پونچھ//ریاست بھر کی طرح پونچھ میں بھی مختلف ہسپتالوں اور طبی اداروں میں کام کرنے والے این ایچ ایم ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال24ویں روز بھی جاری رہی جس کی وجہ سے دیہی علاقوں ہی نہیں بلکہ شہروں کے ہسپتالوں میں بھی کام کاج بری طرح متاثر ہو رہاہے۔ضلع پونچھ کے وہ تمام طبی مراکز پچھلے 24روز سے مقفل پڑے ہیں جن میں این ایچ ایم کے تحت لگائے ڈاکٹرتعینات ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوںکو مشکلات کاسامناہے۔وہیں ہڑتالی ملازمین کی جانب سے ضلع ہسپتال پونچھ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا حسب دستور جاری رہا۔اس موقعہ پر ملازمین نے کہاکہ وہ حکومت کی طرف سے مطالبات پورے کرنے تک احتجاج جاری رکھیںگے ۔انہوں نے کہا کہ اگر جلد از جلد ان کے حق میں فیصلہ نہیں کیا تو وہ ہڑتال میں مزید توسیع کرنے پر مجبور ہونگے۔ احتجاج کے دوران این ایچ ایم ملازمین نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے۔دھرنے میں شامل ریاضت علی میر نے بتایا کہ مارچ 2017میں 15دنوں تک ہڑتال کرنے کے بعد ریاستی سرکار نے ایک 6رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جسکو 2ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا کام سونپاگیامگر کمیٹی نے این ایچ ایم ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ساتھ کئی میٹنگوں کے بعد حتمی رپورٹ حکومت کو پیش بھی کردی ہے تاہم حکومت کی جانب سے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھ سکتے ہیںکہ این ایچ ایم ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کیلئے آنے والے لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے لیکن ان کے بچے بھکمری کاشکار ہیں اس لئے وہ ہڑتال جاری رکھنے پر مجبور ہیں ۔ مظاہرین نے کہا کہ حکومت نے رپورٹ کی پرواہ ہی نہیں جس سے اس کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو وہ ہڑتال جاری رکھیںگے ۔ انہوںنے مانگ کی کہ ان کی ملازمت کو باقاعدہ بنایاجائے ۔