کپوارہ// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حیدر پورہ سرینگر میں تین شہریو ں کا قتل ظلم کی انتہا ہے اور ان ہلاکتوں کی ذمہ داری جموں کشمیر انتظامیہ کو قبول کرنی چاہیے۔، کیونکہ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔پی ڈی پی صدر نے سرحدی ضلع کا دورہ کرنے کے دوران میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے دوران کہا کہ ایسے واقعات سے یہاں حالات مزید بگڑ جائیں اور دوریاں بھی مزید بڑھ جائیں گی۔انہوں نے حید پورہ ہلاکتوں کے بارے میںکہا’’بہت بڑا ظلم ہوا ہے اس کی ذمہ داری لیفٹیننٹ گورنر کو لینی چاہئے کیونکہ وہ یہاں کی انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور یہاں دلی سرکار کے نمائندے بھی ہیں اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں‘‘۔۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ دلی میں مرکزی سرکار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جمو ں و کشمیر کے لوگو ں کے مال و جان کی حفاظت کریں ۔انہو ں نے کہا کہ مجھے اس بات کا بہت افسوس ہے کہ حیدر پورہ میں مارے گئے تین شہریو ں کو جنگجو ئو ں کے بالائی ورکرو ں کا نام دیا گیا اور پھر ان کی لاشو ں کو حاصل کرنے کے لئے ان کے گھر والو ں کو بھیک مانگنی پڑی ۔انہو ں نے کہا بانہال کے عامر ماگرے کی لاش کو بھی فوری طور ان کے گھر والو ں کو لوٹا دینی چاہیے کیونکہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جبکہ اس کے والد کو ملی ٹنٹ مارنے کے لئے انعام بھی دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا اگر تشدد اسی طرح جاری رہا تو آنے والے وقت کے لئے خطرناک ہوگا‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے جد وجہد جاری رکھنی چاہئے ۔اسمبلی انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ہماری ترجیح نہیں ہے جب بھی منعقد ہوں گے ہم ان میں حصہ لینے کے لئے تیار ہیں۔کشمیر میں نئی سیاسی جماعتیں معرض وجود میں آنے کے بارے میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا’’یہاں نئی سیاسی جماعتیں بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اکثریت کے ووٹ کو منقسم کیا جائے یہی وجہ ہے پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے ‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کو ایک کھلا جیل بنایا گیا ہے اور این آئی اے کے ذریعے ہراسا ں کیا جارہا ہے ، حال ہی میں میرے بھائی کو بلایا گیا، اس سے قبل میری والدہ اور مجھے بھی، اور یہ سب ہمیں خاموش رہنے کے لئے کیا جارہا ہے اور اگر ہم خاموش نہیں رہیں تو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ اب یہا ں کے صحافی بھی محفوظ نہیں ہیں اورانہیں بھی نشانہ بنایا جارہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ جمو ں و کشمیر میں جنگل راج چل رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔