بانہال// علامہ محمد اسماعیل اثری کی اچانک موت پر اظہار تعزیت پیش کرتے ہوئے تحصیل صدر جمعیت اہلحدیث بانہال شیخ ظہور احمد سلفی نے کہا ہے کہ استاذ الاساتذہ علامہ محمد اسماعیل اثری کی موت قوم وملت کے لئے ایک بڑا سانحہ ہے اور صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے جمعیت میں جو خلاء پیدا ہوا ہے جس کی بھرپائی کرنا بہت مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اثری یک مفکر، دانشور،محقق، اور صف اول کے ممتاز عالم دین تھے اور دعوت وتبلیغ اور تعلیم وتربیت اور تحقیقات میں اپنی پوری زندگی صرف کی۔ وہ اپنے آپ میں ایک تحریک ہی نہیں بلکہ قوم کے معمار ، علم و عمل اور رب کی واحدانیات کے علمبر دار بھی تھے اور اپنے معاشرے اور سماج کی تعمیر و تجدید کیلئے اس فانی اور ناپائید دنیا میں اپنی حیاتی تک مصروف عمل رہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کو اپنی حیات تک اپنی قوم وملت کی تعمیر وترقی اور علم و عمل کی فکر دامن گیر تھی ار وہ شاگردوں کی ایک بڑی تعداد کو عرب وعجم میں چھوڑ گئے ہیں۔ مرحوم کی زندگی کا ہر ورق علم وعمل سے مزین ہے اور اس کا اثر رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ ظہور احمد سلفی نے کہا کہ علم وادب کا یہ آفتاب چار سوں روشنی بکھیرتا ہوا خالق حقیقی سے جا ملا اور ہم سب کو مغموم چھوڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ کی موت پر پوری جمعیت بالعموم اور تحصیل بانہال اور پوگل پرستان بالخصوص غم سے نڈھال اور ملول ہیں اور علامہ کے شاگردوں کی آنکھیں ابھی بھی نمناک اور اشکبار ہیں۔ شیخ ظہور احمد سلفی نے مولانا محمداسماعیل اثری کو مستند اور معروف عالم دین، شیخ المشائخ ،داعی حق،فن خطابت میں ممتاز،صحافت کے شہسوار،بہترین زبان دان ، بہترین ادیب، قلمکار، کالم نویس ،مقالہ نگار، مترجم ،تالیف و تصنیف کے ماہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے وہ ناظم الامور، درس وتدریس اورتعلیم وتعلم اور تعمیر وتجدید میں نمایاں کام انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اپنی ناقابل فراموش علمی خدمات کی وجہ سے نہ صرف ریاست بلکہ بیرون ریاست اور بیرون ممالک میں بھی عزت ووقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت اہلحدیث تحصیل بانہال مرحوم کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور دلی اظہار تعزیت بھی پیش کرتی ہے اور دعا گو ہیں کہ مرحوم کی دینی وفلاحی خدمات اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور جنت میں ان کے درجات بلند کرے اور ان کے حسنات اللہ کے حضور ان کی نجات اور درجات کا باعث بنے۔ ادھر بانہال کے نیل علاقے سے تعلق رکھنے والے ادیب اور سماجی کارکن محمد ابراہیم سوہل نے کشمیر عظمیٰ کو بھیجی اپنی ایک تحریر میں کہا ہے کہ مولانا محمد اسماعیل اثری علم و دانش کے ایک گنج گرانمایہ تھے جن کی زندگی کی ہر ساعت دامن باطل کو تار تار کرنے میں صرف ہوئی۔علاقہ پوگل پرستان کے ملیگام سے تعلق رکھنے والے اس سپوت کا منفرد کردار اپنے آپ میں ایک مکمل تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے کہ توحید کے اس نیر تاباں سے نکلنے والی کرنوں کی حرارت نے بدعات و خرافات کے وجود نجس کو خاکستر کیا ہے اور اسلامی معاشرے کی فکری تجدید میں ایک نئی روح پھونک دی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد اسمعیل اثری کا آفتاب حیات غروب ہونے کی وجہ سے دل مغموم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم اثری کی خدمات کا سلسلہ طویل بھی ہے اور معتبر بھی اور خیر امت سے وابستہ ایسے کرداروں کی عدم موجودگی میں روحا نیت کے چراغ گل ہوجاتے ہیں اور معاشرہ ایک جسد بے روح کی طرح انسانیت کے لئے بدنما داغ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مرحوم کی خدمات کو خلوص دل سے سلام پیش کرتے ہیں اور مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہم بھی اپنی حیات مستعار کے اس مختصر سفر میں اپنے میزان حسنات میں اضافہ کریں تاکہ ہم بھی خیر، امت محمدی صل اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں شمولیت کا شرف حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم محمد اسماعیل اثری کا داغ مفارقت بڑی دیر تک اذیت دیتا رہیگا اور ہم سب اہلیاں نیل اس رنج و الم کی ساعت میں مرحوم کے پسماندگان کے غم میں برابر شریک ہیں اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ پسماندگان کو اس دکھ ، کو صبر کے ساتھ جھیلنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے۔