قانون ِ قدرت ہے کہ جو قوم غافل ہے،سُست اور جاہل ہے ،اُسے فطرت خود انتقام لیتی ہے ،وہ اُس ناکارہ جانوراور سوکھے درخت کی طرح فنا ہوجاتا ہے جو کسی کے لئے مفید نہیں رہتا ۔اسی طرح جس زمین پر بدکاری اور مکاری عام ہوجاتی ہے وہ بالآخر خون سے ہی پاک ہونا چاہتی ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔اس دنیا میں وہی جیتاہے جو زندہ رہنے کے لئے کام کرتا ہے اور جو جیسا کرتاہے ویسا ہی بھرتا ہے ۔ غافل ،سُست اورناکارہ انسان نہ دین کا رہتا نہ دنیاکا رہتا ہے، نہ اُسکا تخت بچتا ہےاورنہ تاج رہتا ہے کیونکہ یہی قانونِ قدرت ہےاور یہی اصول ِ فطرت ہے۔
ایک دور تھا کہ مسلمان علم و فضل اور جنگی مہارت میں اتنےبے مثل تھےکہ اُن کی تلوار کی چمک اور زبان کی کاٹ سے قیصر و کسریٰ تک کانپتے تھے،بڑی بڑی سلطنتیںان کے مقابلے کرنے سے لرزجاتی تھیں ۔مسلمانوں نے نہ صرف آدھا ایشیا،افریقہ بلکہ یورپ کے کچھ حصوں کو پائوں تلے روند ڈالا اور اُس وقت کی عظیم طاقتیں اُن کے آگے سرنگوں ہوگئیں لیکن افسوس کہ مسلمان نہ تو اپنی اصل مسلمانیت پر قائم رہے اور نہ ہی اپنی عسکری قوت کو برقرار رکھ پائے ۔وہ جاہ و حشمت میں اتنے غافل اور سُست ہو گئے کہ اپنوں کےلئے ہی اغیار بن گئے۔ بے مقصد آپسی جھگڑوں میں ایسےاُلجھ گئےکہ اپنوںکو اپنادشمن بناتے رہے اور اُن دشمنوں کو اپنا دِلبر اوریار بنا تے رہے ،جن سے اللہ کے آخری پیغمبر حضور اکرم ؐ نے دوستی رکھنا منع فرمایا تھا اور پھر اِنہیاغیاروں کی مدد سے مسلمان اپنے بھائیوں کا خون بہاتے رہے ۔ اس طرز عمل پر فطرت نے اپنی انتقامی کاروائیوں سے مسلمان کواتنا کمزور ،ڈر پوک اور کھوکھلا بنا کے رکھ دیا کہ وقت گذرنے کے ساتھ وہ خود حاکم سے محکوم بن گئے۔صدیاں گزرجانے کے باوجودگوکہ آج بھی ستاون ملکوں پر مشتمل ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان روئے زمین پر موجود ہیں لیکن نہ سَر اُٹھاکر جی رہے ہیں،نہ دشمنوں کا مقابلہ کررہے ہیں ،یہاں تک کہ مُٹھی بھر یہودیوں کا سامنا تک نہیںکرپارہے ہیں۔ظاہر ہے کہ آج بھی بیشتر مسلمان ملک کسی نہ کسی طور بالواسطہ یا بلا واسطہ اُنہی یاروں کے دست نگر ہیں اور بجائے ایک دوسرے کے مدد کے ایک دوسرے کو مِٹانے،گرانے اور ہرانے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں۔وقت گذرتا چلا جارہا گیا ، دنیا میں تبدیلیاں ہوتی چلی آرہی ہیں،حکومتیں بدلتی رہیںاور زوال سلطنت کے ساتھ ساتھ جہاں مسلمان ملکوں میںتہذیب و ثقافت کا سرمایہ بھی ختم ہوتا رہا وہیں سیاسی قوت کی زوال پذیری کے علاہ معاشی خوشحالی بھی خاک آلودہ ہوتی رہی نیز اُن اقدار کا بھی خاتمہ ہوتا رہا ،جن کے وہ کئی نسل سے مالک تھے۔خیر۔۔۔!
بیسوی صدی میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے لے کر اب تک دنیا میں امریکہ جہاں امن و امان کا ٹھیکہ دار بنا بیٹھا ہے وہیں وہ دنیا کے تمام ممالک خصوصاً اسلامی ممالک کا چین وسکون غارت کرنے کا موجب بھی بنا ہوا ہےاور اُلجھے ہوئے معاملات ،سلجھنے کے بجائے مزید اُلجھ گئے ہیں۔یہ سچ بھی تو بالکل عیاں ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام سے جتنا نقصان عالم اسلام کو پہنچا اور انکی اقتصادی و معاشی قوت جتنی کمزور ہوئی ،کسی اور قوم کی نہیں ہوئی ہے ،جس کی بنیادی وجہ امریکہ بلکہ یہودی لابی کی ازلی مسلم دشمنی ہے۔فلسطین ان ملکوں میں سر فہرست ہے جن کا سیاسی استحکام و معاشی قوت یہودی لابی کی بنا پر سنگین حالات سے دوچار ہوچکی ہے ۔1899میں بازل کی میٹنگ اور اسرائیل کے قیام کے منصوبے سے لے کر اب تک جبکہ اسرائیل اسلامی ممالک کے عین دِل میں ایک ناسور بن کر زمین کی سطح پر نمودار ہوچکا ہے، کی پشت پناہی میں امریکہ کا نمایاں کردار رہا ہے۔امریکہ جہاںا من و سکون کو بانٹنے اور سکھ و چین کے تقسیم کا اعلان کرتا ہے وہیں اُسے یہ کبھی گوارا نہیں کہ کوئی ملک سکون و چین سے اپنے عروج کی طرف نگاہ ڈالے۔یہی وجہ ہے مقبوضہ ارضِ فلسطین کا معاملہ کئی خون ریزیوں کےباوجود عرصۂ دراز سے جُوں کا تُوں ہے۔اب جبکہ حالیہ ماہِ رمضان المبارک کے آخری ایام میں فلسطین کے مسئلے نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے جس کے نتیجے میںبیت المقدس، غزہ اور مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پرقابض اسرائیل لڑاکا طیاروں، بھاری توپ خانے اور جنگی ٹینکوں کی مدد سے پچھلے دس دِنوں سے وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے،جس میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد280کے قریب پہنچ چکی ہےجن میں65 بچے اور 40 خواتین شامل ہے۔ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے قریب بتائی جاتی ہےجبکہ اسرائیلی تباہ کُن فضائی بمباری سے غزہ میں پانچ ہزار کے قریب عمارتیں کھنڈرات میںتبدیل ہوچکی ہیں۔گذشتہ اتوار کو محض ایک دن میں جاری اسرائیلی درندگی سے 50 سے زائد نہتے فلسطینی ہلاک ہو گئے ،جن میں اٹھائیس کمسن بچے شامل تھے ۔امریکہ اور بعض مغربی ملکوں کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کی کھلی حمایت اور عملی پشت پناہی کی بدولت سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم بھی صیہونی جارحیت کو تا حال رکوانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم نے نہایت دیدہ دلیری سے اعلان کیا ہے کہ ہم جب تک چاہیں گے اپنی جارحیت جاری رکھیں گے۔
اسرائیلی دہشت گردی پر عالمی بےحسی کے بعد نہتے فلسطینیوں پر قابض یہودی حکومت کی طرف سے دس دن سےجاری بمباری سے فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور املاک کے بے پناہ نقصان سے دنیا بھر کے مسلمانوں پرجو کوہ غم ٹوٹ رہا ہے،وہ انتہائی لرزہ خیز اور روح فرسا ہے۔اگرچہ اسرائیل کی ان انسانیت سوز دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف شدید ردِ عمل فلسطینی جہادی تنظیم حماس کی طرف سے کے تل ابیب کو بوکھلا دینے اور دنیا کو چونکا دینے والےراکٹ حملوں سے سامنے آیا ہے کیونکہ ایک منظم سازش کے تحت جب مسجد اقصیٰ کو گھیرے مسلح پولیس کی شہہ پر یہودی بلوائیوں نے افطار کرتے اور نماز پڑھتے فلسطینیوں پر ناحق پتھر، بوتلیں اور کرسیاں برسانا شروع کر دیںتو نماز ختم ہوتے ہی جب نہتے فلسطینی ،یہودی حملہ آوروں کی مزاحمت پر اُتر آئے تو اسرائیلی پولیس نے بقیہ نمازیوں پر ہی ربڑ کی گولیاں برسانا شروع کر دیںپھرجب تصادم بڑھا تو پولیس اہلکاروںنے اوپن فائر کئے ،جس سے موقعہ پر ہی دو فلسطینی شہید اور دسیوں زخمی ہو گئے۔اپنے مسلمان بھائیوںکے ساتھ یکجہتی کے لئے ویسٹ بینک کے قابض علاقے سے ہزاروں فلسطینی چونکہ مسجد میں پہلے ہی موجود تھے ، تو مسلح پولیس اور یہودی غنڈے شر انگیزیاں کرتے ہوئے ان کے قریب آ گئے تھے اور یوں مسجد اقصیٰ کے نواح میں تصادم پھیل گیا۔الغرض افطار و نماز کے دوران مسجد میں داخل ہو کر فائرنگ کرکے دو نمازیوںکی شہادت اور دسیوں کی مجروحیت ہی فلسطینیوںپر جاری قیامت خیز صورت حال کی اصل وجہ بنی۔ اس کے بعد حماس نے جس ردِعمل کا مظاہرہ کیا،وہ تو ایک فطری عمل تھا کیونکہ اگر کسی چونٹی پر بھی ہاتھ ڈالا جائےتو وہ بھی اپنے بچائو کے لئے کاٹتی ہے۔بظاہر یہ جنگ بالکل یکطرفہ ہے لیکن نہتے مظلوم فلسطینیوں کی طرف سے جاری بےمثال جدوجہد اور ان پر ہورہےبےتحاشا ظلم و جبر کے خلاف حماس کے غیرمتوقع پُر عزم و جرأت مندانہ جذبۂ ایثار کے ردعمل کا ہی یہ مظہر ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دنیا پر ایک بارپھر زوروشور کے ساتھ یہ بات واضح ہورہی ہے کہ یہ تنازعہ حل کئے بغیر مشرقی وسطیٰ میں امن اور استحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔
یہاں یہ بات میں پھر دوہرانا چاہوں گا کہ ایک ایسا ملک جس کی آنکھوں میں ہر ملک کی ترقی کانٹے کی طرح کھٹکتی ہو ،بھلا مسلمان کو فایدہ کیسے پہنچا سکتا ہے ۔ہاں اگر دینار و درہم کے تبادلے کا معاملہ ہو تو بات کچھ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ امریکہ ازل سے اسی اصول پر کاربند رہا ہے۔چنانچہ گذشتہ اتوار کو ہی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بعض رکن ممالک نے اپنی تقریروں میں اسرائیل کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں طاقت کے زور سے جغرافیائی تبدیلیاں لانے سے باز رہے، شہری آبادیوں پر بمباری بند کرے اور فلسطینیوں کا قتل عام روکے مگر امریکہ نے ان مطالبات اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کو مشترکہ اعلامیہ کی شکل میں جاری نہ ہونے دیا۔ سلامتی کونسل کا ایک ہفتے میں یہ تیسرا اجلاس تھا۔پہلے دو اجلاس امریکہ نے موخر کرا دئیے اورتیسرے اجلاس میں کوئی قرارداد منظور نہ ہونے دی۔ اس دوران امریکی صدر بائیڈن کھلے عام نہتے فلسطینیوں پر حملوں کواسرائیل کے دفاع میں جائز قرار دیتے رہے ۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی اپنے ہنگامی اجلاس میں فلسطین کے حق میں اوراسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور کی جس میں وہی روایتی باتیں دوہرائی گئیں کہ القدس اور مسجد اقصیٰ مسلم امہ کیلئے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسرائیل ظالمانہ جنگ بند کرے اور حالات کو مزید بگاڑنے سے باز رہےاور موجودہ حالات کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا مگر او آئی سی نے بھی اسرائیل کے خلا ف کوئی ٹھوس لائحہ عمل تجویز نہیں کیا ۔ وجہ یہی ہے کہ مسلم ممالک میں جہاں باہمی اتحاد و اتفاق کا زبردست فقدان ہے وہیں اُمت ِ مسلمہ آپسی چپقلش ،رنجش اور کشیدگی کے باعث منافقت کے شکار ہیں ۔مسلم ممالک میں باہمی رسہ کشی اور منافرت کی بری وجہ مذہبی ناروا داری اور مسلکی بھائی چارہ کی تفریق اور النفسی النفسی کی تگ و دَو ہی تو ہے۔گرچہ اتحاد بین المسلمین کا تصور تو آج بھی موجود ہے لیکن مسلمان نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کوفہ کی مثال پر منافقت و دھوکہ بازی کرنا نہیں چھوڑی ہے ۔آج کے حالات میں مسلمانوں کے پاس جاہ و حشمت بھی ہے اور مال و اسباب کی فراوانی بھی،لیکن یہود و نصریٰ کا نظام تمام اسلامی ممالک کے نظام سلطنت میں گڈ مُڈ ہوچکا ہے اور ان کی اسلامی دُنیا نظام مصطفویؐ کو اصل ہیٔت کے ساتھ رائج کرنے سے معذور ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ ظلم مسلمان کے ساتھ ہورہا ہے اور مسلمان ہی انصاف کا طالب ہے۔ نام نہاد مسلم اُمّہ کےقائدین اور کرتا دھرتا اقتدار کے اسیر ہیں۔ آج کے مسلم قائدین میں کوئی ایسا قائد نہیںہے جو خلفائے راشدین کی پیروی کرتا ہو۔آج کا کوئی بھی سلطان، صلاح الدین ایوبی کے نقش قدم پر چل کر بیت المقدس کو آزاد کرانے والا نہیں ہے۔
کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ مٹھی بھر اسرائیلیوں نے لاکھوں مسلمانوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور ان کی سرزمین اور مقام مقدس پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے اور اب ان کو ہی اپنے وطن سے تارک اور بےوطن کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بھی ِ شرم ناک صورت حال نہیں کہ جن کو ان نہتے اور بے آسرا فلسطینیوں کا ساتھ دینا تھا، اُن کی مدد کرنی تھی، ان کو انصاف دلانا تھا ،انہوں نے ہی چند دن کے عارضی اقتدار کے لئے اُس ظالم اور دہشت گرد سے دوستی کرلی ہے جو اسلام کا ازلی دشمن ہے۔ آج مظلوم فلسطینی انصاف اور مدد کیلئے دہائی دے رہے ہیںمگرتا دم تحریر امریکہ اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویدار و علمبردار ببانگِ دہل دہشت گرد اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں اور دوسری طرف او آئی سی جیسے نام نہاد ادارے اور مسلم ممالک کے سربراہان مذمتی بیانات جاری کرکے اپنے ہاتھ کھڑا کررہا ہے۔ہاں! مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا کے بعض ملکوںمیں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف روزانہ ہونے والے مظاہرے اور چند مسلم ملکوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف سخت رویے ظاہر کرتے ہیں کہ حق و انصاف کیلئے اٹھنے والی آوازیں ابھی کمزور نہیں پڑی ہیںاور خیر و بھلائی چاہنے والے بھی موجود ہیں۔ مغربی میڈیا نے بھی موجودہ صورتحال کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کا نتیجہ بتایا ہےاور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نہتے فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ اگرچہ بیشتر دوسرے عالمی اداروں کی طرح امریکہ اور دوسری سامراجی قوتوں کی آلہ کار ہے تاہم اس کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے جنگ بندی کی اپیل کر کے اپنے تئیں اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ کئی ممالک فلسطینیوں پر مظالم رکوانے میں اپنی سی تمام تر کوششیں کر رہے ہیں۔دنیا بھر میں پیدا ہونے والے حالات یہی عندیہ مل رہا ہے کہ جلد ہی جنگ بندی کا اعلان ہوگا ۔کس ملک کے اشارے پر ہوگا اور اس کےپیچھے کون سےمقاصد کار آمدہوں گےاُن سے بھی پر دہ اُٹھ جائے گا ۔اغلب ہےکہ جب تک یہ مضمون قارئین تک پہنچے،جنگ بندی بھی ہوئی ہوگی مگر ارضِ فلسطین کے المیہ کے خاتمہ کے متعلق کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب ہوگا ،اس کی توقع بہت کم ہے۔