شورش زدہ کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی اور خطہ،کورونا وائرس سے پھیلے عالم گیر و باء نے اپنے عہد طفلی میں ہی ہلاکت خیز نتائج ظاہر کر دئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس وائرس کوقابو نہیں کیا گیا، جو فی الوقت کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ،تو اس کے سنگین نتائج بھاری جانی نقصان اور اقتصادی خسارے تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والے وقت میں دنیا کی جیو پالیٹکس کا تبدیل ہونا بھی خارج از امکان نہیںہے۔کئی مبصرین و تجزیہ نگار کورونا بحران کو نائن الیون کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ جس طرح امریکی تجارتی مرکز پر مذکورہ حملے نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی، کورونا بھی اُسی طرح عالمی سطح پر دور رس تبدیلیاں لاسکتا ہے۔آئندہ وقت انسانی سماج کے اندر جو تبدیلیاں متوقع ہیں اُن میں سفر اور خریداری پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہونے جارہے ہیں۔
مہلک کورونا وائرس نے آناً فاناً دنیا بھر کے ممالک میں جس قدر فاصلے بڑھادئے اُس سے گلوبل ولیج کے تصور ، جس کو قائم کرنے میں دہائیاں لگیں، کو بڑا دھچکا لگا ہے۔کل تک جس گلوبل ولیج کے تصور سے دنیا پھولے نہیں سما رہی تھی اور عالمی طاقتیں جس تصور کا سہارا لیکر تیسری دنیا کے ممالک کو مفتوحہ سمجھ رہے تھے،اُس سے اس قدر خوف لگنے لگا ہے کہ دنیا بھر کی سرحدیں بند ہیں، فضائی رابطے معطل ہیں یہاں تک کہ طاقتور ترین شخصیات کااپنے مشیروں کے ساتھ رابطہ بھی ویڈیو کانفرنسنگ تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
چھوٹا سا کورونا وائرس، جو دنیا بھر کے لوگوں کو اُن کے گھروں میں مقید ہونے پر مجبور کئے ہوئے ہے،نے حکومت اور عوام ،بین الاقوامی رشتوں یہاں تک کہ ایک ہی ملک کے رہنے والے لوگوں کو مختلف انداز سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ابھی چونکہ کورونا بحران کے ابتدائی ایام ہیں، مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے ماہ و سال دنیا پر گہرے نقوش مرتب کرنے والے ہیں۔یہ نقوش لوگوں کے رہن سہن، صحت عامہ،اقتصادیات یہاں تک کہ طرز زندگی کو ہی تبدیل کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
جارج ٹائون یونیورسٹی میں لسانیات کے پروفیسر ڈیبورا ٹن کے مطابق’’نائن الیون واقعہ تک امریکیوں کا ماننا تھا کہ وہ اُن آفات کا شکار نہیں ہوسکتے جو باقی ماندہ دنیا میں عام ہیں ، بعد کے حالات نے ہمیں ایک نیا ہی دنیا تیار کرنے پر راغب کیا،اب حال یہ ہے کہ چیزوں کو چھونا،لوگوں سے ملنا ،سانس لینا بھی خطرناک لگتا ہے، ابھی تو اپنے چہرے کو ہاتھوں سے چھونے یہاں تک کہ دوسروں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بارے میں احتیاط سے کام لیا جارہا ہے ،ایک سال کاعرصہ گذر جانے کے بعد زندہ رہنے والے لوگ نہ جانے کس حد تک حساس ہونگے‘‘۔
لوگوں کی سوچ بھی اس قدر بدلتی جارہی ہے کہ ایک نیا کلچر اور تمدن نشو نما پانے لگا ہے۔مصنف اور پروفیسر مارک لارنس سچریڈ کا کہنا ہے’’دنیا نے وطن پرستی کو ملک کی افواج کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ وائرس کو گولی نہیں مارسکتے۔کورونا سے پیدا صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلح فورسز نہیں بلکہ ڈاکٹر، نرسیں، دوا فروش،چھوٹے تاجر اور اس صورتحال سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے میں سائنسدان کام پر لگے ہیں، اس طرح وطن پرستی کی تعریف میں نمایاں تبدیلی آرہی ہے۔چونکہ ہر ملک نے دوسرے ملک کے ساتھ لگنے والی سرحد کی طرف دیکھنا بھی بند کیا ہے،اس لئے مسلح فورسز کی نہیں ،دنیا کو اس وقت ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی صورت میں ہی وطن پرست نظر آنے لگے ہیں‘‘۔
انسانوں کے قید ہونے کے باوجود پوری دنیا کے حالات جس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس نے ایک کے بعد دوسرے ملک میں ظاہری استحکام کا پول کھولنا شروع کر دیا ہے، یہاں تک کہ ماہرین کے مطابق جمہوری قبا میں سرمایہ دارانہ نظام اور شخصی حکومتوںکے تمام تضادات سطح پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ زیادہ تر ممالک عالمی ادارہ صحت جیسے اداروں کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے اقدامات کر رہے ہیں۔طاقتور ممالک کے صحت شعبے جواب دے چکے ہیں اور دوسرے ممالک کے شعبہ ہائے صحت آنے والے ہفتوں اور مہینوں کو لے کر خوفزدہ ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی کورونا نے دنیا کی کچی بستیوں، جھونپڑ پٹیوں، افریقہ اور برصغیر کے پناہ گزین کیمپوں کا رُخ نہیں کیا ہے، جہاںحفظان صحت انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں،پھرتباہی اور بربادی کا صحیح اندازہ ہوگا کیونکہ وہ افراتفری کو جنم دے گی جو جنگی نوعیت کی ہوگی۔
ابھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر دنیا کو تباہی و بربادی صرف بازارحصص کے اندر دکھائی دے رہی ہے ، جو ایک کے بعد ایک زمین بوس ہورہے ہیں۔کچھ ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اس سال عالمی معیشت بحران کا شکار ہوگی،، صنعت، تجارت اور آمدورفت بار بار تعطل کا شکار ہوں گے، کھپت میں کمی آئے گی، رسد بار بار متاثر ہو گی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت کو ایک گہرے بحران کا سامنا ہو گا۔وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے عالمی سطح پر تحفظاتی رجحانات میں شدت آ رہی ہے۔ ہر ملک کا حکمران طبقہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے سرگرداں ہے ۔ سفری پابندیاں با آسانی تجارتی پابندیوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ امریکہ کی چین اور یورپ کے ساتھ تجارتی لڑائیاں، جو کچھ ٹھنڈی پڑ گئی تھیں، دوبارہ بڑی شدت سے شروع ہونے کا خطرہ ہے جس کے شدید منفی نتائج برآمد ہونگے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے نظام معیشت کے وہ تمام تضادات باہر آ گئے ہیں جو قرضوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے ٹلے ہوئے تھے اور کورونا نے جن کو بیچ سڑک پر لاکے پھوڑ دیا۔اب جو حالات پیدا ہونے جارہے ہیں اُن سے اکثر ممالک کا حکمران طبقہ باہر نکلنے کی صلاحیت سے محروم ہے کیونکہ اُنہیں قرضوں،امداد یاپیکیجز کے سہارے چلنے والی معیشت سے سابقہ رہا ہے۔وہ معیشت کو انسانی وسائل کی ترقی سے جوڑنے کے فن سے ناواقف ہیں یا ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت دنیا کے اندر جو دور چل رہا ہے ، وہ بحران کا دور ہے۔اس بحران کے اثرات سے دنیا کا کوئی بھی کونہ نہیں بچ پائے گا۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد آج کل دنیا کو سب سے بڑے بگاڑ کا سامنا ہے۔اس بگاڑ کے نتیجے میں دنیا کے اندر سماجی، معاشی، سفارتی اور عسکری توازن بگڑ کر رہ جائے گا۔ مارکسوادیوں کا ماننا ہے کہ کورونا بحران کے نتیجے میں عوام کا شعور بہت بڑی تبدیلیوں سے گزرنے والاہے اور یہ عمل بالکل جنگ کے دنوں جیسا ہو گا،بحران اور بیروزگاری معمول بن جائے گی یہاں تک کہ محنت کش طبقے کے خلاف ظالمانہ اقدامات کیے جائیں گے۔ لیکن شاید یہ مارکسوادی مبصرین کی وہ رائے ہے جس کے پیچھے بے شک اُن کی مخصوص فکر کار فرما ہے۔ غیر جانبدار مبصرین تاہم اس بات پر متفق ہیں کہ بنی نوع انسان کیلئے آنے والے ماہ و سال انتہائی کٹھن ہونگے کیونکہ طاقتور اور کمزور کے بیچ فاصلہ کم ہونے والا ہے۔ یہ کوئی مثبت تبدیلی نہیں بلکہ بحرانی کیفیت ہوگی جو ایک ایسی صورتحال کو جنم دے گی جس میں عام لوگوں کو ہی سب زیادہ متاثر ہونا پڑے گا کیونکہ طاقت کے کھیل میں ہمیشہ ایندھن تو کمزور لوگ ہی بنتے ہیں۔ اس کھیل میں حکمران طبقوں کی طرف سے’ قومی اتحاد‘ یہاں تک کہ عقیدے یا خطے کا سہارا لیکر بھی حالات کو اپنے حق میںسدھارنے کے اقدام کئے جائیں گے۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ بالکل واضح ہوجائے گا کہ یہ طبقہ کس کو قربانی کیلئے تیار کررہا ہے ۔
چین میںکورونا سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئے ہسپتال بنائے گئے اور ان لوگوں کے بھی ٹیسٹ کرائے گئے جن میں کورونا کی کوئی علامت موجود نہیں تھی۔باقی ماندہ دنیا بشمول برطانیہ اور عالمی پولیس مین امریکہ ایسے اقدامات کرتے دکھائی نہیں دیتے ہیں بلکہ انہوں نے تو اٹلی سمیت اس کو پہلے پہل انتہائی غیر سنجیدگی سے لیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ، بورس جانسن،جو بعد میں خود بھی وائرس میں مبتلاء ہوگئے، کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ برطانیہ میں ہزاروں لوگ بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اس نے بڑی تقریبات مؤخر کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ’’لوگ اپنے پیاروں کو وقت سے پہلے کھونے کے لیے تیار رہیں‘‘۔ نیویارک ٹائمز کے ایک آرٹیکل کے مطابق ’’برطانیہ وائرس سے اپنی معیشت کو بچا رہا ہے، لوگوں کو نہیں۔‘‘امریکہ، برطانیہ اور اٹلی کی غیر سنجیدگی کے پیچھے کئی وجوہات ہیں،بعض اس کو ان ممالک کی حد سے زیادہ خود اعتمادی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ان ممالک میں انسانوں کے بجائے مالیات کو اولیت اور اہمیت حاصل ہے۔کچھ بھی ہو، حقیقت یہی ہے کہ برطانیہ ، امریکہ اور اٹلی جیسے ممالک نہ اپنی معیشت کو بچا پارہے ہیں اور نہ لوگوں کو۔ ترقی پذیر ممالک کا حال تو انتہائی بُرا ہے۔ یہاں بھارت کے اندر ٹیسٹنگ نہیں ہو پا رہی ہے۔حقائق کہہ رہے ہیں کہ کوئی تیاری نہیں ہے، ہسپتالوں کے پاس کوئی منصوبہ نہیں، ٹریننگ بھی نہیں اور سازوسامان بھی اُس معیار کا نہیں جو اٹلی ،امریکہ یا برطانیہ کے پاس ہے۔ کورونا سے پیدا صورتحال کی وجہ سے بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کا حکمران طبقہ، اُن کے کھوکھلے دعوؤں اور اداروں کی نااہلی کھل کر سامنے آرہی ہے۔کورونا وائرس حکمران طبقے کو بے نقاب کررہا ہے اور دھیرے دھیرے یہ واضح ہورہا ہے کہ حکمران طبقے کے مفادات باقی ماندہ سماج سے کس قدر متضاد ہوتے ہیں۔
اس ساری صورتحال کے اثرات سے کشمیر جیسے چھوٹے خطے کا کیا حشر ہونے والا ہے؟ اس کے بارے میں سوچ کر ہی گھبراہٹ ہورہی ہے۔ یہاں کے لوگ لاک ڈائون سے جسمانی یا ذہنی طور کم متاثر ہورہے ہوں، لیکن مالی اعتبار سے وہ پہلے ہی ٹوٹ گئے تھے، اب منہدم ہوگئے ہیں۔غریب اور نادار طبقہ پہلے ہی غریب تر ہوگیا ہے اور مالی لحاظ سے فارغ البال لوگوں پر اپنا مستقبل تاریک نظر آنے سے مایوسی چھائی ہے۔ان افراد کی مایوسی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ رہی سہی دولت پر کنڈلی مار کر بیٹھ جائیں گے جس سے سماج کا کمزور طبقہ فاقہ کشی کا شکار ہوگا۔پیدا صورتحال کی وجہ سے یہاںکے معاشرتی معاملات بھی بگاڑ کی راہ پر گامزن ہیں کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر کے مالکان تنگ نظر ی میں مبتلاء ہیں، جس کی وجہ سے وہ مثبت سوچ سے عاری اور پالیسی سازی میں صفر ہیں!با الفاظ دیگر کورونا وائرس کے پھیلائو سے پیدا صورتحال کے نتیجے میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اہل وادی کو بھی شدید مصائب جھیلنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔