وزیراعظم نر یندرمودی نے علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کی صد سالہ تقاریب کا افتتاح کر تے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، اس کا ملک کے مختلف طبقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم نے واقعی اس یاد گار موقع پر دل کو چھولینے والی باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایک سو سالہ تعلیمی خدمات کو کھلے دل کے ساتھ سراہتے ہوئے کہا کہ علم و دانش کے اس گہوارے نے گزشتہ 100برس کے دوران ایسی عظیم شخصیتوں کو پیدا کیا جنہوں نے ساری دنیا میں ہندوستان کے نام کو روشن کیا اور آج بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنا کلیدی رول ادا کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اے ایم یو کو ـمِنی انڈیا سے تعبیر کر تے ہوئے علم و دانش کے اس مرکز کو ملک کا قابلِ فخر ورثہ اور گنگا جمنی تہذیب کا مسکن بھی قرار دیا۔ وزیراعظم نے منگل (22؍ ڈسمبر ) کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی صدسالہ تقاریب کا افتتاح کر تے ہوئے اپنے خطاب میں سر سید کے اس بیان کو یاد کیا کہ : اپنے وطن سے لگاؤ رکھنے والے کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کی بہبود کے لئے کام کرے : سر سید کے آباد کئے ہوئے چمن کو سر سبز و شاداب ہوتے دیکھ کر ملک کے وزیراعظم متا ثر ہوتے ہیں اور اس کی 100سالہ خدمات کاا عتراف کر تے ہوئے اس کی دیرینہ روایات کی پاسداری کا عہد کرتے ہیں اور اسے ملک اور قوم کا ایک نا قابلِ فراموش اثا ثہ قرار دیتے ہیں تو یہ بات ملک کے تمام ہی افراد اور خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے لئے باعث اطمینان اور باعثِ مسرت ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب کے افتتاح کے مو قع پر کیا جانے والا وزیراعظم نریندمودی کا خطاب ، اس جامعہ پر لگنے والے ان تمام الزامات کی تردید کر دیتا ہے جو کئی دہوں سے فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے لگائے جا رہے ہیں۔ آزادیِ وطن کے بعد سے ہی علی گڑھ مسلم ینیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے اقلیتی کردار کو ختم کر نے کی کو شش کی گئی۔ حالیہ عرصہ میں محمد علی جناح کی فوٹو کولے کر ایک ہنگا مہ کھڑا کیا گیا۔ مسلم یونیورسٹی کو دہشت گردوں کا اڈہ بھی قرار دیا گیا۔اور اب بھی کسی نہ کسی عنوان سے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ سال جو احتجاج منظم کیا گیا تھا اس کے بعد سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی فرقہ پرستوں کی زد میں رہی ہے۔
اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کی شبیہ کو مسخ کر نے میں ہمیشہ آ گے رہے ہیں۔ جب سے یوگی کو یوپی میں اقتدار ملا ہے وہ ہندو۔ مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا ہر حربہ استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کے خلاف بھی زہریلا پروپگنڈا شروع کر دیا ہے۔ اب جب کہ خود وزیراعظم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کر تے ہوئے یہ کہہ دیا کہ یہ یونیورسٹی خالص ہندوستانی مزاج کی عکاسی کرتی ہے اور نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی اپنے اندر صلا حیت رکھتی ہے یوگی جیسے افراد اپنے لیڈر کی تقلید کرتے ہوئے مسلم یونیورسٹی کے تعلق سے اپنے شاکلہ ذہنی (Mind Set) کو بدلنا ضروری ہے تاکہ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی ملک اور قوم کی تعمیر کے سفر کو مزید تیز گامی سے طے کر سکے۔ آزادی کے بعد سے بھی اگر یو نیورسٹی کی تعلیمی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے ہر شعبہ حیات میں یہاں کے فارغِ التحصیل طلباء نے اپنے مادر علمی کا نام روشن کرتے ہوئے ملک و قوم کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس یونیورسٹی کے سپوت ملک کے صدر جمہوریہ، نائب صدر جموریہ، ریاستوں کے گورنراور چیف منسٹر، سپریم کورٹ اور ریاستوں کی ہائی کورٹ اور بیرونِ ملک کے سفیروں جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آج اگر وزیراعظم اس جامعہ کے حق میں رطب اللسان ہیں تو وہ اس وجہ سے کہ تاریخی حقیقتوں سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔ مدرستہ العلوم کے قیام سے لے کر محمڈن اورینٹل کالج کے قائم ہونے تک سرسید احمد خان نے اپنا جو خونِ جگر لگایا تھا اور جس اخلاص کے ساتھ تاریخ کے نازک ترین دور میں ملت اسلامیہ کی کشتی کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کرکے اسے زمانے کے طوفان کی نذر نہ ہونے دیا تھا اس کا تقا ضا تھا کہ سر سید کا لگایا ہوا چھوٹا سا پودا ایک سایہ دار شجربن کر ساری انسانیت کے لئے فیضان رسانی کا ذریعہ بنے۔آج سو سال بعد بھی علم و دانش کا یہ مرکز لاکھوں تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے میں لگا ہوا ہے۔
56برس کے طویل وقفہ کے بعد ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے مسٹر نر یندر مودی کو یہ اعزازحاصل ہوا کہ وہ عالم گیر شہرت رکھنے والی یو نیورسٹی کی ایک یاد گار تقریب سے خطاب کریں۔یہ بات بھی خوش آ ئند رہی کہ وزیراعظم نے اس تاریخی موقعہ کا فا ئدہ اٹھاتے ہوئے جو باتیں بیان کیں ہیں اس سے بلا شبہ مسلم یونیورسٹی کے تئیں ان کے نیک جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے لب و لہجہ سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ وہ سر سید کے لگائے ہوئے باغ کی نگہبانی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔ وزیراعظم کا علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کی صد سالہ تقریب سے ایک ایسے وقت خطاب ہوا ہے جب کہ مودی حکومت کے بہت سارے غلط اقدامات کی ضرب ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑ تی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیور سٹی کے طلباء کو جس انداز میں بدنام کیا گیا اور پھر بعد میں دہلی فسادات میں انہیں ماخوذ کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اس سے مسلمانوں کے تئیں مودی حکومت کے مذموم عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔ اس منفی پروپگنڈا کے بیچ وزیراعظم جب یہ کہتے ہیں کہ مسلم یونیور سٹی ایک چھوٹا ہندوستان ہے اور جہاں کے طلباء پوری دنیا میں بھارت کی ثقا فت کی تر جمانی کر تے ہیں تو وزیراعظم کے یہ جملے ان فرقہ پرست طا قتوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ مسلم یونیورسٹی دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے اور جہاں سے ہندوستان کے ٹکڑے کرنے والے گینگ نکل رہے ہیں۔ جب کبھی ملک پر کوئی آ فت آ تی ہے ملک کی فضاؤں میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے اور اس میں مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کو بھی گھسیٹ لیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی کے اس خطاب کے بعد اب کم از کم نئی شروعات کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ وطن عزیز میں بھائی چارے کا ماحول بنا رہے اور ملک کا ہر تعلیمی ادارہ سیاست کی آلودگیوں سے پاک رہ کر قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کر سکے۔ ملک کے حکمرانوں میں سیاسی عزم ہو تو ہر تفرقہ پسند طاقت کو کچلا جا سکتا ہے۔ حکمرانوں میں قوتِ ارادی کی کمی نے اس ملک میں ایسی طاقتوں کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا جو ملک اور قوم کے لئے ایک کینسر ثابت ہوئیں۔ آج جب کہ ہندوستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے وزیراعظم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تاریخی رول کو سراہتے ہوئے یہ پیام دیا ہے کہ اس ملک کی تعمیراور ترقی میںہر طبقہ کا کلیدی کردار رہا ہے اگر کوئی اسے نہیں مانتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ سر سید نے ایک عظیم خواب کو لے کر اپنی تحریک کو شروع کیاتھا، انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے بچوں کے ایک ہاتھ میں فلسفہ اور دوسرے ہاتھ میں سائنس اور سر پر لا الٰہ الا اللہ کاتاج دیکھنا چا ہتا ہوں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے بھی مارچ 2018میں دہلی وگیان بھون میں ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا تھا کہ میں مسلم نوجوانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتا ہوں۔ سر سید اور وزیراعظم کا جذبہ نیک ہے۔ سر سید اپنا مشن پورا کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ، وزیراعظم اپنے جذبہ کے تئیں مخلص ہیں تو تو انہیں ان کے مشن سے کوئی روک نہیں سکتا ہے۔اس کے لئے خوش بیانی سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔