بلال فرقانی
سرینگر//سردیوں کے موسم میں جب کشمیر کے بیشتر علاقوں میں پانی کے قدرتی ذرائع سکڑ جاتے ہیں اور سپلائی لائنیں جم جاتی ہیں، محکمہ جل شکتی کے ڈویژن وار اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق متعدد منصوبے سرد خانے کی نذر ہوگئے ہیں؎، جن میں کئی برف پوش اور دور دراز علاقے شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قاضی گنڈ ڈویژن میں مجموعی طور پر 123 میں سے 43 منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ جبکہ کولگام ڈویژن میں 116 میں سے 21 منصوبے زیر تکمیل ہیں اورشوپیاں ڈویژن میں 62 میں سے 41 منصوبے نامکمل ہیں۔جنوبی کشمیر میں اونتی پورہ ڈویژن کے 90 میں سے 16 منصوبے باقی ہیں، جبکہ پلوامہ ڈویژن میں 93 میں سے 30 منصوبے مکمل ہونا باقی ہیں۔ بجبہاڈہ ڈویژن، جہاں منصوبوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، میں 273 میں سے 89 منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔وسطی کشمیر میں چاڈورہ ڈویژن کے 59 میں سے 30 منصوبے نامکمل ہیں، جبکہ بڈگام ڈویژن میں 104 میں سے 25 منصوبے زیر تکمیل ہیں۔گاندربل ڈویژن میں نو میں سے پانچ منصوبے ابھی مکمل نہیں ہو سکے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ڈویژن کے 66 میں سے 18 منصوبے نامکمل ہیں، جبکہ سپیشل سب ڈویژن گریز میں 25 میں سے 7 منصوبے ابھی باقی ہیں۔ سوپورڈویژن میں 66 میں سے 20 منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔اعداد و شمار کے مطابق ٹنگمرگ ڈویژن میں 23 میں سے 17 منصوبے زیر تکمیل ہیں، جبکہ بارہمولہ ڈویژن میں 109 میں سے 35 منصوبے نامکمل ہیں۔مزید شمال میں ہائیڈرالک ڈویژن اْوڑی کے 61 میں سے 46 منصوبے مکمل ہونا باقی ہیں۔ کپواڑہ ڈویژن میں 45 میں سے 27 منصوبے زیر تکمیل ہیں، جبکہ ہندواڑہ ڈویژن میں 55 میں سے 45 منصوبے اب بھی نامکمل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق واٹر ورکس ماسٹر پلان ڈویژن سرینگر واحدڈویژن ہے جہاںتمام منظور شدہ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور کوئی منصوبہ زیر التوا نہیں ہے۔