موغادیشو//صومالیہ کے قوریولي قصبے کے قریب کھیل کے میدان میں جمعہ کو ایک بارودی مواد کے دھماکے سے کم از کم 27 بچوں کی موت اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ مقامی حکام نے واقعے کی تصدیق کی ہے ۔ قوریولي شہر کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمشنر عبدی احمد علی نے کہا کہ یہ واقعہ بم اور بارودی سرنگوں جیسے دھماکہ خیز مواد کے کے پھٹنے سے پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران گاؤں کے میدان میں کھیل رہے بچے دھماکے کی زد میں آ گئے ۔ کمشنر نے فون پر بتایا کہ قوریولي اسپتال میں 22 لاشیں ملی ہیں جب کہ دو زخمی اسپتال لے جانے کے بعد دم توڑ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت موغادیشو میں ایک اور بچے کی اسپتال جاتے ہوئے موت ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کی عمر 10 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ سیکورٹی فورسز نے حملے میں ملوث الشباب کے ساتوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد لیدو کے ساحل پر واقع پرل بیچ ہوٹل کا سات گھنٹے کا محاصرہ ختم ہوگیا۔پولیس نے بتایا کہ اس واقعہ میں ہلاک ہونے والوں میں چھ شہری اور تین سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ہوٹل پر حملہ کل مقامی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 55 منٹ پر ہوا۔ وی آئی پیز اکثر لیدو بیچ پر نظر آتے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ہوٹل میں پھنسے بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت 84 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں نے ہوٹل کے دروازے پر اپنے دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا۔ خودکش دھماکے کے وقت ہوٹل میں سینکڑوں افراد موجود تھے ۔ لیدو بیچ ساحل سمندر کے ہوٹلوں اور ریستوراں سے گھرا ہوا ایک پسندیدہ مقام ہے ۔الشباب کے عسکریت پسندوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے ہوٹل میں مقیم مہمانوں کو نشانہ بنایا۔