جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے نکہ ناڑ علاقے میں سڑک کی تعمیر کے دوران مبینہ طور پر زبردستی کی گئی کارروائی اور زمین کے کٹاؤ سے متاثرہ افراد نے انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی باشندے ماسٹر فاروق نے الزام عائد کیا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے دوران محکمہ پولیس کی جانب سے جان بوجھ کر ایسے اقدامات کئے گئے جس کے نتیجے میں ان کی زرعی اور رہائشی زمین کو بھاری نقصان پہنچا۔ماسٹر فاروق کے مطابق اس وقت عدالت کی جانب سے واضح حکمِ امتناعی نافذ تھا، اس کے باوجود طاقت کا استعمال کرتے ہوئے تعمیراتی کام جاری رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کی موجودگی میں اس طرح کی کارروائی نہ صرف قابلِ تشویش ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ سڑک کی کھدائی اور غیر سائنسی طریقے سے کٹاؤ کے باعث ان کی زمینیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
ایک متاثرہ خاندان نے بتایا کہ یہ زمینیں ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھیں، جن کے نقصان سے ان کے معاشی حالات شدید متاثر ہوئے ہیں اور انہیں مستقبل کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔متاثرین نے مزید الزام لگایا کہ جب انہوں نے اپنی زمین کو بچانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں طاقت کے ذریعے وہاں سے ہٹا دیا، حالانکہ اس وقت عدالتی حکم موجود تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہایت ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ دار افسران کا تعین ہو سکے۔متاثرین نے ضلع انتظامیہ، محکمہ تعمیرات عامہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی فوری انکوائری کرائی جائے، نقصانات کا تکنیکی انداز میں تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی زمینوں اور ذریعہ معاش کی بحالی کر سکیں۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت انصاف کو یقینی بناتے ہوئے ان کی داد رسی کرے گی۔