پوری دنیا میںمارچ کی 8 تاریخ کو یومِ خواتین یا یوم حقوقِ خواتین (International Women's Rights Day) کے طور پرزور و شور سے منایا جاتا ہے ۔ مختلف خطوں سے اس روز مختلف انداز میں عورتوں کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے ،مجلسیں منعقد ہوتی ہیں،قصیدے پڑھے جاتے ہیں جبکہ در حقیقت اس رنگین اور خوشنما پردے کے پیچھے خواتین کی آزادی کے نام پر عورت کے احترام کی نفی اوربدستور اس کا استحصال ہو رہا ہے ۔ بے شرمی کے اس دور میںاس روز عورت کو سرِ عام بازاروں میں ’’ مارچ ‘‘ کروایا جاتا ہے۔ اصل میں عورتیں اس دن کیا چاہتی ہے، انہیں بازاروں میں اپنی آواز کیوں بلند کرنی پڑتی ہے، یہ اہم سوالات ہے؟ آج مغربی نظریہ رکھنے والے لوگ یہ وکالت کرتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو پردے سے قید کر رکھا ہے ۔ اُس کی کُھلے عام گھومنے کی آزادی سلب کی ہے ۔ جو لوگ زرو و شور سے عورتوں کو بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ اس مسلمہ حقیقت سے بالکل نا آشنا ہیں کہ عورتوں کا جسمانی نظام، مزاج، طبیعت اور اُن کی فکری صلاحتیں مردوں سے کافی مختلف ہیں ۔
خواتین کے قومی کمیشن (National Commission for Women) کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سنہ ۲۰۲۱ء میں مختلف نوعیت کی 30865 شکایتیں درج ہوئی ہیں جن میں خواتین کی عزتِ نفس کےساتھ کھلواڑکے 35فیصد،گھریلو تشددکے21فیصد اور جہیز کے15فیصد معاملات ہیں۔ یہ اعداد و شمار سنہ ۲۰۲۰ء کے مقابلے میں 30 فیصدبڑھ چکے ہے ۔ نیشنل کمیشن ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سنہ ۲۰۱۹ء کے مقابلے میں سنہ ۲۰۲۰ء میں عورتوں کے متعلق مختلف نوعیت کے جرائم میں 11 فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔ جن میں عفت و عصّمت پر حملے، شوہروں کےہاتھوں تشدد، اغوا کاری اور خودکشی جیسے واقعات درج ہیں ۔
حالانکہ نئے فیشن نے عورتوں کو مردوں اور مردوں کو عورتوں کی طرح نا شائستہ لباس پہننے کی جو آزادی دی ہے ،وہ انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے ۔ اسلامی نقطہ نظریہ سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کو دو بڑے شعبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔
(۱) اندرون خانہ یعنی امور خانہ داری کا تعلق عورتوں سے ہے (۲) بیرون خانہ یعنی کسبِ معاش کا تعلق مردوں سے ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’مرد۔عورتوں پر ذمہ دار، محافظ و منتطم ، قوام ، نگران ، حاکم ، سرپرست ، افسر ہیں ‘‘۔ (النساء؛ ۳۴)مذکورہ آیت مبارکہ کے مطابق مرد کو عورت کی حفاظت و نگہبانی اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ اس طرح کسبِ معاش کی فکر سے عورت کو پہلے ہی آزاد کر دیا گیا ہے ۔ اسلام نے بنتِ حوا کو ہر حیثیت سے ایک منفرد مقام عطا کیا ہے ۔ بحیثیت بیوی تو گھر کی ملکہ بنایا، بحیثیت بیٹی تو والدین کے لیے سراپا رحمت، بحیثیت بہن تو بھائی کی وفا شعار اور بحیثیت ماں تو جنت کا ذریعہ بنایا ہے ۔اسلامی تاریخ میں متعدد مسلمان عورتیں عموماً اور بالخصوص صحابیات ؓ کا تذکرہ ملتا ہے جو امور خانہ داری کے علاوہ تجارت، زراعت، درس و تدریس، دستکاری، طب، کاشتکاری وغیرہ جیسی مختلف کسبِ معاش کی سرگرمیوں میں حصّہ لیتی تھیں ۔ جن میں حضرت خدیجہؓ کی تجارت کا واقعہ ہر ذہن میں موجود ہے ۔ اسی طرح حضرت اسماءؓ بنت عکرمہ اور حضرت خولہ بنت قیسؓ (عطر کا کاروبار)، حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خالہ (زراعت کے ساتھ وابستہ )، حضرت زینبؓ (کاریگری)، حضرت سودہؓ (دستکاری) حضرت عائشہؓ (خطیبہ، طبیبہ، درس و تدریس)، حضرت رفعیدہ بنتِ سعدؓ (طب) قابل ذکر ہیں ۔ الغرض ایک عورت اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی پسند اور صلاحیت کے مطابق ذریعۂ معاش اختیار کر سکتی ہے ۔
آج کل مغربی معاشرے میں رہنے والی عورتیں، مردوں کے ساتھ اپنی آواز ملا کر مطالبہ کرتی رہتی ہے کہ مسلم خواتین کو حقوق دیے جائیں ۔ جبکہ انہیں اپنے معاشروںنے محض ایک بازاری شئے بناکے رکھ دیا ہے۔ آج بھی عورتوں کو اسمگل کر کے خرید و فروخت کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جسم فروشی کے اڈے چلا رہے ہیں ۔ عریانت و اخلاقی بے راہ روی بامِ عروج پر ہےاور یہ گناہوں کا ایک سیکٹر بن چکا ہے ۔ یہ سارا طرز عمل مغرب کا دِکھایا اور سکھایا ہوا کھیل تماشہ ہی تو ہے جس میں عورتوں کو دل فریب کھلونے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ فن و ثقافت کے خوب صورت پردوں میں اُس کا اِس قدر استحصّال کیا جارہاہے کہ عملاً وہ جنس کے متلاشیوں اور کارباریوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ گئی ہے، جس کا اُنہیں بھی احساس نہیں ۔
اسلام نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اُنہیں غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر دیا ہے ۔ اسلام نے انسان کو عموماً اور خواتین کو خصوصاً جو حقوق عطا فرمائے ہیں وہ دنیا کے کسی بھی مذہب نے نہیں دیے ہیں ۔ نبی آخر الزمان حضرت محمد ؐ نے عورتوں کو بلند و بالا مقام عطا فرمایا ہے ۔ آپ ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر عورتوں کے معاملہ میں فرمایا’’ اور عورتوں کے سلسلہ میں تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے امان اور عہد سے اپنے عقد میں لیا ہے‘‘ ۔ (سُنن ابن ماجہ؛ 3074)
موجودہ دور میں ایسی کئی مسلمان عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کر کے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ عورت اسلام کے اندر پردے میں رہتے ہوئے بھی بالکل آزاد و محفوظ ہیں ۔ پردے میں خواتین کو محکوم، مظلوم اور مجبور قرار دے دینا نادانائی ہے ۔ یمنی صحافی 'توکل کرمان عرب دنیا کی پہلی خاتون ہے ،جس کو سنہ ۲۰۱۱ء میں نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا ہے ۔ آپ نے پردے پر سوال اٹھانے والوں کی عقل کا تالا کُھول دیا۔ آپ نے پردے کے دفاع میں کہا’’ ابتدائی دور میں انسان بالکل ننگا تھا جیسے جیسے اس کی ذہنی صلاحیت بڑھتی گئی تو اس نے کپڑے پہننا شروع کیے ۔ آج میں جو کچھ ہوں اور جو پہن رہی ہوں، یہ بلند سوچ اور تہذیب و تمدن کی اعلیٰ ترین سطح کی عکاسی کرتا ہے جو انسان نے حاصل کیا ہےاور یہ رجعت پسندی نہیں ۔ اب ایک بار پھر جسم سے کپڑے ہٹاکر جنگلی زندگی جینے کی ترغیب دی جارہی ہے جو رجعت پسندی ہے ‘‘۔
حال ہی میں فلمی دنیا کی چمک دمک اور دلفریب دنیا کو الوداع کہنے والی مہ جبیں صدیقی اسلامی طرز زندگی اپنانے لگی ہے ۔ اِس سے پہلے مشہور اداکارہ ثنا خان اور زائرہ وسیم نے فلمی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا ۔ ثنا خان، مفتی انس کے ساتھ اسلامی طرز زندگی گزارتی ہوئی خوش نظر آرہی ہے اور وہ اس وقت مسلمان خواتین کے اندر داعیانہ کردار ادا کر رہی ہے ۔ آپ نے حال ہی میں 'حیا برانڈ کے نام سے مسلمانوں کے لیے شریعت کے مطابق لباس کی تجارت شروع کی ہے ۔ زائرہ وسیم کا ماننا ہے کہ وہ فلم سیکٹر میں رہ کر اسلام سے کافی دور ہوتی جا رہی تھی، اس لئے اس کام سے توبہ کر گئی ۔مہ جبیں صدیقی کا کہنا ہے کہ " اس کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود بھی پریشانی تھی اور سکون کی متلاشی تھی ۔ اللہ کی نافرمانی کرکے انسان کو کبھی سکون حاصل نہیں ہو سکتا ہے" ۔ اب یہ تینوں باپردہ اللہ والی بیٹیاں بن گئی ہیں اور پاکیزہ خیالات کی زندگی گزارنے لگی ہیں ۔ انہوں نے حقیقت کو سمجھ لیا ہے اور وہ عارضی رنگین دنیا سے ابدی اور اصلی زندگی کی طرف لوٹ آئیں ہیں ۔ہمارے یہاں متعدد عورتیں اپنے گھروں میں اپنی پسند کے مطابق مختلف ذریعۂ معاش کرتی ہوئی بااختیار عورت (Women Empowerment) بنی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔آزادئ نسواں کے نام پر عورت کو کبھی مس یونیورس ( Miss Universe) ، کبھی مس ورلڈ (Miss World) اور کبھی مس پلائینٹ (Miss Planet) جیسے نام دے کر دلفریب القاب سے نواز کر یہ باور کرا دیا گیا کہ صدیوں کی غلامی کے بعد اسے آج آزادی ملی ہے ۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کیا آزادی یہی ہے کہ عورت اجنبی مردوں کی ہوس بھری آنکھوں کے سامنے کُھل کے ناچنے اور گانے لگیں ؟ کیا آزادی یہی ہے کہ اس کے نازک جسم کو بے پردہ کرکے عریانیت کو فروغ دیا جائے ؟ کیا آزادی یہی ہے کہ عورت کو ڈانس کلبوں میں نچایا جائے؟ کیا آزادی یہی ہے کہ عورت کو اجنبی مردوں کے ساتھ نائٹ شفٹ میں کام کرنے کےلئے رکھا جائے ؟ جس کے نتیجے میں گھر کا نظام تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس کے برعکس دین ِاسلام کا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ خواتین کے حوالے سے ہماری سوچ و ہمارے خیالات اور اُن کے احساسات و طرزِ زندگی میں بہتری لائی جائے تاکہ معاشرے میں عورت کا مقام بلند تر کیا جائے ۔
الغرض آج کے جدید دور میں خواتین کی جس طرح تذلیل کی جاتی ہے، اور انہیں حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، وہ سماج کے لیے ایک المیہ ہے۔ آج ملت اسلامیہ کی بیٹیاں مایوسی اور محرومی کی شکار ہیں ۔ جہیز جیسی رسم کے نام پر آئے روز بیٹیوں کا جینا حرام کیا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض لوگ اُسے تعمیرات، زرعی زمین، باغات و دیگر وراثتی حصّے سے بھی محروم کررہے ہیں ۔ عورت کی مقصدِ تخلیق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کیا جائے ورنہ دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ – 9858109109)