عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سرینگر کو چھوڑ کر پوری وادی کشمیر میں درجہ حرارت ہفتے کو مزید گر گیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اتوار سے شبانہ درجہ حرارت میں تھوڑی کمی کیساتھ شبانہ ٹھنڈ اس قدر نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ فی الحال موسمی صورتحال 22جنوری تک جوں کی توں رہنے کی امید ہے۔محکمہ نے کہا کہ گذشتہ شب شوپیان میں درجہ حرارت منفی 8.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، اور مطلع صاف ہونے کے باعث ڈل جھیل کے کچھ حصے اور دیگر آبی ذخائر جاری ‘چلا کلان کے دوران پہلی بار منجمد ہو گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی کے بہت سارے علاقوں میں بھی پہلی بار نل جم گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ سرینگر میں جمعہ کی رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ رات منفی 6.0 ڈگری سیلسیس تھا۔جنوبی کشمیر میں، شوپیان قصبہ پوری وادی میں سب سے سرد تھا، یہاں پارہ منفی 8.2 ڈگری سیلسیس پر رہا۔ پہلگام سیاحتی مقام، میں منفی 7.8 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت منفی 6.8 ڈگری سیلسیس پر طے ہوا، جہاں ایک روز قبل منفی 7.2 ڈگری سیلسیس تھا۔ سیاحتی مقام سونمرگ میںمنفی 6.3 ، قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.3 ڈگری سی اور کوکرناگ میں منفی 4.0 ڈگری سیلسیس اور کپوارہ میں منفی 6.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔دائریکٹر موسمیات ڈاکٹر مختار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آج سے شبانہ سردی میں تھوڑی بہت کمی واقع ہوگی۔انکا کہنا تھا کہ درجہ حرارت بدستور منفی رہے گا تاہم اس قدر ٹھنڈ اور پارہ اتنا نیچے نہیں جائے گا۔انکا مزید کہا تھا کہ فی الحال وادی کے میدانی علاقوں میں اس موسم میںکوئی برف باری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ 22/23جنوری تک موسم میں کوئی خاص یا بڑی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ڈاکٹر مختار نے کہا کہ 16اور 17جنوری کے درمیان کمزور مغربی ہوائوں کو مرحلہ داخل ہوسکتا ہے، جس کے بعد 18/19اور 19/20کے درمیان بھی ابر آلود موسم رہنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران وسطی اور شمالی کشمیر کے بالائی علاقوں میں موسم کی کوئی سرگرمی ہوسکتی ہے لیکن جنوبی کشمیر میں اسکے آثار بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ 23جنوری تک میدانی علاقوں میں برفباری کے امکانات بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔