تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے پیارے رسول ﷺنے ہم گنہگاروں کے لئے کتنی مشقتیں برداشت کی ہیں۔جب آپ ؐنے فاران کی چوٹی سے کلمۂ حق کا اعلان فرمایا تو وہی عرب جو آج تک آپ کو امین و صادق کے نام سے یاد کرتے تھے اور کچھ لمحہ پہلے ہی انہوں نے آپ کی ہر بات کی تصدیق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ،آپﷺ کو گالیاں دینے لگے اور اس دن کے بعد جیسے انہوں نے آپ کو تکلیف پہنچانا اپنا شیوہ سمجھ لیا تھا۔ آپ ﷺکے راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے، آپؐ حالتِ سجدہ میں ہوتے تو آپ کی پشت مبارک پر اوجھڑیاں رکھ دی جاتیں۔ طائف میں جب آپؐ نے دعوتِ حق پیش کی تو آپؐ پر سنگ باری کی گئی جس سے آپ کے قدمہائے مبارک لہو لہان ہو گئے۔
سرکار دوعالم ﷺ نے تمام مصیبتوں کو برداشت کرتے ہوئے اقوامِ عالم کو راہِ حق کی دعوت پیش کی، انہیں ایک معبودِ برحق کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انہیں دینِ حنیف، دینِ ابراہیمؑ، دینِ اسلام کی پیروی کرنے کی تاکید کرتے رہے۔ آج ہمیں جو ایمان کی دولت میسر آئی، خدا کی معرفت حاصل ہوئی، معبودِ برحق کی عبادت کا سلیقہ ملا، راہِ حق کا پتہ ملا، زندگی گزارنے کے قواعد و ضوابط ملے، قرآن ملا، قرآن کے احکام کو سمجھنے کا سلیقہ ملا، اللہ کے اوامر و نواہی کا پتہ چلا، حلال و حرام کی تمیز سمجھ میں آئی، ہمیں آج جو زندگی ملی، لذتِ بندگی ملی حتیّٰ کہ ہماری ہر ہر سانس پر سرکارِ دوعالم ﷺ کا احسان ہے کیوں کہ آپؐ ہی کے صدقہ و طفیل دنیا و ما فیہا کی تخلیق ہوئی ہے۔
جہاں ایک طرف بعثتِ رسولﷺ پوری اُمت کے لیے رحمت و برکت کا باعث ہے وہی دوسری جانب ہمارے بھی آپﷺ کے تئیں کچھ حقوق ہیں جن کا مختصر تذکرہ یہاں لازمی ہے۔
ایمان بالرسولؐ: حضور رحمت عالم ﷺ کی نبوت و رسالت اور جو کچھ آپؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ان تمام پر ایمان لانا اور دل سے انہیں سچا ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے۔رسولؐ پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں ’جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا تو یقینا ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (سورہ فتح)
اس آیت میں اس بات کی مکمل طور پر وضاحت ہے کہ جو لوگ رسولؐ کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگر چہ پوری زندگی خدا کی توحید کا اقرار کرتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے اس لئے کہ بغیر ایمان بالرسالت ایمان بالتوحید معتبر ہی نہیں۔
اطاعتِ رسول ﷺ : نبی اکرم ﷺ کا حکم ماننا آپ کی اطاعت ہے۔ اطاعتِ رسول ﷺ بھی ہر امتی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ جس بات کا حکم فرما دیں اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کریں کیوں کہ آپؐ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرض عین ہے۔ اطاعتِ رسول کا حکم فرماتے ہوئے قرآن مقدس میں اللہ عزوجل نے فرمایا:’ اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا‘۔ (سورہ نساء:۸۵)۔ایک اور جگہ پر ارشاد ہوا’ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔ (سورہ نساء‘:۹۶)
قرآن مقدس کی مذکورہ بالا آیتوں میں اس بات کی مکمل طور پر وضاحت ہے کہ اطاعتِ رسولﷺ کے بغیر ایمان کا تصور کیا ہی نہیں کیا جا سکتا اور اطاعتِ رسولﷺ کرنے والوں ہی کے لئے ایسے ایسے بلند درجات ہیں کہ وہ حضرات انبیا و صدیقین اور شہدا و صالحین کے ساتھ رہیں گے۔ اس بات کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جیسا کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل میرے لائے ہوئے فرامین کا فرمانبردار نہ ہو جائے‘‘۔ (بخاری شریف)
صحابۂ کرام کس طرح اطاعتِ رسول کیا کرتے تھے اس کا اندازہ حضرتِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے بخوبی ہوسکتا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے ہے۔ آپ نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر پھینکا دی اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ آگ کے انگارہ کو اپنے ہاتھ میں ڈالے؟ حضور ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ تو اپنی انگوٹھی کو اٹھا لے (اور اس کو بیچ کر) اس سے نفع اٹھا تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم جب رسول اللہﷺ نے اس انگوٹھی کو پھینک دیا تو اب میں اس انگوٹھی کو کبھی بھی نہیں اٹھا سکتا۔ (مشکوٰۃ شریف)
محبت رسول ﷺ: امتی کا یہ بھی فریضہ ہے کہ نبی اکرم نورِ مجسمﷺ کی محبت اس کے دل میں سارے جہاں سے بڑھ کو ہو اور دنیا کی محبوب چیزیں اپنے نبیؐ کی محبت پر قربان کر دے۔ محبت رسول کے حوالے سے قرآنِ مقدس فرما رہا ہے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ (سورہ توبہ:۴۲) آیت اور حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کی ساری چیزوں سے بڑھ کر اپنے دل میں خدا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو جگہ دے کیوں کہ وہی اصل ایمان ہے۔ ؎ ہم اگر صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان کے دل میں کس قدر جذبۂ محبت تھا اس کا ہمیں بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غارِ ثور میں اپنی جان کی پروا کئے بغیر سانپ کے سوراخ پر اپنی ایڑی رکھ دی اور جب سانپ نے کاٹنا شروع کیا تو اس خیال سے کہ اگر پیر ہٹائوں تو نبی کریم ﷺ کی نیند میں خلل واقع ہو جائے گا آپ نے اپنا پیر نہ ہٹایا، آپ نے نبی کریم ﷺ کی ایک آواز پر اپنے گھر کا پورا سامان لا کر آپ کے قدموں میں ڈال دیا اور خود ٹاٹ لپیٹ کر ببول کے کانٹوں کا بٹن بنا لیا۔
اُمت ِ مسلمہ کے اپنے پیارے نبی ﷺ پر کیا حقوق ہیں،اس بات کا مختصر تذکرہ کرنے کے بعد یہاں اس بات کا تذکرہ بھی لازمی ہے کہ موجودہ دور میں رسول ِاکرم ﷺ کے خلاف جو سازشیں رچائی جارہی ہیں،اُن پر بھی خامہ فرسائی کی جائے۔حال ہی میں فرانس کے اندر ایک گستاخانہ خاکہ شائع کیا گیا ور اس پر طرہ یہ ہے مذمت کے بجائے وہاں کے صدر نے اس کی حمایت کی جس کی وجہ سے پوری دُنیا کے مسلمانوں کے جزبات مجروح ہوگئے۔نبیؐ کے دیوانے ہونے کے ناطے ہمارا یہ حق ہے کہ ہم فرانسیسی اشیاء کا مکمل بائکاٹ کریں تاکہ کچھ نا سہی،کم از کم معاشی طور پر ہی گستاخانِ رسولﷺ کی کمر توڑ دی جائے تاکہ آئندہ وہ ایسی مذموم حرکات کا تصور تک نا کر پائے۔یہاں یہ بات کہنا بھی لازمی ہے کہ غیر یو غیر ،کچھ اپنے بھی فرانس کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کو دقیانوسی سے تعبیر کررہے ہیں۔اُن حضرات کے لیے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ بائیکاٹ کی اس کال سے فرانس کا سو بلین کا کاروبار داؤ پر ہے۔اس کے بعد بھی اگر وہ اسے دقیانوسی سے تعبیر کرتے ہیں تو اُن کی عقلوں کے لیے فقط اتنا ہی کہا جاسکتا ہیں کہ،’’انا اللہ ِ و انا الیہ راجعون‘‘۔؎
بتلا دو گستاخِ نبیﷺ کو غیرتِ مسلماں زندہ ہے
دین پہ مر مٹنے کا جزبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
(رابطہ ۔پلوامہ کشمیر)