شوپیان+کپوارہ//پہاڑی ضلع شوپیان کے ہانجی پورہ کچھ ڈورہ گائوں میں6گھنٹے کی معرکہ آرائی کے دوران ایک جنگجو جاں بحق جبکہ ایک نے سرنڈر کیا۔اس دوران یہاں پتھرائو کے واقعات پیش آئے جس میں ایک فورسز اہلکار زخمی ہوا۔ مسلح جھڑپ شروع ہوتے ہی ضلع میں انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئیں۔آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہاکہ 2جنگجومحاصرے میں پھنسے تھے ،جن میں سے ایک جاں بحق ہوااوردوسرے نے اہل خانہ کی اپیل کے بعد اسلحہ سمیت سیکورٹی فورسزکے سامنے سرنڈر کیا۔پولیس نے بتایاکہ کچھ جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی جموں وکشمیرپولیس کی اسپیشل آپریشن ونگ سے وابستہ اہلکاروں نے فوج کی34آرآر اور14بٹالین سی آرپی ایف کے اشتراک سے ہانجی پورہ کچھ ڈورہ گائوں کومحاصرے میں لیکر جنگجومخالف آپریشن شروع کیا ۔پولیس کے مطابق دن کے ڈیڑھ بجے علاقے کوچاروں اطراف سے سیل کرنے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے تلاشی کارروائی شروع کی توایک جگہ چھپے جنگجوئوں نے سیکورٹی فورسز پرفائرنگ کی ۔پولیس نے بتایاکہ اس موقعہ پر جوابی کارروائی عمل میں لائی گئی اورطرفین کے درمیان گولیوں کا مختصرتبادلہ ہوا،جس میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا جس کی شناخت بعد میں مرتضیٰ احمد ڈار ولد غلام رسول ڈار ساکن سانبورہ کاکہ پورہ کے بطور ہوئی۔اسکے اہل خانہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مرتضیٰ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں ریاضی کے مضمون میں بی ایس سی سکنڈ ائر میں زیر تعلیم تھا۔مرتضیٰ عمومی طور پر ڈانگر پورہ پدگام پورہ میں اپنے نانیہال میں رہتا تھا لیکن وہ مارچ کے مہینے میں گھر آیا اور پھر جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ اسکی عمر 20سال تھی اور انکے والد سانبورہ میں ایک میڈیکل شاپ چلا رہے ہیں۔
پولیس نے کہا کہ انہیں یہاں موجود دوسرے جنگجو سہیل احمدڈار ولد محمدرمضان ساکن بمنی پورہ شوپیان ( سرگرم12مارچ 2021)کی موجودگی کے بارے میںجب علم ہوا تو اسے سرنڈر کرنے کیلئے کہا گیا لیکن اس نے انکار کیا۔پولیس نے بتایا کہ اسکے بعد سہیل کے والدین کو یہاں لایا گیا اور قریب 4گھنٹوں تک اسے ہتھیار ڈالنے پر قائل کیا گیا اور بالآخر سہ پہر ساڑھے 5بجے اس نے سرنڈر کیا۔پولیس نے مزیدبتایاکہ اہل خانہ کی جانب سے کی گئی باربار اپیلوں کے بعدایک مکان میں موجود جنگجونے خودکواسلحہ سمیت سیکورٹی فورسز کے حوالے کیا۔جائے مقام سے ایک رائفل، تین میگزین، ایک پستول اور دو گرینیڈبر آمد کئے گئے۔ساڑھے 7بجے محاصرہ ختم کیا گیا۔ جھڑپ کے دوران یہاں پتھرائو کے معمولی واقعات پیش آئے جس کے دوران فورسز اہلکار محمد اکرم کو چوٹیں آئیں۔اس موقعہ پر شلنگ کی گئی۔ادھرپولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز پولیس اور فوج نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر کرناہ سیکٹر میں حد متارکہ پر ناکہ لگایا جس کے دوران ایک مشکوک گروپ نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس اور فوج نے ان کی کوشش ناکام بنائی۔پولیس نے بتایا کہ دراندازی کرنے والا گروپ بھاگ گیا لیکن اپنے پیچھے بھاری اسلحہ ور منشیات چھوڑ گئے۔بعد میں پولیس و فورسز نے ایک AK47رائفل ،ایک پستول اور2ہتھ گولے و دیگر اسلحہ ضبط کیا جبکہ ہیروئن کے چھ پیکٹ بھی ان کی تحویل سے برآمد ہوئے جس کی قیمت بین الا قوامی منڈی میں 30کرو ڑ بتائی جاتی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ جنگجوئو ں کا مشکوک گروپ فرار ہونے میں کا میاب ہو گیا تاہم علاقہ کو گھیرے میں لیکر تلا شی کارروائی شروع کی گئی ۔پولیس نے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ۔