الطاف بخاری کاحضرت بل میں پارٹی کنونشن سے خطاب
سرینگر// اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والوں نے سرینگر شہر کے عوام کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرینگر کے باشندے آج بھی بے روزگاری، رہائش کی کمی اور بنیادی شہری سہولیات کے فقدان سمیت متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومت نے نہ تو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کی اور نہ ہی شہر میں رہائشی مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دور کرنے کے لیے مثر اقدامات کیے۔ الطاف بخاری نے مزید کہا کہ ترقی کے اعتبار سے سرینگر کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے اور آج بھی شہر کی حالت بہتر بنانے اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کا سب سے بڑا چیلنج اپنے نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کرنا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہمارے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کردیا گیا ہے۔ انہیں گمراہ کیا گیا اور تشدد و خونریزی کی راہ پر ڈال دیا گیا۔ انہیں ترقی، خوشحالی اور بہتر مستقبل کی راہ دکھانے کے بجائے ایسے راستے پر چلایا گیا جس کا انجام بہت سے نوجوانوں کے لیے یا تو جیل کی سلاخیں بنیں یا قبرستان۔انہوں نے مزید کہا، آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی رہنمائی کریں، انہیں ترقی، خوشحالی اور باوقار مستقبل کی راہ دکھائیں، اور ان کے لیے بامعنی روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ ہمارے نوجوان ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی حفاظت، تربیت اور درست سمت میں رہنمائی کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔جموں و کشمیر کے عوام اور حکومتِ ہند کے درمیان مذاکرات کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا، میں ایک بار پھر حکومتِ ہند سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصا نوجوانوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ جموں و کشمیر کے عوام اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان موجود اعتماد کے فقدان کو دور کیا جا سکے اور عوام کے حقیقی مسائل اور شکایات کا مخلصانہ اور مثر انداز میں ازالہ ہو۔انہوں نے مزید کہا، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ خود یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ میرا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ ہند اپنے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے عوام کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔ بخاری نے حلقہ انتخاب حضرت بل کے عوام کو درپیش مسائل بھی اٹھائے۔انہوں نے کہا، میں آپ کے مسائل اور شکایات سے بخوبی واقف ہوں۔ بدقسمتی سے حکومت ان حقیقی مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، حالانکہ آپ نے بہتر طرزِ حکمرانی کی امید میں اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنے رکنِ اسمبلی کو منتخب کیا تھا، مگر افسوس کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔اپنی پارٹی کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جماعت کسی فرد یا خاندان کی نہیں بلکہ عام لوگوں کی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا، یہ جماعت عوام کی جماعت ہے، کسی فرد یا خاندان کی نہیں۔ آئیے اس تنظیم کو مضبوط بنائیں تاکہ ہم عوامی مسائل اور شکایات کو مثر انداز میں حل کر سکیں۔کنونشن کے بعد الطاف بخاری نے صحافیوں سے بھی گفتگو کی۔ دہلی کے جنتر منتر میں جاری احتجاج میں پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی کی شرکت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، انہیں اس احتجاج میں شامل ہونے اور مظاہرین سے ہمدردی ظاہر کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں، کیونکہ جموں و کشمیر میں ان کا ریکارڈ مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا رہا ہے۔ جب وہ اقتدار میں تھیں تو ہمارے احتجاج کرنے والے بچوں پر پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس موقع پر اپنی پارٹی کے صوبائی صدر محمد اشرف میر نے بھی خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس حکومت کو طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ حکمران نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر میں مثر حکمرانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے بارے میں بیدار رہیں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں، کیونکہ عوام نے ہی بہتر طرزِ حکمرانی کی امید میں اس حکومت کو اقتدار میں پہنچایا تھا۔محمد اشرف میر نے بدھ کے روز اننت ناگ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے، جس میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ لازمی پولیس تصدیقی عمل کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ اور طویل بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کو پاسپورٹ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت سے توقع تھی کہ وہ ایسے عوامی مسائل کو حل کرے گی، مگر وہ ان اہم معاملات سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔اس موقع پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماں اور کارکنوں نے باقاعدہ طور پر اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ نئے شامل ہونے والوں میں منظور احمد ڈار، فاروق احمد ریشی دنیہامہ، بلال احمد میر دنیہامہ ، غلام محمد بیگ دنیہامہ ، محمد انس چنگا، طاہر احمد، ذیشان احمد، غلام احمد ڈونو، غلام رسول میر، عبد الحمید بٹ، طارق احمد، محمد قاسم شالیمار اور دیگر اشخاص شامل ہیں۔