بازار میں خواتین خریداروں کی آمد نے کاروباری سرگرمیوں کو نئی جان بخشی ہے، جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس اور دست کاری اسٹالوں پر بھی مسلسل رش برقرار رہا۔ خواتین خریداروں کا کہنا تھا کہ اس مقدس اور تاریخی علاقے میں خریداری کرنا ان کیلئے ایک الگ ہی روحانی اور روایتی تجربہ ہے، جو عید کی تیاریوں کو مزید بامعنی بنا دیتا ہے۔عید الاضحیٰ سے قبل آخری اتوار کے موقع پر شہرکے سنڈے مارکیٹ میں خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جس کے باعث شہر کے اہم تجارتی اور ٹریفک نظام پر دباؤ بڑھ گیا۔ ٹی آر سی سے لے کر پولو ویو تک سڑک پر شدید ہجوم اور گاڑیوں کی طویل قطاروں کے سبب ٹریفک مکمل طور پر متاثر رہا اور کئی مقامات پر راستے عارضی طور پر بند ہوگئے۔معروف بیکری دکانوں پر بھی غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا جہاں عید کیلئے مخصوص کیک، نمکین و میٹھے بسکٹ ،مٹھائیاں اور دیگر پکوانوں کی خریداری زوروں پر رہی۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عید کے قریب آتے ہی کاروبار میں اضافہ ہوا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید رش متوقع ہے،تاہم گزشتہ برسوں کے مقابلے میں خریداری کم ہے۔مجموعی طور پر سرینگر کے بازار اس وقت تہوار کی رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، جہاں ہر طرف عید کی خوشیوں، خریداری اور گہما گہمی کا سماں قائم ہے۔
عید کی رونقیں عروج پر | سرینگر کے بازاروں میں خواتین کا غیر معمولی رش