اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کیں جن میں زمین، باغات، کھیت و کھلیان بھی قابل تشکر ہیں جن سے انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت وادی کشمیر کے چاروں اطراف و اکناف میں فصل کی کٹائی ہو رہی ہے۔کہیں دھان کی فصل کاٹی جا رہی ہے تو کہیں اخروٹ، سیب وغیرہ جیسے خشک و تازہ پھلوں کو اتارا جارہا ہے۔
اسلام کے اقتصادی نظام سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام دولت کو ایک جگہ منجمد (Deposit) رہنے کے بجائے گردش (Circulation) میں رکھتا ہے تاکہ پورا نظام اعتدال میں رہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ جہاں لوگوں کی معاشرتی ضروریات کو پورا کرتا ہے وہاں اسکا روحانی فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ انسان کے دل سے مال کی محبت نکل جاتی ہے- چنانچہ اسلام نے مال کے متعلق چند عبادات مقرر فرما دی ہیں تاکہ معاشرہ ظلم و ستم اور جرائم سے پاک وصاف رہے-
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس طرح جسم عطا کر کے اس کے متعلق کچھ احکام ذکر کئے ہیں۔ اسی طرح ا سے مال عطا کیا اور اس کے متعلق بھی احکام ذکر فرمائے ہیں۔مسلمان پر جو عبادات مقرر کی گئی ہیں، ان میں سے بعض بدنی عبادات جیسے نماز و روزہ، بعض مالی عبادات جیسے زکوٰۃ و عشر اور بعض دونوں کا مجموعہ جیسے حج و جہاد ہیں۔ارشاد باری تعا لیٰ ہے کہ:" اور جو کچھ اللہ نے آپ کو دیا ہے اس کے ذریعہ آخرت کے گھر کو حاصل کر، اور اپنا حصہ دنیا میں سے نہ بھول، اور بھلائی کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے- " (القصص؛ 77)
یعنی جو اللہ کی نعمتیں ہمارے پاس ہیں انہیں اللہ کی رضا مندی کے کاموں میں خرچ کرنا چاہیے تاکہ آخرت میں بھی ہمارا حصہ حاصل ہو جائے۔ اپنے نفس کے ساتھ ساتھ حق داروں کے حق کا بھی رکھنا ضروری ہے۔
اسلام کے اقتصادی نظام میں زکوٰۃ کے علاوہ ایک جزو عشر بھی ہے۔ جس طرح سونے چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اسی طرح زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰۃ لازم ہے، جس کا نام عشر ہے۔ زمین سے اگنے والی سبھی قسم کی فصلوں پر اسلامی شریعت نے اپنا ایک خاص حصہ مقرر کر کے رکھا ہے جس سے شریعت کی اصطلاح میں عشر کہتے ہے۔
"عشر" عربی زبان کا لفظ "ع، ش، ر سے بنا ہے جس کے اصلی معنی "دسواں حصہ" کے ہیں۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واجبات شرعیہ کی جو تفصیل بیان فرمائی ہے اس میں عشری زمینوں کی دو قسم قرار دی گئی ہیں۔ ایک میں عشر یعنی دسواں حصہ پیداوار کا ادا کرنا فرض ہوتا ہے اور دوسری میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ۔ عشر زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ اور مالی عبادت ہے۔ عشر ہر اس شخص پر واجب ہے جو زمین کی کاشت کرتا ہے۔ عشر چونکہ پیداوار کی زکوٰۃ ہے اس لیے مال کے ساتھ پیداوار کا عشر الگ نکالا جاتا ہے۔
عشر میں سال گزرنا شرط نہیں ہے بلکہ پورے سال میں ایک ہی کھیت میں جتنی بار زراعت ہوئی تو ہر بار اس پر عشر واجب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:" اے ایمان والو! خرچ کرو پاک چیز اپنی کمائی میں سے اور اس چیز میں سے جو ہم نے پیدا کیا تمہارے واسطے زمین سے -" (سورۃالبقرہ: 267)
یہ ارشاد عشر کے فرض ہونے کی دلیل ہے اور لفظ ’’خرجنا" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عشری زمین میں ہر قلیل وکثیر پیداوار پر عشر واجب ہے۔ اللہ کے فرمان " اور اس چیز میں سے جو ہم نے پیدا کیا تمہارے واسطے زمین سے" مراد ہر قسم کا اناج، پھل و ترکاریاں جو ربیع و خریف کی ہو اور ہر وہ چیز جس میں زمینی زکوٰۃ (یعنی عشر) واجب ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :" اور ادا کرو ان کا حق جس دن ان کو کاٹو اور بے جا خرچ نہ کرو، بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا -" (الانعام ; 141)
مذکورہ بالا آیت کریمہ میں فصل، باغات اور پھلوں کے جس حق کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد عشر ہی ہے۔ عشر کے حق دار وہی لوگ ہے جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐنے ارشاد فرمایاکہ "جو کھیتی بارش کے پانی یا قدرتی چشمے کے پانی سے سیراب ہو یا خود بخود سیراب ہو تو اس میں سے عشر (دسواں حصہ) لیا جائے اور جس کھیتی میں کنویں سے پانی لیا جائے تو اس میں سے نصف عشر (بیسواں حصہ ) لیا جائے۔‘‘ صحیح البخاری، باب العشر؛ 1483)
مذکورہ بالا حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی سینچائی کی پیداوار حاصل ہونے پر دس (10) دانے یا پیٹیاں یا کلو میں سے ایک دانہ یا ایک پیٹی یا ایک کلو بطور عشر دینا واجب ہے جب کہ مصنوعی سینچائی کی پیداوار پر بیس (20) دانوں پر یا پیٹیاں یا کلو میں سے ایک دانہ یا ایک پیٹی یا ایک کلو بالترتیب بطور عشر دینا واجب ہے .
لہٰذا مذکورہ بالا مسائل عشر سے اور اس کی حقیقت سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں اولین وقت میں اپنی تمام زراعت کا عشر نکالنا چاہیے اور قبل از وقت حق داروں کا حق ادا کر کے راحت کی سانس اور دیگر حصے کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے تاکہ اس پر آگ، برف باری،ژالہ باری، بارش، طوفان وغیرہ کے قہری اسباب سے حفاظت کی جائے۔ چہ جائیکہ یہ زراعت سیب، ناشپاتی، آڑو، خوبانی، بادام، اخروٹ، زعفران (کیسر)، دھان (شالی)، مکئی، دالیں، سبزی یا دیگر قسم کے پھل و ترکاریوں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔نہیں تو اللہ رب العالمین کا قہر ہم پر اور ہمارے زراعت پر برسنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔
رابطہ ۔ہاری پاری گام ترال
فون نمبر- 9858109109