رسول اللہؐ کے فرمان کا مفہوم ہے"میری امت کے بہترین لوگ میرے صحابہ ہے،پھر ان کے بعد والے لوگ،پھر ان کے بعد والے لوگ۔مطلب کہ بات حضورؐ نے تبع تابعین تک کے لئے فرمائی ہے۔ان خوش قسمت اور سعادت مند لوگوں نے دین اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔حتیٰ کہ ان سعادت مندوں نے اپنی جانیں تک اللہ کی راہ میں قربان کردیئے۔ان ہی خوش قسمتوں کے ذریعہ سے دین اسلام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا۔حضورؐ نے حجتہ الوداع کے موقعے پر اپنی سب ذمہ داری اپنے صحابہ کے سپرد کی اور ان کو حکم دیا کہ اللہ کا یہ دین دنیا کے کونے کونے تک پہنچاو۔حضورؐ کے حکم کے مطابق ان صحابیوںؓ نے دین اسلام کی خدمت کی۔حضورؐ کے ظاہری انتقال کے بعد بہت سے فتنے برپا ہوئے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں ارتداد کا فتہ برپا ہوا،حضرت عمر فاروقؓ کو شہید کردیا گیا،حضرت عثمانؓ کو بھی شہید کردیا گیا،حضرت علیؓ کے زمانے میں جنگ جمل اور جنگ صفین کے واقعات پیش آئے۔اس کے بعد خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی۔ امام حسین ؓ حضرت علیؓ کے صاحبزادے اور حضورؐ کے نواسے تھے۔یزید کی دور حکمرانی میں حضرت امام حسینؓ کو کوفے کے لوگوں نے کوفے آنے کی دعوت دی اور امام حسین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا وعدہ کیا۔جب امام حسینؓ کو کوفے کے لوگوں کی طرف سے بہت سے خطوط آئے تو پھر انہوں نے سفر کا ارادہ کیا۔جب امام حسینؓ وہاں پہنچے تو وہاں کی صورتحال کچھ اور ہی تھی۔امام حسینؓ کا اہل و عیال بھی وہاں ساتھ تھے۔آخر میں ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور ان کو شہید کردیا گیا۔ان کے لئے پانی بھی بند کردیا گیا۔بچے پانی کے لئے ترستے تھے۔یہ وہی امام حسین ہے جن کو جنت کے نوجوانوں کا سردار کہا گیا ہے۔ان کے متعلق حضورؐ کے فرمان کا مفہوم ہے’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘۔امام حسین کی شہادت محرم الحرام میں واقع ہوئی۔ہمارے درمیان ہر سال محرم الحرام آتا ہے اور کچھ لوگ امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کا ماتم بھی مناتے میں مگر ان کے شہادت کا جو پیغام تھا اس سے ہم بہت دور ہے۔
�جب کوفے والوں نے امام حسینؓ کو دعوت نامے بھیجے تو امام حسینؓ نے دعوت نامے رد نہیں کئے بلکہ ان کے اس دعوت پر مشورہ کیا۔اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل کو وہاں بھیجا اور ان کو وہاں کے حالات سے باخبر ہونے کو کہا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی علاقے کے باشندے وقت کے امیر کو یا وقت کے ذمہ دار کو دعوت دے کہ ہمارے لئے یہاں کوئی مصلح بھیجو تو وقت کے امیر کو ان کی دعوت رد نہیں کرنی چاہئیے۔
�امام حسینؓ نے پہلے ہی کوفے والوں پر شک نہیں کیا۔انہوں نے منفی سوچ(Negative mind) استعمال نہیں کی بلکہ ان کی سوچ میں مثبت پہلو تھا۔
�امام حسینؓ نے اس وقت دین کو ترجیح دی اور جو حالات اس وقت مسلمانوں میں تھی ،امام حسینؓ اس کا سدھار چاہتے تھے۔اسی لئے انہوں نے کوفہ جانے کا ارادہ فرمایا حالانکہ ان کو اپنے خیرخواہوں اور کئی مخلصوں نے پہلے ہی روکا تھا۔مگر انہوں نے اپنے جان مقابلے میں دین کو ترجیح دی۔اسی لئے ہماری زندگی میں ترجیح دین کو ہونی چاہئیے۔
�جب مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے تو کوفہ والوں نے ان کے ساتھ غداری کی۔مسلم بن عقیل نے اس وقت امام حسینؓ کے نام پیغام بھیجا کہ وہ اب ادھر کا ارادہ ختم کردیں۔جب امام حسینؓ کو یہ اطلاع ملی تو وہ اس وقت کوفہ کے نزدیک پہنچے تھے۔وہ وہاں سے بھی واپس جاسکتے تھے مگر انہوں نے اس وقت اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کی پرواہ نہیں کی بلکہ مسلم بن عقیل کی بے کسی و بے بسی کی خبر سن کر وہ بھی کوفے میں داخل ہوئے۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب آپ کسی دوسرے مسلمان بھائی کو چنگل میں دیکھو تو آپ چین سے نہیں بیٹھنا۔
�جب امام حسینؓ کوفے میں داخل ہوا اور وہاں کی حالات کا مشاہدہ کیا تو انہوں نے کوفے والوں سے کہا کہ تین باتوں میں سے ایک قبول کرو یا تو میں جہاں سے آیا ہوں وہاں واپس جانے دو یا یزید کے پاس جانے دو یا میں سرحدوں کی طرف نکل جاوں۔مگر جواب میں ابن زیاد نے کہا نہیں،بلکہ انہیں پہلے میرے ہاتھ میں ہاتھ رکھنا ہوگا۔مگر امام حسین نے کہا نہیں،بخدا یہ کبھی بھی نہیں ہوگا۔اس وقت بھی امام حسینؓ نے سر نہیں جھکایا۔اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ جب صلح کرنا ہو تو پہلے یہ دیکھنا چاہئیے کہ اس صلح سے اگر اسلام کو فائدہ بھی نہیں پہنچ سکے مگر نقصان بھی نہیں پہنچنا چاہئیے۔
�امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے لئے پانی بند کردیا گیا مگر امام حسین نے اس وقت بھی سر نہیں جھُکایا۔اگر کبھی کسی چیز کے لئے باطل کے سامنے سر جھُکانا پڑے تو ہمیں اس چیز کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شہادت امام حسینؓ کے اصل پیغام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
فون:9149897428
������