ڈوڈہ//ضلع ہسپتال میں منگل کے روز ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت شعاری زچہ اور رحم ِ مادر میں بچے کی موت ہوئی۔ضلع کے دور دراز علاقہ تحصیل چرالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون شائستہ بیگم کو ہسپتال میں زچگی کے لئے بھرتی کیا گیا لیکن بد قسمتی سے بچہ اور زچہ ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت شعاری کی وجہ سے فوت ہوئے۔خاتون کے رشتہ داروں نے اس واقعہ پر ضلع ہسپتال کے خلاف احتجاج کیا۔رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ خاتون کی موت ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی غفلت شعار ی سے ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتون کی حالت خراب ہونے پر انہوں نے بار بار ڈاکٹروں سے علاج کی درخواست کی لیکن انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ،جسکی وجہ سے وہ دوران شب فوت ہوئی۔رشتہ داروں نے الزام لگا یا کہ ضلع ہسپتال کے ارماض خواتین میں فقط ایک ہی نرس ہے ،جو کہ مریضوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتی ہے۔رشتہ داروں کے مطابق 35 سال کی شائستہ چھ بچوں کی ماں ہے اور یہ اسکا ساتواں بچہ تھا ۔رشتہ داروں نے اس واقعہ کی تحقیقات اور ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کاروائی کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اے سی آر ڈوڈہ طارق حُسین نائیک ،تحصیلدار ہیڈ کوارٹر ڈوڈہ یونس احمد زرگر ، اے ایس پی ونے کمار و دیگ رپولیس افسران جائے موقعہ پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ معاملہ کی تحقیقات کی یقین دہانی کی۔ اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے دو کمیٹیان تشکیل دی گئی ہیں تاکہ زچہ و بچہ کے موت کی وجوہات کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا سکے۔ ڈی سی ڈوڈہ سمرن دیپ سنگھ نے بھی واقعہ کی تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔