اس امر تلخ میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ دور میں سائینسی اختراعات نے سفر حیات کے انداز بدل ڈالے ہیں ، البتہ برق رفتاری سے بدلنے والی اس دنیا کے امیر و فقیر ، پیرو جواں اور خوردو کلاں ، مردوزن کو بس مادی برتری اور انا و لا غیری کی ہوس نے بے خودی کے عالم اور بدمستی کے شعلوں کی نذر کر دیا ہے۔چشم سر کور اور چشم قلب نا بینا۔جب انسانی معاشرے میں زبوں حالی کا یہ حال ہو تو زبدۂ کائنات اور اشرف المخلوقات کی تخلیق کا مقصد مخدوش بھی اور مفقود ہونا، ایک خواب یا سراب نہیں بلکہ ایک نوشتہ بر سنگ ہے کہ یہ ایک ایسا نقشِ کہن ہے جسے مٹانا ممکنات کی حدود سے ماوراء ہوجاتا ہے۔اطراف ِعالم میں رونما ہونے والے دلخراش ور جگر سوز بہیمانہ واقعات کا تسلسل بتا رہا ہے یا اشارہ دے رہاہے کہ شاید تقدیر کے قاضی کا فیصلہ طے ہو چکا ہے کہ موجودہ دور کے انسان کی مخرب الاخلاق روشوں نے اللہ کی اس سر زمین کو اس قدر مکدر کردیا ہے، یہاںاتنی عفونت اور آلودگی کا زہر بکھیر دیا ہے کہ اب خالق کائنات اس کے وجود کو حرفِ غلط اور نقش ِباطل مان کر اسے اپنی زبان ِ کن سے مٹادئے ،اسے پوری قہاری و جباری کے ساتھ ملک عدم کے ابدی تعذیب خانے میں بے نوائی کی زنجیروں میں جکڑ دے تاکہ اپنے مذموم اعمال کے ثمرات کا مزہ چکھے اور قعرمذلت کی گہرائیوں میں گرکر رہ جائے جب کہ خلافت ِارضی کا تاجِ زریں انسانی نسل کی ایسی سعید ارواح کا مقدر کر دے جنہیں اس نعمت پر ناز اور اس احسانِ خداوندی کا احساس دل وجان کے تہ خانوں میں جاگزیں ہو کہ انسان ہونا بذات خود ایک عظیم اعزاز ہے اور انسانیت کی جتنی توقیر کی جائے اتنی ہی سرفرازی اور سر بلندی انسان کے وجود کو کرۂ ارضی کے چہرے پر بدر کامل کی طرح تابندہ بنا دے ۔اور ہاں انسانی تخلیق کے پس پردہ یہی مشیتِ ایزدی کار فرما ہے،لیکن کیا مادی تہذیب کی رفعتوں کی سرحد پر قدم جمانے کے لئے انسان کی موجودہ منفی روش اس کی کامیابی میں معاون ہوسکتی ہے؟ہر گز نہیں، جب تک نہ زندگی کے سر نہاں کی حقیقت کو جہالت اور تاریخ انسانی کی وادیٔ بے ثبات میں مشعل علم ہاتھ میں لئے تلاش حق کی کوشش نہ کی جائے ۔ عالم انسانیت کو اس تعمیری نہج پر ڈالنے کے لئے جتنی تگ و دَوداورجد و جہد آج کی اشد ضرورت ہے، اس سے قبل شاید کسی دور میں نہ رہی ہو۔ اس ناگزیر ذمہ داری کو نبھانے اور ابلیسی للکار سے نبرد آزما ہونے کی خاطر ہمارے لئے ایک مومنانہ وداعیانہ کردار کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کردار کی موجودگی قرآن کریم اور سنت رسولؐ کی بنیادوں پر خودی کی تربیت کے بغیر محال ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے ۔ خودی کی عمارت کی تعمیر صرف اور صرف ان خدائی تعلیمات سے ہی ممکن ہے جن کی تبلیغ و تشہیر کے لئے دنیائے فانی میں انبیائے کرام کو لافانی ہدایات دے کر انسانی دنیا کی ہدایت ورہنمائی کے لئے مبعوث کیا گیا اور پھر اس سلسلے کو خاتم الانبیاء سید المرسلین جناب محمدرسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی ختم کیا گیا ۔آپ ؐ کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کے ساتھ مبعوث فرمادیا گیا ۔اب یہی واحد ضابطہ ٔحیات ہے جو دنیا ئے انسانیت کی نجات وکامرانی کا کامل نسخہؐ عمل ہے ۔ یہ اللہ کا سب سے عظیم معجزہ ہے مگر افسوس کہ آج یہ بند غلافوں میں پڑا ہے اور کل حشر کے میدان میں اُمت کی غفلت کی شکایت کے لئے لازماً کر ے گا کہ اس امت نے مجھے اپنے امور ِ حیات سے مہجور یعنی دور رکھا۔ بہر حال جب حالت یہاں تک پہنچی ہو تو داعی ٔ ایمان و معمارِ انسانیت کے لئے اپنی کشمکش اور جدوجہد کی منزل کا تعین کرنا ایک آسان سا کام ہو جاتا ہے۔اس کے فہم وادراک میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اُسے اخلاقِ کریمانہ کے زیور سے آراستہ ہوکر دنیا کی بدنمائیوں کو بدل ڈالنا ہے ،اُسے غلط سوچ کی وادیوں میں سر گراداں ہونے سے کریز کر ناہے ،اسے عدل اور محبت کے جذبات کا ہمالیہ بن کر جینا اور مرنا ہے ۔
یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ عصری تہذیب کی بو قلمونی اور عقیدے کا فساد نئی نسل کی رَگ رَگ میں اس قدر سرایت کر گیا ہے کہ رشتے ناطے ایک اخلاقی مجبوری اور انسانی ضرورت نہیں بلکہ محض نفس ِامارہ کی تسکین کا ذریعہ بن چکے ہیں اورحصول تعلیم ایک مکر و فریب کا ہتھکنڈا جسے کسی دور میں بیگانے آزماتے تھے مگر اب یگانے بھی اس مسموم نشتر سے کچھ مخصوص رشتوں کے تقدس کے وجود کو بھی بلا کسی ننگ وعار کے مضروب کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاںشرم و حیاء کی دیواروں میں شگاف پڑ چکے ہیں ، صدق مقال اور اَکل حلال کی تمیز مٹ چکی ہے، وفاداریوں کی کلیاں مسلی جارہی ہیں اور جفاکاریوںکے خارزار سر سبز و شاداب ہو رہے ہیں، ہمدردی کے چراغ گل ہو رہے ہیں ، قساوت قلبی کی گھٹائیں چھا رہی ہیں۔غرض طوفان اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تعمیری علم ایک شجر ہے اور نیک عمل ا س کاثمر ہے،ذائقہ ثمر شیرین تبھی ہو سکتا ہے جب شجر کی اصل بھی شیرین ہو۔آج کے اس پُرآشوب دور میں جہاں مادر پدر آزاد تہذیب کے حصار میں اخلاقیات کے در و دیوار گر رہے ہیں، اولاد کی بغاوت اور خود سری سے لرز رہے ہیں، شفقت ِپدری کی نوید کا ہلال گہنا چکا ہے، گردش لیل و نہار میں سکون کے لمحات ملنا کسی بحر ظلمات میں چشمۂ حیواں بدست لانے کے مترادف ہے۔آخر ایسی بے کیفی اور بے چینی کے پس پردہ کون سے محرکات ہیں، جن پر لاکھ کوششوں کے باوجود قابو نہیں پایا جا رہا ہے؟ماجرا دراصل کچھ اور نہیں بلکہ یہ کہ اب رہبر و رہزن میں کوئی خاص فرق باقی نہیں، اب حاکم و محکوم کے مرض میں مماثلت بھی ہے اور مطابقت بھی۔اب میاں شوہر کے رشتۂ ازدواج میں پاکیزگی اور خلوص باقی نہیں، اب امام و مقتدی علم میں، عمل میں، شرافت میں، عقیدے میں اور طرز فکر میں ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں اور اگر سچ پوچھئے تو آج کا خواندہ طبقہ، سوائے معدودے چند،شاطر ہی نہیں بلکہ تمام تر خرافات کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن چکا ہے ،جب کہ ناخواندہ طبقہ مقابلتاً اخلاقی اقدار اور جذب باہمی کی حدود کا احترام کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔اس مرضِ مہلک کی وجہ وہ عصری علوم ہیں جن کی بدولت نئی نسل کی قوت تدبر مفلوج ہو چکی ہے اور اب کیفیت یہ ہورہی ہے کہ لاطینی زبان کے گنتی کے الفاظ اَز بر کر کے نوخیز طبقہ ذاتی تفوق کے زعم باطل کی زُلفوں میں اسیر ہوچکا ہے۔اسی لئے علامہ اقبال نے بجا فر مایا ہے ؎
عذابِ دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل ؑ
متاعِ قلیل کی بازی کو بری طرح ہار جانے سے بچنے یا عصری تہذیب کے تیزاب سے بچنے کے لئے لازم ہے کہ فرقان حمید اور سیرت نبوی ؐکے مطالعہ کو اپنی عملی زندگی کا مسلسل مشغلہ بنایا جائے اور جاسوسی ناولوں اور داستانوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی نحوستوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور منصب اور جاہ و حشمت کی دہلیز پر جبہ سائی سے احتراز کیا جائے کیونکہ یہ معبودان ِباطل انسانیت کش اور اخلاق سوز اعمال کی ترغیب دلاتے ہیں کہ جس سے انسانی تخلیق کا مقصد صد ہزار صدموں کی نذر ہو کر رہ جاتا ہے۔یہی وہ طرز فکر وعمل ہے جس سے عدل و انصاف کی بنیادیں مستحکم ہوں گی، قرابت کے رشتوں میں جان پڑے گی اور بغاوت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نجات ملے گی اور پھر باپ کو جنت کا دروازہ اور ماں کے قدموں میں پڑنے کو جنت کی ضمانت سمجھا جائے گا،شفقت ِپدری کا سمندر ٹھاٹیں مارے گا اور والدین اپنی اولاد کے وجود کو اپنی خوش بختی سے تعبیر کریں گے ، دوسروں کے دُکھ درد کا احساس ہماری زندگی کے شب و روز کا وظیفہ ہوگا ۔ یوں پورا عرصۂ حیات ایک راحت ثابت ہوگا ۔ضرورت بس اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے اندر شیریں مزاجِ مومنانہ پیدا کرنا ہوگا تو دنیا بدلے گی اور عصر حاضر کی دانش کا عذاب کا ٹل جائے گا اور دنیائے انسانیت اصلاح احوال کے لئے پا ایستادہ نظر آئے گی۔
فون نمبر 8493990216