رینگر کو سمارٹ سِٹی بنانے کا شور عرصے سے سْنا جارہا ہے۔ ضلع ترقیاتی کمیشنر کے دفتر میں باقاعدہ سمارٹ سٹی پروجیکٹ کا دفتر ہے اور ضلع کمیشنر خود اس منصوبے کی نگرانی کررہے ہیں۔ دیگر پہلوئوں کو چھوڑ کر اگر عوامی سہولت پر ہی بات کی جائے تو سمارٹ سٹی کا مطلب یہ ہے کہ ہر پانچ سو میٹر کے فاصلے پر بیت الخلا ہونا لازمی ہے۔ ڈلگیٹ سے بٹہ مالو تک صرف تین پاخانے ہیں، جہاں پیسہ دے کر فارغ ہوا جاتا ہے۔ سرینگر دارالحکومت ہے اور اس لحاظ سے یہاں عوامی سہولات انتظامیہ کی اولین ترجیح میں شمار ہے۔ سمارٹ سٹی بنائیں نہ بنائیں، لیکن بیت الخلا تو بنائیں۔
گزشتہ دنوں میں صورہ میں قائم جموں کشمیر کے سب سے بڑے ہسپتال شیرکشمیر انسٹچوٹ آف میڈیکل سائنسز کے باہر اپنی سائیکل پر جارہا تھا تو ایک پریشان حال خاتون نے مْجھ سے ہچکچاتے ہوئے پوچھا، ’’جی معاف کریں، مجھے پاخانہ جانا ہے، میں کیا کروں‘‘۔ میں نے خاتون کو مشورہ دیا کہ کسی کے گھر پہ دستک دیجئے لیکن خاتون پریشان تھی کہ لوگ غلط نہ سمجھیں۔
پاخانے کی حاجت نہایت حساس معاملہ ہوتا ہے اور مغربی ممالک یہاں تک کہ بھارت کی سبھی ریاستوں کے دارالحکومتوں میں اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ میں حیران تھا کہ صورہ کے ہسپتال کے باہر کوئی بیت الخلا نہیں۔ صورہ بازار میں روزانہ ہزاروں لوگ ہوتے ہیں جن میں سے بیشتر کو ہسپتال میں علاج کے لئے جانا ہوتا ہے یا اْن کا مریض ہسپتال میں زیرعلاج ہوتا ہے اور وہ کوئی ضروری چیز خریدنے کے لئے بازار کی طرف جاتے ہیں۔ ایسے میں رفعِ حاجت کی کوئی سبیل نہ ہو تو بندے کو واپس ہسپتال جانا ہے جہاں کیجولٹی کے دروازے پر تعینات گارڈ اندر جانے سے منع کردے گا۔
یہی حال صدر ہسپتال کے باہر نو تعمیر شدہ سْپرسپیشلٹی ہسپتال کا ہے۔ نواب بازار سے کاکہ سرائے چوک تک ایک بھی بیت الخلا نہیں ہے۔ سڑک پہلے ہی تنگ ہے اور اس پر ظلم یہ کہ سڑک کے حاشیوں پر چھاپڑی فروشوں کا قبضہ ہے۔ تیمار دار کوئی نایاب دوا ڈھونڈنے کے لئے بازار میں ہو اور اْسے پاخانے کی حاجت محسوس ہوئی تو وہ کیا کرے گا؟
ڈلگیٹ سے ہی شروع کریں تو سرینگر کی سرحد پانتہ چوک تک کوئی بھی پاخانہ نہیں ہے۔ ڈلگیٹ سے حضرت بل کی طرف جائیے، شہرِ خاص میں خانیار سے قمرواری تک جائیے، کرن نگر سے بہوری کدل جائیے، بٹہ مالو سے نوہٹہ جائیے، کہیں پر بھی بیت الخلا نہیں ہے۔ یہ بحران خاص طور پر خواتین کے لئے شدید مشکلات پیدا کررہا ہے۔
امراض خواتین کی ماہر ڈاکڑ فرحت جبین نے اس حوالے سے چند سال قبل ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ شہر میں پاخانوں کی قلّت سے خواتین خطرناک امراض میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔ اْن کا کہنا ہے کہ شہر میں چند ایک پاخانے ہیں اور جو خواتین ضروری کام یا شاپبگ کے لئے شہر میں ہوتی ہیں وہ اکثر اوقات پاخانوں کی قلّت کے باعث واپس گھر پہنچنے تک پیشاب روک لیتی ہیں۔ ڈاکٹر فرحت کے مطابق پیشاب کو روکنے سے خواتین کا تولیدی نظام خطرناک حد تک متاثر ہوجاتا ہے یہاں تک کہ بچہ دانی اور مثانے کو سِسٹائٹس ہوجاتا ہے۔
جب 2017میں یہ انکشاف سامنے آیا تو میونسپل حکام نے بلند بانگ دعویٰ کیا کہ شہر میں 80 پاخانے تعمیر کرنے کے لئے منصوبہ بندی شروع ہوچکی ہے۔ یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ یہ پاخانے 2017 کے ہی نومبر تک مکمل ہوجائیں گے۔ تین سال ہوگئے ہیں، اب میونسپل حکام سے پوچھیئے تو وہ گزشتہ برس کے حالات اور اس سال کی کورونا وبا کا بہانہ پیش کرتے ہیں۔
حکام سمارٹ سٹی منصوبے کے لئے ماسٹر پلان کو اوپر تلا کررہے ہں، ہزاروں روپے میٹنگوں پر صرف ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے سمارٹ سٹی منصوبہ ایک اچھا اقدام ہے۔ شہر میں شہری سہولات نہ ہوں تو شہر کس بات کا؟ لیکن حکام سے پوچھا جاسکتا ہے کہ سمارٹ ومارٹ چھوڑئیے، پہلے یہ تو بتائیں کہ شہر میں پاخانوں کی قلت کی کیا کہانی ہے؟ کیا پیسہ واگزار کیا گیا لیکن خرچ نہیں ہوا؟ کیا فنڈس لیپس ہوگئے یا افسروں کی تجوری میں چلے گئے؟
اگر صورہ ہسپتال کے باہر ایک خاتون حاجت بشر کے وقت مخمصے کا شکار ہوجائے تو اندازہ کیجئے کہ بیس کلومیٹرلمبے اور پینتیس کلومیٹر چوڑے سرینگر شہر میں جگہ جگہ روزانہ لوگوں خاص طور پر خواتین کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن، اکنامک رکنسٹرکشن ایجنسی، جے کے پی سی سی اور نہ جانے کیا کیا ادارے ہیں ہمارے یہاں، کیا یہ ادارے مشترکہ طور شہر میں 200پاخانے تعمیر نہیں کرسکتے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جسے سْن کر ہی انتظامیہ کو ندامت کے پسینے میں غرق ہوجانا چاہیئے۔
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں۔ رابطہ 9469679449 ،[email protected])