جموں و کشمیر میں شراب بندی کا سوال محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، مذہبی اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ وقفے وقفے سے یہ بحث شدت اختیار کرتی ہے، اسمبلی کے اندر اور باہر آوازیں بلند ہوتی ہیں، اور عوامی حلقوں میں اس پر سنجیدہ مکالمہ شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مکمل شراب بندی ہی واحد حل ہے یا اس پیچیدہ مسئلے کےلئے کوئی متوازن اور قابلِ عمل راستہ بھی موجود ہے؟۔جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں مذہبی اور ثقافتی اقدار کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ مسلم اکثریتی وادی میں شراب کی کھلے عام فروخت پر اعتراضات ایک فطری ردِ عمل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ مختلف مذہبی و سماجی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ شراب نوشی خاندانی نظام کو کمزور کرتی ہے، نوجوان نسل کو بگاڑتی ہے اور جرائم و گھریلو تشدد جیسے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ ان خدشات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سرکاری موقف واضح طور پر شراب پر پابندی نافذ نہ کرنےکے حق میں ہے۔
جموں و کشمیر کی حکومت نے یوٹی کو ’’ڈرائی خطہ ‘‘ بنانے کا کوئی منصوبہ نہ ہونے کی بات اسمبلی میں واضح کی ہے اور متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔حکومت نے کہا ہے کہ مکمل پابندی بلیک مارکیٹنگ اور جعلی، غیر معیاری شراب کی پیداوار اور گردش کو فروغ دے سکتی ہے، جس سے عوام کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیںجبکہ پابندی سے نشے کی غیر قانونی صنعت، شراب مافیا، ہاؤالا، منی لانڈرنگ جیسے مسائل مزید پھیل سکتے ہیں، جو پولیس، امن و امان اور معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں شراب سے حاصل ہونے والی آمدن گزشتہ برسوں میں خاطر خواہ اضافہ دکھا رہی ہے۔ پچھلے تین مالی برسوں میں شراب کی فروخت سے مجموعی آمدنی 3450کروڑ روپے سے زیادہ ہو چکی ہے، جس میں جموں خطے کی حصہ داری بہت زیادہ رہی ہے ۔ 2022–23-یں سرکاری مجموعی آمدنی 1,38,462.49لاکھ روپے تھی جو 2024–25-میں بڑھتے ہوئے 1,11,816.07لاکھ روپے تک پہنچی۔کشمیر وادی میں بھی شراب کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جیسے سرینگر ضلع نے 2023–24-میں 5,489.67لاکھ روپے اور 2024–25- میں 6,557.66لاکھ روپے کی آمدن جمع کی ہے۔ یہ آمدنی ترقیاتی منصوبوں، تنخواہوں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں استعمال ہوتی ہے۔ مکمل پابندی کی صورت میں حکومت کو نہ صرف اس آمدنی سے محروم ہونا پڑے گا بلکہ ہزاروں افراد کے روزگار پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ملک کی دیگر ریاستوں کا تجربہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ گجرات اور بہار میں مکمل پابندی نافذ ہے، مگر وہاں غیر قانونی شراب،سمگلنگ اور جعلی و زہریلی مشروبات کے واقعات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس کیرالا جیسے صوبوں نے سخت ریگولیٹری نظام، محدود لائسنس اور بلند ٹیکس کے ذریعے شراب کی دستیابی کو کنٹرول کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔
اس سے آمدنی بھی برقرار رہے اور نگرانی کا نظام بھی مضبوط ہوا۔جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور سیاسی حساسیت کو دیکھتے ہوئے مکمل پابندی کا نفاذ آسان نہیں ہوگا۔ سرحدی علاقوں میں سمگلنگ کا خطرہ پہلے ہی موجود ہے۔ اگر ریاستی سطح پر سخت پابندی عائد کی جاتی ہے تو غیر قانونی تجارت کو فروغ ملنے کا اندیشہ بڑھ سکتا ہے، جو امن و امان اور صحت عامہ دونوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت پر انحصار کرنے والی معیشت میں بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مسئلہ صرف فروخت یا دستیابی کا نہیں بلکہ سماجی رویوں کا ہے۔ اگر نوجوانوں میں نشہ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے تو اس کا حل صرف قانونی پابندی نہیں بلکہ تعلیمی و سماجی اصلاحات میں بھی پوشیدہ ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں نشہ مخالف آگاہی مہمات، بحالی مراکز کا قیام، اور خاندانوں کی سطح پر شعور بیداری ایسے اقدامات ہیں جو دیرپا نتائج دے سکتے ہیں۔ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت مکمل پابندی کے بجائے مرحلہ وار اور محدود پابندیوں کا نظام اپنائے۔ مذہبی و تعلیمی مقامات کے اطراف فروخت پر مکمل روک، لائسنس کی تعداد میں کمی، اوقاتِ کار کی سختی، اور محصولات کا ایک مخصوص حصہ نشہ بحالی اور صحت پروگراموں کے لئے مختص کرنا ایک متوازن حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ شفاف نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابدہی بھی یقینی بنانی ہوگی۔اس بحث کو محض سیاسی نعرہ بازی تک محدود کرنا دانشمندی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، اپوزیشن، مذہبی رہنما، ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ جذبات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر پالیسی سازی حقیقت پسندی کی متقاضی ہوتی ہے۔جموں و کشمیر اس وقت ترقی، امن اور سماجی استحکام کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ہر فیصلہ دور رس اثرات کا حامل ہوگا۔ شراب بندی کے سوال پر بھی ہمیں نہ تو جذباتی انتہاپسندی کی طرف جانا چاہئے اور نہ ہی سماجی خدشات کو نظر انداز کرنا چاہئے۔ متوازن، تدریجی اور ذمہ دارانہ پالیسی ہی وہ راستہ ہے جو معاشرتی اقدار، معاشی ضروریات اور صحت عامہ کے تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکتی ہے۔جموں و کشمیر کو ایک ایسا ماڈل درکار ہے جونوجوان نسل کو محفوظ رکھے،معاشی استحکام برقرار رکھے،سماجی اقدار کا احترام کرےاور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالے۔اسی توازن میں خطے کا حقیقی مفاد پوشیدہ ہے۔