بلال فرقانی
سرینگر// عیدالفطر میں محض چند دن باقی رہ جانے کے پیش نظر وادی میں دگر گو موسمی حالت کے بیچ بازاروں میں خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں لوگ عید کی تیاریوں کے لیے کپڑے، مٹھائیاں اور دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے میں مصروف ہیں۔سری نگر سمیت مختلف قصبوں میں ریڈی میڈملبوسات کی دکانیں، بیکریاں، فروٹ اسٹالوں اور گوشت،مرغ، و دودھ کی مصنوعات فروخت کرنے والے مراکز پر خاصی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند روز سے بارشوں کی وجہ سے اگرچہ خریداری متاثر ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود خریداروں کی اچھی خاصی تعداد بازاروں میں نظر آرہی ہے۔تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ آن لائن خریداری کے بڑھتے رجحان نے ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔لالچوک کے مقامی تاجر فرحان کے مطابق ای کامرس پلیٹ فارموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے سستے داموں اشیاء فروخت کرنے والے عارضی تاجر ان کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بڑی مقدار میں سامان خرید کر کم منافع پر فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے گاہک سستی اشیاء کو ترجیح دیتے ہیں، اور روایتی دکاندار مقابلہ نہیں کر پا رہے۔
بیکری مالکان نے بھی کاروبار کو بہتر قرار دیا، تاہم انہوں نے’’کلاؤڈ کچنز‘‘ کے بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کی۔قمرواری میںبیکری فروش عمر حیات مطابق گھریلو سطح پر کام کرنے والے یہ کاروبار کم لاگت کے باعث سستی اشیاء فراہم کرتے ہیں اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی دیتے ہیں۔دوسری جانب کلاؤڈ کچن چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کا دار و مدار صارفین کے اعتماد پر ہے اور اگر معیار بہتر نہ ہو تو گاہک دوبارہ خریداری نہیں کرتے۔ماہرین کے مطابق وادی میں عید کی معیشت کا حجم تقریباً 1500 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جہاں روایتی کاروبار کے ساتھ ساتھ نئے رجحانات نے مسابقت کو مزید تیز کر دیا ہے۔خریداروں نے قیمتوں میں اضافے پر تشویش بھی ظاہر کی، خاص طور پر کپڑوں، مرغ اور گوشت کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے بھیڑ بھاڑ والے بازاروں میں ٹریفک اور سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔دریں اثناء ادی میں گذشتہ کئی روس سے لوگ خراب موسم کے چلتے عیدگاہوںمیں نماز عیدالفطر کے بڑے اجتماعات ممکنہ طورپرنہ ہونے سے مایوس ہیں اور لوگ عیدکے دن خوشگوار موسم رہنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔لوگوںنے کہاکہ یہ اللہ کی آزمائش یاتنبیہ ،ہم نہیں جانتے ،کیونکہ عیدکے موقعہ پر بڑے اجتماعات کااہتمام اور ہزاروں ولاکھوں لوگوں کاایک ساتھ نماز عیداداکرنا بھی اللہ کی ایک رحمت اوربرکت ہے اور اگر موسم ابتررہاتوہم اس رحمت اوربرکت سے محروم رہیں گے ،جوشاید ہمارے لئے ایک تنبیہ ہے کہ ہمیں دین کی پاسداری کرنی چاہئے اور دنیاوی مصروفیات میں غرق ہوکر اللہ اور اُنکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات ،ہدایات اور فرمودات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔