گذشتہ دنوں امام حرم نبوی، مدینہ یونیورسٹی میں قرآن کالج کے سابق پروفیسر شیخ علی بن عبد الرحمن الحذیفی کے انتقال کی خبر اڑا دی گئی۔ لیکن جب وہ مسجد نبوی میں جمعہ کے خطبے کے لیے تشریف لائے تو لوگ حیران رہ گئے اور پھر لوگوں کو سمجھ میں آیا کہ یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی۔یہ بھی بتایاگیا کہ شیخ موصوف کے انتقال کی افواہ بارہا اڑائی گئی اور ہر بار رب العالمین نے آپ کو ارمغان حیات سے نوازا۔
در اصل بڑی شخصیات کے ساتھ ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ ان کے انتقال کی افواہ اڑا دی جاتی ہے۔کئی وجوہات کے سبب ایسا ہوتا ہے جن کے ذکر کی یہاں مناسبت نہیں۔ ہر چند کہ امام حرم اور ادیبوں میں کوئی نسبت نہیں بنتی لیکن شخصیات کی عظمت کے وجہ شبہ سے استفادہ کرتے ہوئے میں یہاں انیس منصور کی کتاب ’’معنی الکلام‘‘ سے یہ بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ مصر کے مشہور ادیب ، ادب عربی کے عمید ڈاکٹر طہ حسین کے بھی انتقال کی خبر اڑا دی گئی تھی۔ انیس منصور کہتے ہیں کہ اخبار والے نے مجھ سے طہ حسین کے بارے میں میرے تاثرات پوچھے تو میں نے بہت تفصیل سے ان کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ طہ حسین اسی سال پیدا ہوئے جب عقاد، مازنی، عبد الرحمن رافعی، ہٹلر، نہرو، مارسل، ہیڈگر، چارلی چیلن، ککٹو، اخمے ٹووا جیسے عظیم شاعر اور ادیب پیدا ہوئے تھے۔ انیس منصور کہتے ہیں کہ فجر کے وقت مجھے پتہ چلا کہ وہ خبر درست نہیں ہے چنانچہ میں نے اخبار والے کو فون کیا اور کہا کہ میرے تاثرات کا عنوان بدل دیا جائے جس سے یہ نہ معلوم ہو کہ ان کے وفات پر یہ تاثرات ہیں۔ اور پھر طہ حسین کے سکریٹری کو فون کیا کہ یہ مضمون انہیں نہ سنائیں لیکن طہ حسین صبح ہی اخبار میں میرے تاثرات پڑھ چکے تھے۔ انہوںنے فون کیااور انیس کو خوب باتیں سنائیں۔
امریکی ادیب ہمینگوئے نے بھی اپنی موت کی خبر پڑھی۔ ہوا یوں کہ جس جہاز سے وہ جارہا تھا وہ کریش کرگیا۔ اس کے علاوہ کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچا۔ لیکن لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم نہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ باقی ماندہ مسافر وں کے ساتھ وہ بھی جاں بحق ہوگیا۔اور پھر لکھ دیا گیا کہ فلاں ادیب بھی اسی جہاز کے سقوط میں لقمۂ اجل بن گیا۔اسی طرح برٹرینڈ رسل جیسے فلسفی کے موت کی خبر بھی برطانوی اخبارات نے اڑا دی تھی۔جب کہ وہ زندہ تھا۔
عبد الرحمن شکری مصر کا بہت بڑا ادیب اور شاعر تھا۔ مصر کے مشہور ادیب، شاعراور نقاد عباس محمود عقاد کے ساتھ مل کر اس نے ’’مدرسۃ الدیوان‘‘ جیسے نتقیدی مکتب فکر کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ کئی برس لوگوں سے مخفی رہا تو لوگوں نے مشہور کردیا کہ اس نے خود کشی کرلی۔ کسی نے کہا اس کی وفات ہوگئی ہے۔عبد الرحمن شکری نے اپنے بارے میں لکھی گئی طرح طرح کی کہانیاں خود پڑھیں تو اسے بے انتہا تکلیف ہوئی۔بعد میںلوکوں کو معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے۔اور پھر اس کا انتقال ہوا۔ انیس منصور کہتے ہیں کہ شکری کے انتقال کے بعد میں نے عباس محمود عقاد کو فون کیا تو وہ رو رہے تھے۔ میں فون پر ان کے رونے کی آواز سن رہا تھا۔ انہوں نے فون پر ہی شکری کے بارے میں برجستہ شعر کہے۔ میں بھی ان کو مغموم دیکھ کر غم والم کا شکار ہوگیا۔(معنی الکلام)
گذشتہ دنوں مشہور اردو شاعر منور رانا کے انتقال کی افواہ بھی اڑائی گئی تھی۔ اسی طرح ایک مرتبہ مشہور انگریزی ادیب خشونت سنکھ کے انتقال کی بھی افواہ اڑائی گئی اور انہیں سامنے آکر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑاتھا۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی کی وفات کی بھی خبر احباب نے اڑادی تھی۔ لوگوں نے ان کے لیے جس تعزیتی اجلاس کا اہتمام کیا تھا اتفاق سے جگر صاحب اسی تعزیتی اجلاس میں کہیں سے آدھمکے اور یوں لوگوں کو معلوم ہوا کہ جکر صاحب تو با حیات ہیں۔
موت تو ایک اٹل حقیقت ہے۔ایک دن سب کو مرنا ہے لیکن جان بوجھ کر کسی کی موت کی غلط افواہ اڑانے والے دماغی دیوالیہ پن کا شکار ہوتے ہیں۔ یا کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کے زیادہ دن روپوش ہوجانے سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کا انتقال ہوگیا۔ لیکن بغیر تحقیق کے اس طرح کی خبروں کی نشر واشاعت نہیں کرنی چاہیے۔آپ سوچئے کہ جس زندہ شخص کی وفات کی خبر اڑائی جاتی ہے آخر اس پر، اس کے اہل خانہ پریا اس کے معتقدین پر کیا گزرتی ہوگی۔ لوگوں کو اس طرح کی اوچھی حرکتیں کرنے سے باز رہنا چاہیے۔اور بغیر تحقیق کے ایسی خبروں کی نشر واشاعت سے باز رہنا چاہیے۔اللہ بس باقی ہوس!
رابطہ۔صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر۔9086180380