سرینگر //سال 2019 سال کے مقابلے میں کشمیر میں مارچ سے جون 2020تک کینسر میں مبتلا مریضوں کی اموات میں 9فیصد اضافہ ہوا ہے۔شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے شعبہ ریڈینٹ آنکولوجی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019کے مارچ سے جون مہینے تک کینسر سے صرف 224افراد فوت ہوگئے تھے لیکن کورونا وائرس کی زد میں آنے سے کینسر مریضوں کی موت میں اضافہ ہوا ۔ عالمی وباء کے عروج کے چار ماہ کے دوران کینسر کے صرف 1190معاملات سامنے آئے جن میں 276افراد فوت ہوئے ۔ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2019میں 361کینسر کے نئے کیس سامنے آئے اور ان میں 41کی موت ہوئی اور اسطرح مرنے والوں کی شرح صرف 13فیصد تھی لیکن مارچ 2020میں کینسر کے 373نئے معاملات سامنے آئے جبکہ اس دوران 64 مریض فوت ہوگئے ۔اسطرح مارچ 2020میں مرنے والوں کی شرح 4فیصد اضافہ کے ساتھ 17فیصد تک پہنچ گئی۔ اپریل 2019میں سامنے آنے والے418کیسوں میں 41کی موت ہوئی اور شرح 10فیصد تھی جبکہ اپریل 2020میں 211معاملات سامنے آئے جن میں 49کی موت ہوئی اور شرح 23فیصد ہوگئی ۔ مئی 2019میں 439سرطان کے مریض سامنے آئے اور 72کی موت ہوئی ۔اسطرح شرح 16رہی ۔ مئی 2020میں 233نئے معاملات سامنے آئے، 65کی موت ہوئی اور شرح 27فیصد رہی ۔جون 2019میں 390کیس سامنے آئے ، 64کی موت ہوئی اور شرح 16فیصدرہی لیکن جون 2020میں مجموعی طور پر 373کینسر کے مریض سامنے آئے 98 کورونا وائرس نمونیا سے فوت ہوگئے اور شرح 26فیصد تک پہنچ گئی۔ شعبہ ریڈنٹ آنکولوجی کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد خان نے بتایا ’’عالمی وباء کے ابتدائی چار ماہ کے دوران کینسر مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تمام اسپتالوں کو کورونا وائرس مریضوں کیلئے مخصوص کیا گیا لیکن بعد میں تاخیر سے ہی سرطان مریضوں کیلئے علاج و معالجہ کا انتظام کیا گیا اور ان کو تھرپی دینے کا عمل بھی شروع کیا گیا ‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکمز میں پچھلے11ماہ کے دوران 4830کینسر مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا جبکہ اس دوران2430مریضوں کو تھرپیز دی گئیں۔