عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے باوجود بھارت میں سونے کے دام اب بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی صورتحال، سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے باعث بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے، تاہم بھارتی روپیہ کی قدر اور مقامی طلب کے سبب ملک میں سونے کی قیمتیں زیادہ متاثر نہیں ہوئیں۔بین الاقوامی اسپاٹ گولڈ کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے نمایاں کمی درج کی گئی، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ امریکی معاشی اعداد و شمار، شرح سود سے متعلق قیاس آرائیاں اور عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی مانگ کو کسی حد تک متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب بھارت میں شادیوں کے سیزن اور مقامی مارکیٹ میں مسلسل طلب کے باعث سونے کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ مختلف جیولری برانڈز اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق 24 قیراط، 22 قیراط اور 18 قیراط سونے کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، تاہم مجموعی طور پر نرخ اب بھی عام خریدار کی پہنچ سے اوپر تصور کیے جا رہے ہیں۔مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر امریکی ڈالر مزید مضبوط ہوتا ہے اور شرح سود میں اضافہ جاری رہتا ہے تو سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم بھارت میں روپے کی کمزوری اور تہواروں و شادیوں کے باعث مقامی طلب قیمتوں کو سہارا دے سکتی ہے۔جیولری صنعت سے وابستہ تاجروں کے مطابق صارفین فی الحال محتاط خریداری کر رہے ہیں اور زیادہ تر لوگ قیمتوں میں ممکنہ کمی کا انتظار کر رہے ہیں۔