راجوری //تھنہ منڈی بھٹیاں سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور شاہین نواز کے اہل خانہ کاکہناہے کہ اس کا قتل کیاگیاہے اور پولیس نے اس کے پاس سے ملی رقم بھی بہت کم بتائی ہے ۔اہل خانہ کے مطابق وہ پندرہ روز قبل گھر سے کشمیر گیا ،وہاں سے واپس آنے کے بعد اکثر سبزی ودیگر کام کاج کے لئے اپنی گاڑی استعمال کرتا تھا ۔اس دوران وہ دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ نوشہر ہ گیا جہاں سے اسے گھریلو مویشی لیکر ڈھوک پہنچاناتھالیکن وہ مویشی لیکر گھر نہیں پہنچا بلکہ راستے میں ہی اسے قتل کردیا گیا ۔شاہین نوازکے دوبھائی،بزرگ والدین اور اس کی دو بچیاں ہیں جن میںسے ایک کی عمر چار سال جبکہ دوسری کی عمر دو سال ہے ۔ مرحوم کے بڑے بھائی جو پولیس کانسٹبل ہیں ،نے بتایاکہ پولیس نے انہیں گاڑی ضبط کرنے کے چار روز بعدتب شاہین نواز کے بارے میں بتایاجب اس کی لاش نوشہرہ میں دریا کنارے سے ملی ۔انہوںنے بتایاکہ انہیں کہاگیاکہ پولیس تھانہ نوشہرہ پہنچیں جہاں ایک لاش کی شناخت کرنی ہے ۔بڑے بھائی کے مطابق اس سے قبل پولیس نے ان کے دوساتھیوں کو حراست میں لیا تھا جنہیں گذشتہ روز تک رہا نہیں کیا گیا ، جب وہ پولیس اسٹیشن پہنچا تو دیکھا لاش ہے لیکن گلی سڑی ہے جس کوپہنچاننا بڑا مشکل ہوالیکن چہرے پر ایک نشان تھا جس کی بنیاد پر اس نے بھائی کی میت کی شناخت کی ۔انہوں نے کہاکہ لاش کو دیکھ کر یہ صاف ہوجاتاہے کہ اسے قتل کیاگیاہے ۔ والدین کے مطابق شاہین نواز کے پاس تقریباً 3لاکھ روپے بھی تھے لیکن پولیس نے صرف 3ہزار روپے ہی بتائے ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ ان کا بیٹا کافی محنتی تھا اور اس نے ٹاٹا موبائل گاڑی خریدی جس سے ہی گھر کے اخراجات برداشت کرتاتھا۔انہوںنے کہاکہ ان کے بیٹے کا قتل کیاگیاہے اور پولیس قاتلوں کی نشاندہی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائے ۔