عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چیف سیکرٹری اٹل ڈلو نے جمعرات کو ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں حکمرانی کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (MeitY)کے سینٹر آف ایکسیلنس برائے مصنوعی ذہانت کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT)جموں، بیساگ (BISAG) کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت حکمرانی کے نظام میں کارکردگی، شفافیت، بروقت فیصلوں اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو صرف ڈیجیٹل آلے کے طور پر نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، تیز رفتار فیصلہ سازی اور عوامی خدمت کی مثر فراہمی کے لیے ایک اسٹریٹجک ذریعہ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجی کو موجودہ ڈیجیٹل نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ متوازی نظام قائم کرنے کے بجائے سرکاری وسائل کا مثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اٹل ڈولو نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر شناخت شدہ اے آئی منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کریں، متعلقہ نوڈل افسران نامزد کریں اور معیاری ڈیٹا بروقت فراہم کریں تاکہ اے آئی حل کی تیاری، جانچ اور توثیق مثر انداز میں مکمل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ معیاری ڈیٹا، بین المحکمہ ہم آہنگی اور محکموں کی ذمہ داری مصنوعی ذہانت کے کامیاب نفاذ کے لیے بنیادی عناصر ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ مختلف شعبوں کے لیے خصوصی ورکشاپس منعقد کی جائیں، جن میں نوڈل افسران، ٹیکنالوجی شراکت دار، ماہرین اور عمل درآمد کرنے والے ادارے شریک ہوں تاکہ پائلٹ منصوبے شروع کرنے سے قبل ڈیٹا کی دستیابی، بنیادی ڈھانچے، عملی تقاضوں اور فیلڈ سطح کی ضروریات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر اے آئی منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ مقررہ اہداف اور نتائج کی بنیاد پر لیا جائے تاکہ رکاوٹوں کو بروقت دور کیا جا سکے اور تمام محکموں کے درمیان مثر رابطہ برقرار رہے۔اس سے قبل کمشنر سیکرٹری اطلاعاتی ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے اجلاس کو **MeitY سینٹر آف ایکسیلنس برائے مصنوعی ذہانت** کے تنظیمی ڈھانچے، عمل درآمد کی حکمت عملی، موجودہ پیش رفت اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے یونین ٹیریٹری سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد، مختلف اے آئی منصوبوں کی پیش رفت اور آئندہ پائلٹ منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔اس مقصد کے لیے تقریبا 10 ہزار مربع فٹ جگہ مختص کی جا چکی ہے جبکہ اے آئی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (AI-DPI) کے لیے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ نظام کی خریداری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔اجلاس میں یونین ٹیریٹری سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کے تحت اے آئی اپنانے کے پروگرام کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تعلیم، ہنرمندی، زراعت، بجلی، عوامی نظم و نسق، صحت، ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے، قبائلی بہبود اور سلامتی سمیت آٹھ ترجیحی شعبوں میں شناخت کیے گئے 20 اے آئی منصوبوںکی پیش رفت پر غور کیا گیا۔چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ حکومت نے مختلف ممتاز تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں سے مشاورت کی ہے اور متعدد اداروں نے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر پائلٹ منصوبے شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سے کئی تجاویز اس وقت تکنیکی جانچ کے مرحلے میں ہیں۔