مشتاق الاسلام
سرینگر//جموں و کشمیر پی سی سی اے نے خطے میں صنعتوں کو درپیش سنگین رکاوٹوں، سرمایہ کاری میں کمی اور پیچیدہ دفتری نظام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور موثر اصلاحات نافذ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر صنعتی پالیسی اور کاروباری سہولتوں کے نظام میں بنیادی اور عملی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد نائیک کی جانب سے شیلندر کمار کو پیش کی گئی تفصیلی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ صنعتکار، تاجر اور سرمایہ کار طویل، پیچیدہ اور غیر شفاف دفتری کارروائیوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ مختلف محکموں کی غیر ضروری مداخلت اور منظوریوں میں تاخیر نے کاروباری ماحول کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس سے نئے سرمایہ کاری منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔یہ یادداشت محکمہ صنعت و تجارت کشمیر کی جانب سے منعقدہ مشاورتی اجلاس کے بعد پیش کی گئی، جس میں نئی صنعتی پالیسی پر غور کیا جا رہا تھا۔ دستاویز میں واضح کیا گیا کہ زمین کی الاٹمنٹ، بجلی کی منظوری، ماحولیاتی این او سی، رجسٹریشن اور سبسڈی کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر صنعتی سرگرمیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔جے کے پی سی سی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کے مسائل کے فوری حل کے لیے بااختیار شکایتی سیل قائم کیا جائے اور تمام منظوریوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل سنگل ونڈو نظام کے تحت لایا جائے تاکہ شفافیت، تیزی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔مزید سفارشات میں بجلی دستیابی سرٹیفکیٹ کے عمل کو آسان بنانا، خودکار منظوری (ڈیمنڈ اپروول)کا نظام نافذ کرنا، ٹرانسفر فیس اور اسٹامپ ڈیوٹی کا خاتمہ، صنعتی زمین کی فری ہولڈ ملکیت اور الاٹمنٹ کو پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر یقینی بنانا شامل ہے۔ایسوسی ایشن نے لاجسٹکس پالیسی کے فوری نفاذ، مال برداری سبسڈی میں اضافہ اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کی جدید کاری پر بھی زور دیا ہے۔ ان اقدامات کو خطے میں صنعتی انقلاب، سرمایہ کاری میں اضافہ اور نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔