عظمیٰ نیوزسروس
حیدرآباد//علم سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔تعلیم و تعلم ،درس و تدریس دیگر امور کی طرح فطری طور پر تبدیلیوں کو قبول کر تے ہوئے نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نت نئے طریقوں کو روبہ عمل لانے کا نام ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن ،شیخ الجامعہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذۂ اردو ذریعۂ تعلیم کے دوروزہ ورکشاپ بعنوان اختراعی طریقہ تدریس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شہر حیدرآباد کے مختلف اسکولوں سے 50 سے زائد اساتذہ نے اس پروگرام میں شرکت کررہے ہیں۔مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ایم ونجا،ڈین ،اسکول برائے تعلیم و تربیت ،مانو نے پہلے تکنیکی سیشن میں’’ تفتیش پر مبنی طریقہ تدریس ‘‘کے حوالے سے گفتگو کی۔دوسرے تکنیکی سیشن میں ڈاکٹر شیخ وسیم ،اسو سی ایٹ پروفیسر،ڈی ڈی ای،مانو نے ’’ترمیم شدہ مفید اکتساب ‘‘ کے عنوان سے سر گرمیو ںکے ذریعہ اساتذہ کو روشناس کرایا۔ پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی،ڈائرکٹر ،مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذۂ اردو ذریعۂ تعلیم نے شرکا کا استقبال کیا اور تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ ڈاکٹر محمد اکبر اور ڈاکٹر افروز ظہیر ،اسسٹنٹ پروفیسرس ،سی پی ڈی یو ایم ٹی نے مختلف اجلاسوں میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔